قومی زبان

ایک نظم

کس تصور کے رقص میں گو تری صدا کا وجود مجھ کو ملا نہیں ہے کسی کتاب کہن میں چلتی عظیم دانش کے نقش پا میں ترے بدن کا نشان مجھ کو ملا نہیں ہے میں چار سمتوں سے پوچھتا ہوں عناصروں کے تغیروں سے میں سلطنت کے نجومیوں سے یہ پوچھتا ہوں کہ کون ہے تو جو میرے خوابوں کے سلسلے میں مرے تفکر کے ...

مزید پڑھیے

طبیعت میں یہ سرشاری کہاں سے آ گئی ہے

طبیعت میں یہ سرشاری کہاں سے آ گئی ہے ابھی اچھے تھے بیماری کہاں سے آ گئی ہے کبھی دوگانہ پڑھتے تھے نماز عشق ہم تم اب اس رشتے میں بے گاری کہاں سے آ گئی ہے ذلیل و خوار ناہنجار پیارے کم نصیبو تمہارے سر میں سرداری کہاں سے آ گئی ہے یہ محفل خوب صورت خوب سیرت دوستوں کی یہاں اک شکل سرکاری ...

مزید پڑھیے

غم کی اک کیفیت نشاط میں ہو

غم کی اک کیفیت نشاط میں ہو جو یہی کیفیت حیات میں ہو درد سے ہاتھ پاؤں شل ہو جائیں درد یک گونہ ساری ذات میں ہو پھول پھل سب کے سب فنا ہو جائیں صرف موسیقی ڈال پات میں ہو ہر ستم مجھ پہ میں روا رکھوں میری ہمدردی میری ذات میں ہو ہم بھی ڈالیں کسی پہ ایک نظر کوئی بیٹھا ہماری گھات میں ...

مزید پڑھیے

ہجر سے بات کی وصال کے بعد

ہجر سے بات کی وصال کے بعد اب کے آنا تو ماہ و سال کے بعد جیسے آیا تھا ماضی حال کے بعد کیا جنوب آئے گا شمال کے بعد بات سے بات چلتی رہتی ہے ختم ہو جاتی ہے مثال کے بعد اک خموشی حصار کی مانند پہلے اور آخری سوال کے باد ایک سیل ملال ہر جانب اک ملال اور اک ملال کے بعد اک خموشی رواں دواں ...

مزید پڑھیے

میں اپنے سارے کرب و بلا لے کے جاؤں گا

میں اپنے سارے کرب و بلا لے کے جاؤں گا میں جب بھی جاؤں اپنی انا لے کے جاؤں گا آنکھوں کی آبرو کا بھی رکھوں گا میں خیال آنکھوں میں گر خلا ہے خلا لے کے جاؤں گا فرعون وقت سے جو کروں گا مقابلہ میں بھی دعا کروں گا عصا لے کے جاؤں گا سارے سپاہ و تیر و تفنگ و تبر لیے اک کربلائے شوق سوا لے کے ...

مزید پڑھیے

جو بچ گیا تھا اب تک پندار بیچتے تھے

جو بچ گیا تھا اب تک پندار بیچتے تھے در کو بچا لیا تھا دیوار بیچتے تھے اک بار ہی نہیں وہ ہر بار بیچتے تھے بیمار تھا میں ان کا آزار بیچتے تھے بازار میرے اندر بازار میرے باہر بازار میں کھڑے تھے بازار بیچتے تھے سب سے بڑی دکاں تھی بازار میں ہماری اپنی دکاں میں ہم تو رفتار بیچتے ...

مزید پڑھیے

ہماری بات میں سن ذم کا رمز ہے گا کیا

ہماری بات میں سن ذم کا رمز ہے گا کیا کسی بھی پیچ کسی خم کا رمز ہے گا کیا وہ دور اور تھا جب تم نے مجھ سے پوچھا تھا محبتوں میں کہیں غم کا رمز ہے گا کیا یہ آب سادہ یہ آب رواں یہ آب ازل اس آب ناب میں زمزم کا رمز ہے گا کیا فلک پہ مہر بھی انجم بھی ابر باراں بھی مگر زمیں پہ جھما جھم کا رمز ...

مزید پڑھیے

جنگ سے آگے اب جدال پہ ہیں

جنگ سے آگے اب جدال پہ ہیں گو کہ شمشیر احتمال پہ ہیں دیدنی تھے جو دیدنی نہ رہے زخم خوردہ ہیں اندمال پہ ہیں موت یہ زندگی سے کہتی ہے اب گلے مل لو ہم اچھال پہ ہیں کیا یہ آواز اس غنیم کی ہے جس کے مابین جس کی ڈھال پہ ہیں کچھ ہیں طوفان باد و باراں پر اور کچھ باد برشگال پہ ہیں ہم سراپا ...

مزید پڑھیے

چاک پر کوزہ گر ہے محو سخن

چاک پر کوزہ گر ہے محو سخن گل کھلے جا رہے ہیں دشت و دمن ہم دریدہ بدن دریدہ بدن اک نئے زاویے پہ نقش کہن شعر و شاعر ہوئے ہیں شیر و شکر کیا بہم ہو گئے زمین و زمن ایک ہیجان نسبتوں میں کہیں ایک ریگ رواں ہے دشت سخن مجھ سے کیا پوچھتی ہے سیرابی کیسے رہتے ہیں لوگ تشنہ دہن تلخ تیزابی ترش ...

مزید پڑھیے

آرزو اور ہوس کا حصہ ہوں

آرزو اور ہوس کا حصہ ہوں جسم کی لذتوں کا قصہ ہوں ایک کنج فرار میں محفوظ پس دیوار ہوں میں سایہ ہوں شب گزیدہ ادھر سے گزریں گے کاروان سحر کا جادہ ہوں حیرتی میں کہ میرا آئینہ جسم ہوں یا کہ رقص بادہ یوں میری تنہائی مجھ سے کہتی ہے نقش کہنہ پہ نقش تازہ ہوں کیف و کم کے شمار کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5164 سے 6203