قومی زبان

زیست کی یوں تو شام تک پہنچے

زیست کی یوں تو شام تک پہنچے عشق میں پر سلام تک پہنچے گفتگو جب ہوئی نگاہوں میں وصل کے ہم پیام تک پہنچے روز اس کی گلی میں ٹھہریں ہم کیا پتہ کب وہ بام تک پہنچے آخرش وہ ہوئے پشیماں ہی لوگ جو انتقام تک پہنچے کیوں نہ مل بیٹھ کر صلح کر لیں مسئلہ کیوں نظام تک پہنچے راز دل دوست سے بھی ...

مزید پڑھیے

زیست کیسے حسین ہو جائے

زیست کیسے حسین ہو جائے آدمی جب مشین ہو جائے مطمئن ہیں خلوص سے ہم تو آپ کو بس یقین ہو جائے خواہش نفس ہے یہی ہر دم ساتھ اک نازنین ہو جائے لوگ ہیں بے شمار جب دل میں کیسے مالک مکین ہو جائے عشق ناداں کا جب ہوا کامل پھر کوئی کیوں ذہین ہو جائے بھر گیا زندگی سے دل اب تو موت شاید معین ...

مزید پڑھیے

کوئی گر اشک بھی پونچھے تو غم ہلکا نہیں ہوتا

کوئی گر اشک بھی پونچھے تو غم ہلکا نہیں ہوتا گھڑی آگے بڑھا دینے سے دن چھوٹا نہیں ہوتا پلاتی ہیں کسے اب دودھ مائیں با وضو ہو کر تبھی تو ہم میں اب ٹیپو کوئی پیدا نہیں ہوتا گناہوں کی بھیانک برف باری ہم کو کھا جاتی خدا کے رحم کا سورج اگر چمکا نہیں ہوتا کہیں بھی جا کے بس جائیں وطن کی ...

مزید پڑھیے

جیون کے کئی راز بتاتا ہے جزیرہ

جیون کے کئی راز بتاتا ہے جزیرہ شاعر کو نئی راہ سجھاتا ہے جزیرہ کیا دور ہے خود موج لگاتی ہے یہ تہمت دنیا میں بہت شور مچاتا ہے جزیرہ اللہ کی تخلیق کا انداز تو دیکھو وہ آب کی کھیتی میں اگاتا ہے جزیرہ جیون کا سفر دکھ کے سمندر میں ہے اکثر میلوں میں کبھی خوشیوں کا آتا ہے جزیرہ ہو ...

مزید پڑھیے

رکھتا ہے اپنے ساتھ گناہوں کا بار دل

رکھتا ہے اپنے ساتھ گناہوں کا بار دل اجلے سے میرے سینے میں ہے داغدار دل تقویٰ سے گر بھرا ہو تو پھر نیکیوں کی سمت اس طرح دوڑتا ہے کہ ہو شہسوار دل ہیں آج سب کے سینوں میں پتھر رکھے ہوئے برسائے آسمان سے پروردگار دل کب تک تو اس کی یاد کو رکھے گا اوڑھ کر پھٹنے لگی ہے اب تو قبا یہ اتار ...

مزید پڑھیے

جب یاد تری آتی ہے تھمتے نہیں آنسو

جب یاد تری آتی ہے تھمتے نہیں آنسو پھر رات بھی ہو جائے تو سوتے نہیں آنسو جب خوف خدا سے یہ نکل جائیں تو موتی جز آب کے کچھ اور تو ہوتے نہیں آنسو رخسار کے رستہ پہ ہی چلتے ہیں یہ سیدھے انساں کی طرح رہ سے بھٹکتے نہیں آنسو تعظیم میں پلکوں سے اتر جاتے ہیں نیچے غم آئیں تو بیٹھے ہوئے رہتے ...

مزید پڑھیے

محبت کر چکی ہے کام اپنا

محبت کر چکی ہے کام اپنا مجھے معلوم ہے انجام اپنا نہیں اس مے کدہ میں کام اپنا جہاں مے ہو پرائی جام اپنا محبت تو محبت ہی رہے گی ضرورت کچھ بھی رکھ لے نام اپنا مقدر بھی بدلنا جانتے ہیں گزارش ہی نہیں ہے کام اپنا جو خود اپنی نظر سے گر چکے ہیں انہیں بھی گردش ایام اپنا تم اور یہ زحمت ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

رفتہ رفتہ سب آوازیں جو دل کے اندر ہیں اور باہر اک ایسے سکتے میں کھو جائیں گی جس کا مفہوم ابھی تک کسی اشاعت گھر کے حرفوں میں ڈھلا نہیں ہے آثار قدیمہ کے ماہر مدفون پرانے شہر کے اندر باہر سے کھود چکے ہیں لیکن اس کا مفہوم ابھی تک کسی عمارت کی شاہ گردش کی محرابوں میں اور کسی چار آئینے ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

میں سرد مہر زندگی سے کیا طلب کروں طلب تو ایک بحر ہے زندگی تو سانس کی لپکتی ایک لہر ہے جو آ کے پھر گزر گئی چند سال اس کے نقش پا یہیں کہیں کسی کے ذہن میں رہے میں دیکھتا ہوں شاخ عمر زرد موسموں کی دھوپ میں اسی خیال خام میں کہ وقت گھڑی کی قید میں ہے برگ برگ جھک گئی ہے زندگی نے کیا دیا ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

مرا مقدر عجیب ہے میں طویل راتوں کا وہ دیا ہوں جو اک لگن سے ضمیر مجرم کے خواب میں کپکپا رہا ہوں اسے ملے گی نجات مجھ کو پتا نہیں ہے میں تیرگی کا تضاد ہوں اور ضمیر مجرم کا خواب ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 5163 سے 6203