بے کیف روز و شب بھی تمہارا خیال بھی
بے کیف روز و شب بھی تمہارا خیال بھی پہلو میں تم بھی اور دل پائمال بھی ہم ٹوٹتے ہی جاتے ہیں ہر روز روز و شب گو میرے سامنے ہے تمہاری مثال بھی جینے کے طرز و طور پہ ماضی کی ہے گرفت اب ذہن پائمال سے ماضی نکال بھی بالائی منزلوں سے مناظر ہیں خوب تر بنیاد پہ ہے ضرب عمارت سنبھال بھی سکے ...