ہو کبھی گر تجھ کو دریا کی روانی دیکھنا
ہو کبھی گر تجھ کو دریا کی روانی دیکھنا تو تو ہم جیسے دیوانوں کی کہانی دیکھنا چڑھتے دیکھی ایک چیونٹی میں نے اس دیوار پر اس سے سیکھا خواب میں نے آسمانی دیکھنا دیکھنے بھر سے تمہیں ہے ملتا اس دل کو سکون چاہتا ہوں تم کو ساری زندگانی دیکھنا شعر کے پہلے ہی مصرع میں لکھا ہے اس کا ...