قومی زبان

پارلے تٹ

رات کی پروا سوکھے پتے نیلے پیلے رتے اک محتاط سی چاپ کوئی طلسمی جاپ چاروں اور میں لہریں لیتی ایک پرانی خوشبو رات ہوئی آنچل کی سیاہی تن من نور کا پھول حوض کی مرمر والی کگر تاروں بھری کہانی شیشہ شیشہ پانی پانی میں دو عکس لرزاں لرزاں رقص دھیمے گیت فرشتوں والے پاک سرشتوں والے پارلے ...

مزید پڑھیے

درد عروج پر آ جائے تو

آ ری میل کچیلی بھوکی ننگی دنیا میں نے اک دن تیری قیمت اک کم بیش روپے رکھی تھی اپنے کہے پر آج بہت شرمندہ ہوں آ میں تیرے سنگ اک آخری رقص کروں آگ اور دھوئیں کی آمیزش سے سدرہ بوس درخت بنائیں اور پھر اس کے سائے تلے ہم گرجیلے گیتوں کی لے پر چھاتی سے چھاتی ٹکرائیں قدم سے قدم ملائیں کیا ...

مزید پڑھیے

تو بھی ایسا سوچتی ہوگی

وقت نے ہم کو کس رستے پر لا ڈالا ہے دونوں اک ان چاہی ہمراہی کی سولی لے کر بوجھل بوجھل پاؤں دھرتے جائیں چلتے جائیں تو بھی آخر انساں ہے تیرے پاس بھی ارمانوں کا ریشم ہوگا کبھی کبھی تو تو بھی درد کی سوئی لے کر کوئی لمحہ کاڑھتی ہوگی چلتے چلتے کبھی کبھی کوئی بھیگا پل گئے دنوں کے بحر میں ...

مزید پڑھیے

کشکول

فلک نے آگ برسائی زمیں نے کاٹھ کے اوتار اگلے غموں کی بارشیں برسیں چراغوں نے لہو اگلا چمن کی کیاریاں سوکھیں گلوں کے جسم کمہلائے کئی کوٹھے سجے کتنے گھروں میں وحشتیں جاگیں ذرا سی جھنجھلاہٹ سب کے چہرے پر ابھر آئی مگر پھر جانے کیا گزری کہ سب نے ہاتھ میں کشکول تھامے اور ان لوگوں سے ...

مزید پڑھیے

زمین کا بوجھ

ازل سے ارتقا کی رہ گزر میں ہزاروں قافلے ہیں جادہ پیما ابد کی منزلوں میں چلتے چلتے بہت سے لوگ کھو کر رہ گئے ہیں غبار راہ ہو کر رہ گئے ہیں جنہیں سرمایۂ عرفاں ملا تھا جنہیں عقل جنوں ساماں ملی تھی وہ اپنی منزلوں کی سختیوں کو سفر کی ناسزا بد بختیوں کو ادائے تمکنت سے پی گئے ہیں اور ان ...

مزید پڑھیے

محبت ہو تو برق جسم و جاں ہو

محبت ہو تو برق جسم و جاں ہو وہ آتش کیا کہ سینے میں نہاں ہو نہیں ہوا اور پھر کہنے کو یہاں ہو حریف بد گماں کے ہم گماں ہو تحیر فرط شوق دید سے ہوں وہیں مجھ کو بھی دیکھو تم جہاں ہو سنی جاتی ہو جب محشر میں روداد تو اپنی ختم کیوں کر داستاں ہو وہ مستغنی سہی پر دل گیا ہے جو پھر ہو تو انہیں ...

مزید پڑھیے

یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا

یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا بسمل ناز رہا کشتۂ رفتار رہا زندگی بھر مجھے مرنے سے سروکار رہا جرم نا کردہ عقوبت کا سزا وار رہا شیخ سرشار سیہ مستیٔ پندار رہا پردۂ چشم جو پاس ادب یار رہا میں رہا سامنے تو بھی پس دیوار رہا دل یہ شادئ جراحت سے ہوا ...

مزید پڑھیے

ہے بھی اور پھر نظر نہیں آتی

ہے بھی اور پھر نظر نہیں آتی دھیان میں وہ کمر نہیں آتی مختصر حال درد دل یہ ہے موت اے چارہ گر نہیں آتی نیند کا کام گرچہ آنا ہے میری آنکھوں میں پر نہیں آتی بے طرح پڑتی ہے نظر ان کی خیر دل کی نظر نہیں آتی جان دینی تو ہم کو آتی ہے دل کو تسکین اگر نہیں آتی ان کا آنا تو ایک آنا ہے موت ...

مزید پڑھیے

اشک بیتاب و نگہ بے باک و چشم تر خراب

اشک بیتاب و نگہ بے باک و چشم تر خراب چشم بینا سے اگر دیکھو تو گھر کا گھر خراب گریہ بے تاثیر و فریاد دل مضطرب خراب کار عشق و عاشقی ناقص تمام اکثر خراب اک ہمارا نام جو پہنچے نہ تیری بزم تک اک ہماری خاک ہے جو پھرتی ہے در در خراب ہے ادب سے نطق بند اب کیا بیاں ہو مدعا پہلے ہی یہاں ہو ...

مزید پڑھیے

آنکھیں دکھائیں غیر کو میری خطا کے ساتھ

آنکھیں دکھائیں غیر کو میری خطا کے ساتھ مطلب ادا وہ کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ شوخی نگہ کے ساتھ تغافل جفا کے ساتھ عشاق پر ہجوم بلا ہے بلا کے ساتھ آخر ہوا نہ ضبط شب وصل مدعی نالہ نکل گیا مری لب سے دعا کے ساتھ تیرے ستم سے مجھ کو ملا منصب کلیم اک وجہ گفتگو نکل آئی خدا کے ساتھ تیرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5122 سے 6203