قومی زبان

مگر میری آنکھوں میں

مینہ برستا ہے آنگن میں بوندوں کی رم جھم میں چڑیاں چہکتی ہوئی چار سو گھومتی ہیں چھتوں پر گھنے کالے بادل بنے دیوتا جھومتے ہیں ستونوں سے لپٹی ہوئی سرخ پھولوں کی بیلیں برستے ہوئے مینہ کی بوچھار میں اپنا جوبن نکھارے مچلتی ہیں آنگن میں کھلتے ہوئے خالی کمرے اندھیرے کی بکل میں سمٹے ...

مزید پڑھیے

یہ ہاتھ اپنا مرے ہاتھ میں تھما دیجے

یہ ہاتھ اپنا مرے ہاتھ میں تھما دیجے تھکا ہوا ہوں ذرا دل کو حوصلہ دیجے بس اب ملے ہیں تو کیجے نہ آس پاس کا خوف جو سنگ راہ ملے پاؤں سے ہٹا دیجے یہ اور دور ہے اور سب یہاں مجھی سے ہیں وہ کوہ کن کی حکایات سب بھلا دیجے نہیں ہے آپ کو فرصت اگر توجہ کی تو میں بھی لوٹتا ہوں گھر کو آ گیا ...

مزید پڑھیے

جہان بھر سے نہ یوں میرا تذکرہ کیجے

جہان بھر سے نہ یوں میرا تذکرہ کیجے میں دل کا راز ہوں دل سے مرا گلہ کیجے یہ کیا یقیں کہ سمجھ لے گا ہر اشارہ وہ لبوں کا فرض نگاہوں سے کیوں ادا کیجے نصیب میں جو کبھی صبح کا اجالا ہو تو مل ہی جائے گا ہر رات کیا دعا کیجے خلوص کو بھی یہاں مصلحت کہیں گے لوگ بھلا یہی ہے کسی سے نہ جو بھلا ...

مزید پڑھیے

ہوا کرے اگر اس کو کوئی گلہ ہوگا

ہوا کرے اگر اس کو کوئی گلہ ہوگا زباں کھلی ہے تو پھر کچھ تو فیصلہ ہوگا کبھی کبھی تو یہ دل میں سوال اٹھتا ہے کہ اس جدائی میں کیا اس نے پا لیا ہوگا وہ گرم گرم نفس کیسے ٹھہرتے ہوں گے اب ان شبوں کو وہ کیسے گزارتا ہوگا کبھی جو گزروں ترے شہر سے تو سوچتا ہوں کہ اس زمین پہ کیا کیا قدم پڑا ...

مزید پڑھیے

وہ بت بنا نگاہ جمائے کھڑا رہا

وہ بت بنا نگاہ جمائے کھڑا رہا میں آنکھ بند کر کے اسے پوجتا رہا خوش فہمیوں کا آج بھرم کھل گیا تو کیا اک موڑ پر تو اس کا مرا سامنا رہا تم کو تو ایک عمر ہوئی ہے جدا ہوئے حیراں ہوں رات بھر میں کسے ڈھونڈھتا رہا اک اک دریچہ بند تھا پھر بھی یہ ڈر رہا چھپ چھپ کے جیسے کوئی ہمیں جھانکتا ...

مزید پڑھیے

جب سے پڑی ہے ان سے ملاقات کی طرح

جب سے پڑی ہے ان سے ملاقات کی طرح آتی نہیں گرفت میں حالات کی طرح آیا جو لکھتے لکھتے ترے قرب کا خیال خط بھی الجھ گیا ہے مری بات کی طرح تنہائی میں ملو تو تمہیں دل کے آس پاس دکھلائیں ایک شہر طلسمات کی طرح یوں ہی جو باندھتے رہے تمہید آج بھی یہ شب بھی بیت جائے گی کل رات کی طرح انوارؔ ...

مزید پڑھیے

جدائی کے عذاب کا پہلا دن

گئی رتوں کے اداس لمحوں قریب آؤ قریب آؤ اتر کے میری اجاڑ آنکھوں میں اشک آسا ٹپکتے جاؤ میرے بدن کی پرانی پگڈنڈیوں پہ چلتے کسی مسافر کی پرانی پگڈنڈیوں پہ چلتے کسی مسافر کی تیز قدمی سے ریزہ ریزہ بکھرتے پتو یہ یاد رکھنا کہ اب ابد تک تمہارے بیمار زرد چہروں پہ پائمالی کی بے نشاں مہر لگ ...

مزید پڑھیے

یہ سرکاری شفا خانے میں جو بیمار لیٹے ہیں

یہ سرکاری شفا خانے میں جو بیمار لیٹے ہیں بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار لیٹے ہیں کسی کو کیا پتہ ہم جھانکتے رہتے ہیں موری سے بظاہر اک ہونق ہیں پس دیوار لیٹے ہیں ہمارے عشق اور ان کے تغافل کا یہ عالم ہے کہ ہم دل ہار بیٹھے ہیں وہ لینے ہار لیٹے ہیں یونہی شام و سحر رہتا ہے نقشہ ان کی ...

مزید پڑھیے

اوس

رات میں جب صاف ہوتا ہے ہمارا آسماں تب زمیں کی سطح ہو جاتی ہے ٹھنڈی جان جاں جب ہوا چھوتی ہے اس ٹھنڈی ہوا کو شوق سے تب ہوا ٹھنڈک سے ہو جاتی نمی لبریز ہے جیسے ہی اس میں حرارت کی کمی آ جاتی ہے بھاپ وہ پانی کی چھوٹی بوند میں ڈھل جاتی ہے چھوٹی چھوٹی بوند کی شکلوں میں آ کر گھاس ...

مزید پڑھیے

نظام شمسی

گھومنا ہر ایک کی پہلی پسند اس لیے ڈالا ستاروں یہ کمند ہم ہیں بچے کیا ہمارا پوچھنا کس قدر ہم چاہتے ہیں گھومنا اس جگہ جو کوئی رہتا ہے پڑا اس کو کہیے بے کھٹک پاگل بڑا یہ زمیں یہ چاند یہ سورج سبھی گھومنا ہے ان کی اصلی زندگی روز پورا ایک چکر یہ زمیں کر لیا کرتی ہے کر لیجے یقیں اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5120 سے 6203