وفا پرستوں کے منہ سے زبان کھینچتا ہے
وفا پرستوں کے منہ سے زبان کھینچتا ہے ذرا ذرا پہ ستم گر کمان کھینچتا ہے میں چھوڑ کر چلا آیا ہوں شہر میں جس کو مجھے وہ گاؤں کا کچا کمان کھینچتا ہے یہ اور بات وہی فاصلہ ہے صدیوں سے زمیں کو اپنی طرف آسمان کھینچتا ہے مری نظر میں بہادر وہی سپاہی ہے خلاف ظلم جو اپنی کمان کھینچتا ...