عشق میں الجھی پہیلی اور تم
عشق میں الجھی پہیلی اور تم میں تمہاری اک سہیلی اور تم آج کل دو لوگ میرے پاس ہیں زندگی میری اکیلی اور تم مجھ کو دیتی ہیں سکوں بے امتحاں اک تری نازک ہتھیلی اور تم درد میں میرے صدا شامل رہے آنسوؤں کی ایک ڈھیلی اور تم
عشق میں الجھی پہیلی اور تم میں تمہاری اک سہیلی اور تم آج کل دو لوگ میرے پاس ہیں زندگی میری اکیلی اور تم مجھ کو دیتی ہیں سکوں بے امتحاں اک تری نازک ہتھیلی اور تم درد میں میرے صدا شامل رہے آنسوؤں کی ایک ڈھیلی اور تم
ہوا میں اڑ نہ جائے داستاں دل کی دھواں ہو کر غزل میں نے کہی ہے بولتی سی بے زباں ہو کر ہمارے جسم پر سورج ستارے چاند چمکیں گے اگر ہم پھیل جائیں گے جہاں میں آسماں ہو کر مرے پیچھے بہت اشکوں بہت یادوں کی دنیا ہے چلا ہوں اس زمیں پر ہر جگہ میں کارواں ہو کر یقیناً پھولوں کی خوشبو میں جا ...
نئے دنوں کے نئے صحیفوں میں ذکر مہر و وفا نہیں ہے محبتوں کی جسارتوں کی سزا نہیں ہے جزا نہیں ہے نگاہ کے شوخ پن کو بیگانگی کا آسیب ڈس گیا ہے مغائرت کا فسوں زدہ دل جنوں کے شایاں رہا نہیں ہے کوئی بھی سجنی کسی بھی ساجن کی منتظر ہے نہ مضطرب ہے تمام بام اور در بجھے ہیں کہیں بھی روشن دیا ...
بول دنیا کے رسیلے ہو گئے پھر یہ لہجے کیوں کٹیلے ہو گئے اتنی کم بارش میں کیا ہوتا بھلا خشک پتے صرف گیلے ہو گئے ایک گردہ بک گیا تو کیا ہوا ہاتھ تو بیٹی کے پیلے ہو گئے چیتھڑے پہلے تھے اب اجلا کفن مر گئے تو ہم سجیلے ہو گئے زہر اگلنا جن کا شیوہ کل رہا آج ان کے ہونٹ نیلے ہو گئے جانتے ...
رات اک بدنام گھر کی ہو رہی تھی چاندنی ایک میلی چاندنی کو دھو رہی تھی چاندنی اک بڑے ہوٹل کی ویراں چاندنی پر لیٹ کر جانے کیوں اپنا تقدس کھو رہی تھی چاندنی دوستوں کے ساتھ وہ تھا میکدے میں رات بھر اور بستر پر اکیلی سو رہی تھی چاندنی شہر میں جلتے مکاں بہتے لہو کو دیکھ کر جنگلوں میں ...
جفا جو نے کی تھی وفا اتفاقاً بشر ہے ہوئی تھی خطا اتفاقاً زمانہ مجھے رند کہنے لگا ہے کبھی چکھ لیا تھا مزا اتفاقاً مری زندگی ڈھل گئی نغمگی میں سنی تھی کسی کی صدا اتفاقاً ترے ایک خط نے کیا راز افشا پڑا رہ گیا تھا کھلا اتفاقاً مری بے خودی نے جہاں لا کے چھوڑا ترے گھر کا تھا راستا ...
میں نظر سے پی رہا ہوں یہ سماں بدل نہ جائے نہ جھکاؤ تم نگاہیں کہیں رات ڈھل نہ جائے مرے اشک بھی ہیں اس میں یہ شراب ابل نہ جائے مرا جام چھونے والے ترا ہاتھ جل نہ جائے ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اٹھا نقاب ساقی ترا رند گرتے گرتے کہیں پھر سنبھل نہ جائے مری زندگی کے مالک مرے دل پہ ہاتھ ...
رخ سے پردہ اٹھا دے ذرا ساقیا بس ابھی رنگ محفل بدل جائے گا ہے جو بے ہوش وہ ہوش میں آئے گا گرنے والا ہے جو وہ سنبھل جائے گا لوگ سمجھے تھے یہ انقلاب آتے ہی نظم کہنہ چمن کا بدل جائے گا یہ خبر کس کو تھی آتش گل سے ہی تنکا تنکا نشیمن کا جل جائے گا تم تسلی نہ دو صرف بیٹھے رہو وقت کچھ میرے ...
میں تو سمجھا تھا جس وقت مجھ کو وہ ملیں گے تو جنت ملے گی کیا خبر تھی رہ عاشقی میں ساتھ ان کے قیامت ملے گی میں نہیں جانتا تھا کہ مجھ کو یہ محبت کی قیمت ملے گی آنسوؤں کا خزانہ ملے گا چاک دامن کی دولت ملے گی پھول سمجھے نہ تھے زندگانی اس قدر خوبصورت ملے گی اشک بن کر تبسم ملے گا درد بن ...
اس واسطے دامن چاک کیا شاید یہ جنوں کام آ جائے دیوانہ سمجھ کر ہی ان کے ہونٹوں پہ مرا نام آ جائے میں خوش ہوں اگر گلشن کے لیے کچھ میرا لہو کام آ جائے لیکن مجھ کو ڈر ہے اس کا گلچیں پہ نہ الزام آ جائے اے کاش ہماری قسمت میں ایسی بھی کوئی شام آ جائے اک چاند فلک پر نکلا ہو اک چاند سر بام آ ...