فقط حرف تمنا کیا ہے
شام روشن تھی سنہری تھی مگر اتری چلی آتی تھی زینہ زینہ آ کے پھر رک سی گئی شب کی منڈیروں کے قریں اک ستارہ بھی کہیں ساتھ ہی جھک آیا تھا جیسے وہ چھونے کو تھا کانوں کے بالے اس کے گیسوؤں کو بھی کہ تھے رخ کے حوالے اس کے کہنیاں ٹیکے ہوئے ایک دھڑکتی ہوئی دیوار پہ وہ کھلکھلاتے ہوئے کچھ مجھ ...