قومی زبان

فقط حرف تمنا کیا ہے

شام روشن تھی سنہری تھی مگر اتری چلی آتی تھی زینہ زینہ آ کے پھر رک سی گئی شب کی منڈیروں کے قریں اک ستارہ بھی کہیں ساتھ ہی جھک آیا تھا جیسے وہ چھونے کو تھا کانوں کے بالے اس کے گیسوؤں کو بھی کہ تھے رخ کے حوالے اس کے کہنیاں ٹیکے ہوئے ایک دھڑکتی ہوئی دیوار پہ وہ کھلکھلاتے ہوئے کچھ مجھ ...

مزید پڑھیے

اے زمستاں کی ہوا تیز نہ چل

اے زمستاں کی ہوا تیز نہ چل اس قدر تیز نہ ہو موج سبک خیز کی رو کہیں اشجار کے خیموں کی طنابیں کٹ جائیں زرد پتے ہیں ابھی گلشن ہستی کا سنگھار کہہ رہی ہے یہ ابھی عہد گذشتہ کی بہار رنگ رفتہ ہوں مگر آج بھی تصویر میں ہوں مرتسم ہیں مری شاخوں پہ مری یاد کے چاند میں ہنوز اپنے خیالات کی زنجیر ...

مزید پڑھیے

کرب کی آگ میں دن رات پگھلتے رہئے

کرب کی آگ میں دن رات پگھلتے رہئے کروٹیں درد کے بستر پہ بدلتے رہئے کون آتا ہے یہاں کس کو ہے فرصت یارو جسم کی آگ میں خود اپنے ہی جلتے رہئے ان کو پانے کی تمنا تو ہے اک خواب حسین طفل نو عمر کی مانند مچلتے رہئے آبلہ پائی سے جل اٹھے ہوں ہر سمت چراغ جادۂ زیست پہ اس طرح سے چلتے ...

مزید پڑھیے

ابر ہر کھیت پہ ہر راہ گزر پر برسے

ابر ہر کھیت پہ ہر راہ گزر پر برسے غم وہ برکھا جو مری روح کے اندر برسے آئی ساون کی گھٹا گھر کے مگر جم نہ سکی اشک آنکھوں میں امنڈ آئے تو شب بھر برسے بزم میں ان پہ ہوئی لالہ و گل کی بارش اور مرے سر پہ جو برسے بھی تو پتھر برسے بیتے ساون میں یہ منظر بھی نظر سے گزرا سر بازار جب اولوں کی ...

مزید پڑھیے

کشتیاں اس کی بادباں اس کا

کشتیاں اس کی بادباں اس کا ہے ہواؤں کو امتحاں اس کا وہ جو لمحہ ابھی نہیں آیا وصل میں خوف درمیاں اس کا وہ پرندہ ہے لوٹ آئے گا اس زمیں پر ہے آشیاں اس کا وہ مری طرح سوچ کر دیکھے میری تنہائی ہے زیاں اس کا قریۂ جاں مہک مہک اٹھا کیا تصور ہے گل فشاں اس کا ایک اک حرف ہے مری تخلیق نام ہے ...

مزید پڑھیے

اپنا ماحول نفسیات سمجھ

اپنا ماحول نفسیات سمجھ بات کرنے سے پہلے بات سمجھ کون کب کس لیے کہاں ہوگا رابطے اور تعلقات سمجھ موج دریا شمار کرنے میں قطرے قطرے کے مضمرات سمجھ بد گمانی کا تیز رو دریا توڑ دے گا حصار ذات سمجھ زندگی کے مزاج میں شامل ایک اک سانس حادثات سمجھ

مزید پڑھیے

گریہ کرتا ہے کبھی چپ کبھی ہنستا ہے وہی

گریہ کرتا ہے کبھی چپ کبھی ہنستا ہے وہی میری وحشت مری حیرت کو سمجھتا ہے وہی کبھی خوشبو کبھی بادل کبھی موج دریا میرے اشعار میں سو رنگ بدلتا ہے وہی کوئی گزرا تھا دبے پاؤں جہاں سے اک دن راستہ خواب کی دہلیز سے ملتا ہے وہی دن کے ہنگاموں میں سورج سے رفاقت اس کی رات پھر چاند ستاروں سے ...

مزید پڑھیے

نکہت و نور کا سیلاب تھا چاروں جانب

نکہت و نور کا سیلاب تھا چاروں جانب میں اکیلا تھا مرا خواب تھا چاروں جانب وصل کا نشہ رگ و پے میں سمندر جیسا اک بدن صورت مہتاب تھا چاروں جانب ہمرہی نے تری کھولے تھے رموز ہستی آنکھ بھر منظر شاداب تھا چاروں جانب تھا سماعت پہ وہی فقروں کا بوجھل شب خوں میں بھی تھا حلقۂ احباب تھا ...

مزید پڑھیے

ایک خواہش

شفق کے رنگ سارے رنگ تم آنکھوں میں بھر لو صبح جب سورج پہاڑوں سے ادھر کہرے میں ڈوبی وادیوں میں آنکھ کھولے تم شفق کے رنگ سارے رنگ اس کی نذر کر دینا

مزید پڑھیے

میں بے ہوں

میں بے ہوں جب الف کو دیکھتا ہوں دکھ اٹھاتا ہوں کہ وہ اول ہے میں آخر مگر جب پے کو دیکھوں تے کو دیکھوں مسکراتا ہوں بہت تسکین پاتا ہوں خوشی سے کھلکھلاتا ہوں کہ میں بے ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 4921 سے 6203