کار اہل وفا جہد و تسلیم ہے ہم بھی تسلیم میں کیا تأمل کریں
کار اہل وفا جہد و تسلیم ہے ہم بھی تسلیم میں کیا تأمل کریں ذات کے دشت کتنے ہی درپیش ہیں کیا کریں گے اگر پھر تساہل کریں اے صریر قلم اے ضمیر جہاں آپ اپنی زباں میں جو لکھنا ہو لکھ کتنے احوال ہیں نا نوشتہ ابھی کیا مناسب ہے ان سے تغافل کریں ہم پریشان و آشفتہ لوگوں میں بھی اک زمانہ ہوا ...