یہ کتابیں
یہ کتابیں جو تم پڑھ رہے ہو انہیں ایسے لوگوں نے لکھا ہے جو زندگی بھر کتابیں ہی پڑھتے رہے
یہ کتابیں جو تم پڑھ رہے ہو انہیں ایسے لوگوں نے لکھا ہے جو زندگی بھر کتابیں ہی پڑھتے رہے
توبہ خط میں کیسی باتیں لکھتے ہو یہاں بھرے پرے اس گھر میں لکھنا پڑھنا سب کو آتا ہے
جب ہمیں اذن تماشا ہوگا تو کہاں انجمن آرا ہوگا ہم نہ پہنچے سر منزل تو کیا ہم سفر کوئی تو پہنچا ہوگا اڑتی ہوگی کہیں خوشبوئے خیال گل معنی کہیں کھلتا ہوگا ہر گل و برگ ہے اک نقش قدم کون اس راہ سے گزرا ہوگا لب تصویر پہ گویا ہے سخن کوئی سن لے تو تماشا ہوگا اب بھی گل پوش دریچے کے ...
کچھ تو غم خانۂ ہستی میں اجالا ہوتا چاند چمکا ہے تو احساس بھی چمکا ہوتا آئینہ خانۂ عالم میں کھڑا سوچتا ہوں میں نہ ہوتا تو یہاں کون سا چہرہ ہوتا خود بھی گم ہو گئے ہم اپنی صداؤں کی طرح دشت فرقت میں تجھے یوں نہ پکارا ہوتا حسن اظہار نے رعنائی عطا کی غم کو گل اگر رنگ نہ ہوتا تو شرارہ ...
وہ رنگ اڑے ہیں کچھ اب کے برس بہاروں کے کہ دل میں نقش ابھرتے ہیں برف زاروں کے یہ دشت دل یہ بہ ہر سو غبار تنہائی کہاں گئے وہ چمن اجنبی اشاروں کے الجھ گئے ہیں کسی موج اضطراب میں پھر وہ خواب رنگ میں ڈوبے ہوئے کناروں کے چلو کہ اس سے کوئی صاف صاف بات کریں کہ اب تو کھل ہی گئے بھید ...
ایک سمندر ایک کنارہ ایک ستارا کافی ہے اس منظر میں اس کے علاوہ کوئی اکیلا کافی ہے دینے والا جھولیاں بھر بھر دیتا ہے تو اس کا کرم لینے والے کب کہتے ہیں داتا اتنا کافی ہے ایک غلط انداز نظر سے گلشن گلشن داغ جلیں شبنم شبنم رلوانے کو ایک ہی جملہ کافی ہے خشک لبوں پر پیاس سجائے بحر ...
اک برگ برگ دن کی خبر چاہئے مجھے میں شاخ شب زدہ ہوں سحر چاہئے مجھے میری طلب دہکتے الاؤ نہ تھے کبھی انبار خس ہوں ایک شرر چاہئے مجھے کب تک سلگتی ریت پہ بے حس پڑا رہوں اس گل زمیں کی سمت سفر چاہئے مجھے سو بار جسم و جاں کو بنانا پڑا سوال اس تجربے سے اب تو حذر چاہئے مجھے وہ ربط دوستی ...
اب اور چلنے کا اس دل میں حوصلہ ہی نہ تھا کہ شہر شب میں اجالے کا شائبہ ہی نہ تھا میں اس گلی میں گیا لے کے زعم رسوائی مگر مجھے تو وہاں کوئی جانتا ہی نہ تھا گداز جاں سے لیا میں نے پھر غزل کا سراغ کہ یہ چراغ تو جیسے کبھی بجھا ہی نہ تھا کوئی پکارے کسی کو تو خود ہی کھو جائے ہوا تو ہے مگر ...
وہ نخل جو بار ور ہوئے ہیں آشوب خزاں سے ڈر رہے ہیں شاخوں پہ تیر کے زخم ہیں یہ یا پھر سے گلاب جھانکتے ہیں ظلمت میں بہت ہی یاد آئے وہ چاند جو ہم سفر رہے ہیں لے دست ہوس یہ پھول تیرے کانٹے تو وفا نے چن لئے ہیں بدلا نہ نوشتۂ مقدور مکتوب تو ہم نے بھی لکھے ہیں پامال جہاں ہوئے کہ ہم ...
خدا گر میرے ہاتھوں میں دلاسے کی چلم بھرتا میں اہل ہجر کے ٹھنڈے پڑے سینوں میں دم بھرتا اگر مجھ کو کسی کے حسن کا موسم نہ راس آتا میں دل کے سارے خانوں میں تری فرقت کے غم بھرتا مصور میں حسیں لگتا ترے سب شاہکاروں سے تو مجھ میں رنگ تو بھرتا بھلے اوروں سے کم بھرتا بہت تھک کر سوال وصل ...