قومی زبان

کبھی دھیرے کبھی عجلت سے کیا جاتا ہے

کبھی دھیرے کبھی عجلت سے کیا جاتا ہے کام ہجرت کا سہولت سے کیا جاتا ہے یہ ودیعت ہوا جذبہ ہے عطا ہے رب کی عشق بھی کوئی ضرورت سے کیا جاتا ہے اتنا خود سر نہ ہوا کر مرے مرجان صفت کچھ کنارا بھی عداوت سے کیا جاتا ہے یہی دنیا کا چلن جان کر اے جان غزل رنگ خود پر بھی ضرورت سے کیا جاتا ...

مزید پڑھیے

الم زندگی میں کما کر تو دیکھو

الم زندگی میں کما کر تو دیکھو نظر آنسوؤں سے سجا کر تو دیکھو کھڑے ہوں گے شانہ بہ شانہ تمہارے ہمیں تم کبھی آزما کر تو دیکھو تمہاری گلی میں لگی رونقیں ہیں سر بام اک بار آ کر تو دیکھو تمہیں بھی جواباً محبت ملے گی محبت سے دل میں سما کر تو دیکھو میں آئینہ ہوں سچ کہوں گا ہمیشہ مجھے ...

مزید پڑھیے

سکھ کی بہتات ہے زندگی زخم دے

سکھ کی بہتات ہے زندگی زخم دے میرا دکھ بانٹ کر پھر کوئی زخم دے جستجو پھر کوئی دل میں رستہ بنا پھر سے ناکامیوں کا وہی زخم دے روشنی ہو نظر در نظر روشنی اک کمی ہے کمی در کمی زخم دے گم شدہ چاہتوں کا وظیفہ پڑھا بولتے منظروں کی گلی زخم دے تو مجھے زندگی کا قرینہ سکھا مجھ پہ احسان کر دل ...

مزید پڑھیے

صدا و ساز کا جہاں بنا کے دیکھتے ہیں ہم

صدا و ساز کا جہاں بنا کے دیکھتے ہیں ہم نئی غزل کا قافیہ اٹھا کے دیکھتے ہیں ہم وہ جن کی مدتوں سے آئی خیر کی خبر نہیں انہیں کنار دشت جاں میں جا کے دیکھتے ہیں ہم قیام دل کے فیض سے ہیں ایک دل میں کر چکے نظر جو اب رقیب سے ملا کے دیکھتے ہیں ہم ہیں قریہ قریہ دھوپ میں جھلس گئے تو کیا ...

مزید پڑھیے

دست ساقی شراب ہوتا ہے

دست ساقی شراب ہوتا ہے رخ جاناں گلاب ہوتا ہے جیسے ہوتا ہے ایک کار گناہ ویسے کار ثواب ہوتا ہے جب وہ دیتا ہے دوستی میں فریب دل مرا آب آب ہوتا ہے کسی دریائے موجزن کی طرح آنکھ میں بھی چناب ہوتا ہے کون اس پر ہزار جاں سے فدا میں ہی میرا جواب ہوتا ہے عکس انگڑائی لے بھی سکتا ہے آئنہ ...

مزید پڑھیے

بے مہریٔ وفا نے پوچھو نہ کیا دیا ہے

بے مہریٔ وفا نے پوچھو نہ کیا دیا ہے آہ وداع شب نے سینہ جلا دیا ہے نالہ کناں ہیں بلبل بھنوروں میں بے دلی ہے اب کے وہ بجلیوں نے گلشن جلا دیا ہے بازی پہ اپنے سر کی اک حسن بے بدل سے ہم نے محبتوں کا نعرہ لگا دیا ہے اندھی محبتوں نے ہر صاحب وفا کو دریا دکھا دیا ہے صحرا دکھا دیا ہے پھرتے ...

مزید پڑھیے

روح میں درد کا پیوند لگانے والا

روح میں درد کا پیوند لگانے والا تیرا ہر خواب ہے پلکوں کو جلانے والا اک تصور کے سوا رات کے سناٹے میں کون ہے بند کواڑوں کو ہلانے والا میری حسرت ہے سلیقے سے کوئی تیر چلے کیا یہاں کوئی نہیں ٹھیک نشانے والا ضد ہے قاتل کو اسے بخش دیا جائے گا جرم تسلیم کرے دار پہ جانے والا آج کچھ درد ...

مزید پڑھیے

سر پر ہمارے سایۂ دیوار بھی نہیں

سر پر ہمارے سایۂ دیوار بھی نہیں سورج سا ہم فقیروں کا گھر بار بھی نہیں مجھ سے تعلقات کا اقرار بھی نہیں اور کوئی پوچھتا ہے تو انکار بھی نہیں گہرائی اس ندی کی بھلا کیا پتا لگے جس میں بھنور نہیں کوئی منجھدار بھی نہیں جس کو تمام عمر عمل میں نہ لا سکے ایسی وہ رائے دینے کا حق دار بھی ...

مزید پڑھیے

درخت دھوپ سے لڑتا ہے اس قدر دن بھر

درخت دھوپ سے لڑتا ہے اس قدر دن بھر پھلوں سے شاخوں سے رہتا ہے بے خبر دن بھر نہ آبشار نہ پنچھی نہ جانور نہ درخت عجیب دشت میں کرتا رہا سفر دن بھر ڈھلی جو شام تو بچے سا سو گیا سورج دکھا رہا تھا کئی طرح کے ہنر دن بھر مرے نصیب میں کیا اور کچھ لکھا ہی نہیں سفر میں رہتا ہوں گھر پر میں رات ...

مزید پڑھیے

لوگ آئے ہی نہیں مجھ کو میسر ایسے

لوگ آئے ہی نہیں مجھ کو میسر ایسے جو مجھے کہتے کہ ایسے نہیں ازبرؔ ایسے جیسا میں ہوں مرے چہرے کی ہنسی جیسی ہے غور سے دیکھ کہ ہوتے نہیں جوکر ایسے تیز دوڑا کے اچانک مری رسی کھینچی اس نے سمجھایا مجھے لگتی ہے ٹھوکر ایسے آنکھ کھلنے پہ جو اٹھتا ہوں تو چکراتا ہوں کون دیتا ہے مجھے خواب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4829 سے 6203