قومی زبان

ہم کو آہ و بکا نہیں کرنا

ہم کو آہ و بکا نہیں کرنا ان کو وعدہ وفا نہیں کرنا ہم پہ الزام ہے اداسی کا رد اس الزام کا نہیں کرنا تجھ سے بے شک ہمیں بچھڑنا ہے پر تیرا دل برا نہیں کرنا شیخ جی رند کو نہ سمجھائیں اس کو کیا کرنا کیا نہیں کرنا عاشقی دل لگی کا ساماں ہے ان کو قیدی رہا نہیں کرنا

مزید پڑھیے

حالات کی مسند سے اتر جائیں گے اک دن

حالات کی مسند سے اتر جائیں گے اک دن ارزانیٔ وحشت میں ہی مر جائیں گے اک دن یوں دید کو اپنی ہمیں ترساؤ نہ ورنہ مر جائیں گے مر جائیں گے مر جائیں گے اک دن یہ آس بہت ہے کہ ترے دست ستم سے جتنے بھی ملے گھاؤ ہیں بھر جائیں گے اک دن ہر شام جو آ جاتے ہیں محفل کو سجانے یہ دوست ہمارے بھی بکھر ...

مزید پڑھیے

دلبراں لوگ خوب صورت ہیں

دلبراں لوگ خوب صورت ہیں میری جاں لوگ خوب صورت ہیں پھول جن کے نثار جاتے ہیں مہرباں لوگ خوب صورت ہیں مجھ سے مت کر شعور کی باتیں سن میاں لوگ خوب صورت ہیں خاک سے تو جنہیں بناتا ہے وہ جہاں لوگ خوب صورت ہیں بستیاں جو مری جلاتے ہوں وہ کہاں لوگ خوب صورت ہیں امن کی جستجو میں نکلے ...

مزید پڑھیے

زباں تھک گئی با خدا کہتے کہتے

زباں تھک گئی با خدا کہتے کہتے تجھے بے وفا با وفا کہتے کہتے کرم گویا مجھ کو ہے دیوانگی بھی زمانہ ہوا اک ثنا کہتے کہتے الم ہیں کہ شغل فراغت کی سوغات سر انجمن چپ ہوا کہتے کہتے زباں پر یکایک لگا قفل چپ کا کسی دوسرے کو خدا کہتے کہتے دلیل محبت اسے کیا میں دیتا وہ کہنے لگا جب سنا کہتے ...

مزید پڑھیے

تم کبھی آبلے پیروں پہ سجا کر دیکھو

تم کبھی آبلے پیروں پہ سجا کر دیکھو آگہی ملتی ہے صحراؤں میں جا کر دیکھو عرصۂ خواب کے اسرار کھلیں گے تم پر اپنی آواز میں کچھ سوز رچا کر دیکھو شاخ در شاخ قیامت کا فغاں اٹھے گا پھول پر بیٹھی ہوئی تتلی اڑا کر دیکھو کس قدر ہوتا ہے تاراج سکون گلشن پھول سے تو ذرا تتلی کو گرا کر ...

مزید پڑھیے

بنا کر سانحہ کوئی تماشا یہ کراتا ہے

بنا کر سانحہ کوئی تماشا یہ کراتا ہے فلک معصوم لوگوں کو بہت آنسو رلاتا ہے میں دل کی لاش پر نوحہ کناں ہوں اور تو ظالم بلا کر شہر داروں کو مرا چہرہ دکھاتا ہے ارے حد ہو چکی بس بے حسی یہ اہل مسند کی سر بازار لاشوں کی کوئی بولی لگاتا ہے یہاں چلتا ہے میرے شہر میں قانون جنگل کا یہاں ہر ...

مزید پڑھیے

یہ جو ٹھہراؤ ہے روانی میں

یہ جو ٹھہراؤ ہے روانی میں اک کتھا اور ہے کہانی میں ہائے افسوس ہائے ہائے دل کٹ گئی عمر رائگانی میں کانچ پیالہ تھا کرچی کرچی ہوا آ گیا جب ابال پانی میں دشت میں جا کے خودکشی کر لی نہ لگا دل جو باغبانی میں موت یک لخت آ بھی سکتی ہے کب ہے تاخیر ناگہانی میں مسئلہ حل کسی طرح بھی ہو آگ ...

مزید پڑھیے

زندگانی میں ہے خوشی تم سے

زندگانی میں ہے خوشی تم سے زندگی زندگی بنی تم سے شاعری دل کا استعارہ ہے استعارے میں چاشنی تم سے ہاڑ کی دھوپ نے جلایا ہمیں آس ہم کو تھی چھاؤں کی تم سے کیا تمہیں مجھ پہ اعتبار نہیں میں کروں اور دل لگی تم سے کام کرنے کو جی نہیں کرتا تنگ آیا ہوں شاعری تم سے میں بھی رستہ بدلنے والا ...

مزید پڑھیے

زیست کا کھیل رچانے کی ضرورت کیا ہے

زیست کا کھیل رچانے کی ضرورت کیا ہے روتے لمحات سجانے کی ضرورت کیا ہے یاد جب مجھ کو ترے سارے کرم ہیں جاناں پھر یہ احسان جتانے کی ضرورت کیا ہے عشق سے عشق ضروری ہے مگر جان عزیز سب کو یہ بات بتانے کی ضرورت کیا ہے ایک موہوم سہارا ہے گزارے شب کے بار اس کا بھی اٹھانے کی ضرورت کیا ...

مزید پڑھیے

بھر جانے دو ذرا مرا ظرف جگر ابھی

بھر جانے دو ذرا مرا ظرف جگر ابھی زندان کا نہ کھولنا تم آ کے در ابھی اتری ہے پات پات پہ پاگل رتوں کی دھوپ چندھیا رہی ہے اس لیے میری نظر ابھی مدت ہوئی ہے آتش دل کو بجھے ہوئے سانسوں پہ ہے مگر وہ دھویں کا اثر ابھی اٹھنے کو رنج و غم کے بگولے ہیں دھوپ میں صحرائے چشم میں نہ بنا رہ گزر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4828 سے 6203