قومی زبان

نہ جس کا کوئی سہارا ہو وہ کدھر جائے

نہ جس کا کوئی سہارا ہو وہ کدھر جائے نہ آئے موت تو بے موت کیسے مر جائے میں اس خیال سے ان سے گلا نہیں کرتا کہیں نہ پھول سے چہرے کا رنگ اتر جائے تو ہی بتا دے مجھے بے کسیٔ منزل شوق جو راہ سے بھی نہ واقف ہو وہ کدھر جائے ہزاروں طور نہیں چشم معرفت کے لئے جہاں جہاں تری معجز نما نظر ...

مزید پڑھیے

تمنا

دیتی ہے بے خودی شوق پہ آ کر دستک ہونے والی کو یہ کہتی ہے نہ ہو دور بھٹک جانے والی کو یہ کہتی ہے نہ جا آ مجھ تک عقل آڑے کبھی آتی ہے تو دیتی ہے جھٹک نہ مٹائے کبھی مٹنے کی تمنا میری آج تو آج رہے گی پس فردا میری دشمنوں پر کبھی گرتی ہے یہ بن کر بجلی دوستوں پر کبھی آتی ہے یہ بن کر ...

مزید پڑھیے

عجب دیکھا ہے منظر دائرے میں

عجب دیکھا ہے منظر دائرے میں سمٹ آیا سمندر دائرے میں کہیں تو ختم ہو کیسا سفر ہے پھرا ہوں زندگی بھر دائرے میں تو فاتح ہے کھلے میداں کا مانا کھلے گا تیرا جوہر دائرے میں تو میری آنکھ سے دریا چرا لے میں لاؤں گا سمندر دائرے میں میں تیرا وقت ہوں مت روک مجھ کو میں تیرے ساتھ ہوں ہر ...

مزید پڑھیے

بس محبت میں ترا ہجر کمایا ہوا ہے

بس محبت میں ترا ہجر کمایا ہوا ہے اور اس ہجر کو آنگن میں اگایا ہوا ہے تو جسے دشت سمجھتا ہے یہ اب دشت نہیں میں نے اس دشت میں اک شہر بسایا ہوا ہے یہ جو اک روشنی پہلو سے مرے پھوٹتی ہے یہ وہی زخم ہے جو تو نے لگایا ہوا ہے آنکھ سورج سے ملاتے ہوئے کتراتا ہوں میں نے آنکھوں میں کوئی چاند ...

مزید پڑھیے

ٹوٹ کر بکھرے ہیں سپنے صحن میں

ٹوٹ کر بکھرے ہیں سپنے صحن میں کس نے کھینچے ہیں یہ رستے صحن میں کون دیتا ہے اداسی کو فریب کون اگاتا ہے یہ چہرے صحن میں کوئی سمجھا ہی نہیں اک لفظ بھی گونجتے ہیں کتنے لہجے صحن میں اک شجر بھی نام کو گھر میں نہیں اڑ رہے ہیں خشک پتے صحن میں جانے کب ٹوٹے طلسم تیرگی جانے کب اتریں سویرے ...

مزید پڑھیے

کب اترے گا روح سے گارا مٹی کا

کب اترے گا روح سے گارا مٹی کا مٹی کی ہے جھیل کنارا مٹی کا میں نے ہر دم کی دل داری مٹی کی میں نے ہر دم قرض اتارا مٹی کا میں نے چودہ چاند کئے ہیں جس کے نام اس نے بھیجا ایک ستارا مٹی کا مٹی کو روندا مٹی کا خون کیا ہوگا آخر کار اجارہ مٹی کا آنکھوں میں ہے صحراؤں سا سونا پن پاؤں کے نیچے ...

مزید پڑھیے

بچا کر شہر سے سر آ گیا ہوں

بچا کر شہر سے سر آ گیا ہوں میں بھر کر جیب میں ڈر آ گیا ہوں نہیں معلوم وحشت ہے کہ دہشت کنویں سے پیاس بھر کر آ گیا ہوں کماتا کیا مسلسل ہجرتوں میں بچایا یہ ہے کہ گھر آ گیا ہوں گلی میں بھونکتے کتوں کے ڈر سے تجھے دیکھے بنا گھر آ گیا ہوں یہاں اوصافؔ دریا بھی ہے پیاسا گھڑے میں ریت بھر ...

مزید پڑھیے

ایک احساس زیاں چھوڑے گا

ایک احساس زیاں چھوڑے گا ہجر ہے یہ تو نشاں چھوڑے گا یا بلائے گا سر دشت بلا یا سر نوک سناں چھوڑے گا پہلے رستے سے اٹھائے گا یقیں اور پھر اس پہ گماں چھوڑے گا میں بھی بولوں گا بہت بولوں گا خوف جب میری زباں چھوڑے گا جانتا ہوں کہ وہ چھوڑے گا ضرور دیکھنا ہے کہ کہاں چھوڑے گا شہریاری نہ ...

مزید پڑھیے

ہے بپا اک حشر سا دیوار پر

ہے بپا اک حشر سا دیوار پر کون پڑھتا ہے لکھا دیوار پر میں نے پوچھا کیا پس دیوار ہے اس نے لکھا دائرہ دیوار پر آؤ آداب محبت سیکھ لو لکھ دیا ہے ضابطہ دیوار پر اب نہ چھائے گا طلسم تیرگی چھوڑ آیا ہوں دیا دیوار پر سر اٹھاتی سر پٹختی ہے ندی مسکراتا ہے گھڑا دیوار پر چھوڑ دی تیری گلی ...

مزید پڑھیے

کھڑکیاں سونی در و دیوار چپ

کھڑکیاں سونی در و دیوار چپ ساری گلیاں اور بھرے بازار چپ کس قیامت کی خبر آنے کو ہے گاؤں کے چوپال چپ اخبار چپ درمیاں ہے خوف کا دریا رواں میں یہاں خاموش وہ اس پار چپ اک صدا اس کو بلانے کے لیے اک صدا آئے مجھے ہر بار چپ کیسا قحط آدمیت ہے یہاں زندگانی کے سبھی آثار چپ کس قیامت کا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4819 سے 6203