قومی زبان

لمحہ لمحہ اک نئی سعئ بقا کرتی ہوئی

لمحہ لمحہ اک نئی سعئ بقا کرتی ہوئی کٹ رہی ہے زندگی خود کو فنا کرتی ہوئی تیری چپ ہے یا مرے اندر مچا کہرام ہے کوئی شے تو ہے زباں کو بے نوا کرتی ہوئی اپنے اندر ریزہ ریزہ ٹوٹ کر بکھرا ہوں میں ہے یہ کیا شے چور دل کا آئنا کرتی ہوئی کشت جاں سے دن کو کٹتی ہے نئے زخموں کی فصل رات آتی ہے ...

مزید پڑھیے

میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہے

میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہے پھر کس کا نام ہے جو ترے در پہ نقش ہے پھینکا تھا ہم پہ جو کبھی اس کو اٹھا کے دیکھ جو کچھ لہو میں تھا اسی پتھر پہ نقش ہے شاید ادھر سے گزرا ہے اک بار تو کبھی تیری نظر کا لمس جو منظر پہ نقش ہے تیرا خیال مجھ سے گو مل کر بچھڑ گیا اس کی مہک کا عکس مرے گھر ...

مزید پڑھیے

میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں

میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں تو مری تصویر ہے میں تیرے پس منظر میں ہوں اپنا مرکز ڈھونڈتا ہوں دائروں میں کھو کے میں کتنے جنموں سے میں اک محدود سے چکر میں ہوں خود ہی دستک دے رہا ہوں اپنے در پر دیر سے گھر سے باہر رہ کے بھی جیسے میں اپنے گھر میں ہوں میں وہ آذر ہوں جسے ...

مزید پڑھیے

کرب ہرے موسم کا تب تک سہنا پڑتا ہے

کرب ہرے موسم کا تب تک سہنا پڑتا ہے پت جھڑ میں تو پات کو آخر جھڑنا پڑتا ہے کب تک اوروں کے سانچے میں ڈھلتے جائیں گے کسی جگہ تو ہم کو آخر اڑنا پڑتا ہے صرف اندھیرے ہی سے دیے کی جنگ نہیں ہوتی تیز ہواؤں سے بھی اس کو لڑنا پڑتا ہے سہی سلامت آگے بڑھتے رہنے کی خاطر کبھی کبھی تو خود بھی ...

مزید پڑھیے

خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں

خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں خود اپنے عہد گزشتہ کی اک صدا ہوں میں سمیٹ لاتا ہوں موتی تمہاری یادوں کے جو خلوتوں کے سمندر میں ڈوبتا ہوں میں تمہیں بھی مجھ میں نہ شاید وہ پہلی بات ملے خود اپنے واسطے اب کوئی دوسرا ہوں میں جو دے سکو تو خنک سائے دو محبت کے خیال و خواب کی دنیا ...

مزید پڑھیے

ساحل پہ رک کے سوئے سمندر نہ دیکھیے

ساحل پہ رک کے سوئے سمندر نہ دیکھیے باہر سے اپنے آپ کا منظر نہ دیکھیے اپنے وجود ہی پہ نہ گزریں کئی شکوک سائے کو اپنے قد کے برابر نہ دیکھیے جاگے تو محض ریت ہی پائیں گے ہر طرف گر ہو سکے تو خواب میں ساگر نہ دیکھیے اپنے ہی سر کے زخم کا کچھ کیجیے علاج آیا ہے کس طرف سے یہ پتھر نہ ...

مزید پڑھیے

ایک ہنگامہ بپا ہے مجھ میں

ایک ہنگامہ بپا ہے مجھ میں کوئی تو مجھ سے بڑا ہے مجھ میں انکساری مرا شیوہ ہے مگر اک ذرا زعم انا ہے مجھ میں مجھ سے وہ کیسے بڑا ہے کہیے جب خدا میرا چھپا ہے مجھ میں میں نہیں ہوں تو مرا کون ہے یہ اتنے جنموں جو رہا ہے مجھ میں وہی لمحے تو غزل چھیڑتے ہیں جن کی گم گشتہ صدا ہے مجھ میں دشت ...

مزید پڑھیے

عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر

عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر پرورش پائی ہے اپنے خون ہی کی دھار پر چاہنے والے کی اک غلطی سے برہم ہو گیا فخر تھا کتنا اسے خود پیار کے معیار پر رات گہری میری تنہائی کا ساگر اور پھر تیری یادوں کے سلگتے دیپ ہر منجدھار پر شام آئی اور سب شاخوں کی گلیاں سو گئیں موت کا سایا سا ...

مزید پڑھیے

پھر اس کے بعد کا کوئی نہ ہو گزر مجھ میں

پھر اس کے بعد کا کوئی نہ ہو گزر مجھ میں کبھی تو ایک پل اے دوست یوں ٹھہر مجھ میں جو خود میں جھانکوں تو سناٹے سنسناتے ہیں کوئی تو کر گیا ہے رات یوں بسر مجھ میں بھٹکتا پھرتا ہوں سنسان رہ گزاروں پر بسا ہوا ہے کسی یاد کا نگر مجھ میں عجب نہیں کئی موتی بھی تیرے ہاتھ لگیں ذرا لے کام تو ...

مزید پڑھیے

دن میں اس طرح مرے دل میں سمایا سورج

دن میں اس طرح مرے دل میں سمایا سورج رات آنکھوں کے افق پر ابھر آیا سورج اپنی تو رات بھی جلتے ہی کٹی دن کی طرح رات کو سو تو گیا دن کا ستایا سورج صبح نکلا کسی دلہن کی دمک رخ پہ لیے شام ڈوبا کسی بیوہ سا بجھایا سورج رات کو میں مرا سایا تھے اکٹھے دونوں لے گیا چھین کے دن کو مرا سایا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4820 سے 6203