لمحہ لمحہ اک نئی سعئ بقا کرتی ہوئی
لمحہ لمحہ اک نئی سعئ بقا کرتی ہوئی کٹ رہی ہے زندگی خود کو فنا کرتی ہوئی تیری چپ ہے یا مرے اندر مچا کہرام ہے کوئی شے تو ہے زباں کو بے نوا کرتی ہوئی اپنے اندر ریزہ ریزہ ٹوٹ کر بکھرا ہوں میں ہے یہ کیا شے چور دل کا آئنا کرتی ہوئی کشت جاں سے دن کو کٹتی ہے نئے زخموں کی فصل رات آتی ہے ...