قومی زبان

کوئی مرتا نہیں خساروں سے

کوئی مرتا نہیں خساروں سے ہم نے سیکھا ہے آبشاروں سے جو مزاجاً یزید ہوتے ہیں دور رہتا ہوں ایسے یاروں سے بے زبانوں سے بات کرنی تھی کام لینا پڑا اشاروں سے تیرے لہجے کا ذائقہ بھی دوست آخرش جا ملا اناروں سے درس ہے یہ ہمارے آقا کا پیار کرنا ہے بے سہاروں سے

مزید پڑھیے

تڑپتے دل کو کافی ہے بس اتنا واہمہ رکھنا

تڑپتے دل کو کافی ہے بس اتنا واہمہ رکھنا بچھڑنے والا لوٹے گا ہمیشہ حوصلہ رکھنا چلے جائیں گے ہم بھی دوستو دنیائے فانی سے فقط اتنی گزارش ہے دعا کا سلسلہ رکھنا کہ ہم بد بخت لوگوں میں بس اک یہ ہی برائی ہے دعائیں دیر سے لگتی ہیں جانی حوصلہ رکھنا تمہیں خوشیاں مبارک ہوں ہمارے غم ...

مزید پڑھیے

جانے کس خاک سے بنا ہے وہ

جانے کس خاک سے بنا ہے وہ جھوٹ پر جھوٹ بولتا ہے وہ عادی مجرم ہیں ہم محبت کے ہم سے پوچھو کہاں بکا ہے وہ لڑ کے میسج کرے گا سوری کا ایسے پہلے بھی کر چکا ہے وہ کیا ہمیں بھی معاف کر دے گا رکھ رکھاؤ تو جانتا ہے وہ اس کمینے کی بات کرتے ہو خیر ہم کو تو مانتا ہے وہ کوزہ خود بول کر بتائے ...

مزید پڑھیے

خیال و خواب تک تازہ رہیں گے جو بھی ہوگا

خیال و خواب تک تازہ رہیں گے جو بھی ہوگا جئیں گے اور تری خاطر مریں گے جو بھی ہوگا تری ناراضگی بھی ختم کرنی ہے ابھی تو تماشا سادھ کر جوکر بنیں گے جو بھی ہوگا تمہارے بن گزارا ہے تو مشکل یار پھر بھی کسی صورت بھی لیکن ہم کریں گے جو بھی ہوگا تری یادوں کے جلتے دیپ ہیں ان طاقچوں ...

مزید پڑھیے

گہہ مشق ستم گاہ کرم یاد کریں گے

گہہ مشق ستم گاہ کرم یاد کریں گے جب تک بھی جئیں گے تمہیں ہم یاد کریں گے جب ذکر چھڑے گا کہیں ارباب وفا کا اپنے دل مرحوم کو ہم یاد کریں گے دل اپنا ہے دل پر تو نہیں زور کسی کا کعبہ میں بھی ہم تجھ کو صنم یاد کریں گے جو سجدہ گہہ عشق کی رفعت سے ہیں واقف وہ لوگ مرا نقش قدم یاد کریں ...

مزید پڑھیے

خدشے تھے شام ہجر کے صبح خوشی کے ساتھ

خدشے تھے شام ہجر کے صبح خوشی کے ساتھ تاریکیاں بھی پائی گئیں روشنی کے ساتھ جاری ہے صبح و شام جفاؤں کا سلسلہ کتنا ہے ان کو ربط مری زندگی کے ساتھ اب دیکھنا ہے مجھ کو ترے آستاں کا ظرف سر کو جھکا رہا ہوں بڑی عاجزی کے ساتھ زخم جگر کھلا تو تبسم کہا گیا انصاف ہو سکا نہ چمن میں کلی کے ...

مزید پڑھیے

جہاں نفاق کے شعلے ملیں بجھا کے چلو

جہاں نفاق کے شعلے ملیں بجھا کے چلو چراغ امن و محبت کا تم جلا کے چلو تمہارے بعد بھی آئیں گے قافلے یارو ملیں جو راہ میں کانٹے انہیں ہٹا کے چلو ابھی تو کام انہیں بھی بہت سے کرنے ہیں نمود صبح ہے سوتوں کو بھی جگا کے چلو اشارہ وقت کا یہ ہے کہ اے جہاں والو نیاز و ناز کی تفریق کو مٹا کے ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھو کیسے شب انتظار گزری ہے

نہ پوچھو کیسے شب انتظار گزری ہے بھلا ہو دل کا بہت بیقرار گزری ہے ہزار مصلحتیں جس میں کار فرما ہوں وہ اک نگاہ کرم ہم پہ بار گزری ہے ہے اصطلاح محبت میں جس کا نام جنوں وہ ایک رسم بڑی پائیدار گزری ہے ضرور اس نے ترے پیرہن کو چوما تھا جو اس طرف سے صبا مشک بار گزری ہے وہ باغباں بھی ...

مزید پڑھیے

ابھرتے چاند ستاروں کا تذکرہ بھی کرو

ابھرتے چاند ستاروں کا تذکرہ بھی کرو خزاں کے ساتھ بہاروں کا تذکرہ بھی کرو گلوں کی چھاؤں میں آرام کرنے والو کبھی ہماری راہ کے خاروں کا تذکرہ بھی کرو ہمیشہ سیل و تلاطم کا ذکر کرتے ہو سکوں بہ دوش کناروں کا تذکرہ بھی کرو رباب و چنگ کے نغموں سے گر ملے فرصت شکستہ ساز کے تاروں کا ...

مزید پڑھیے

شکستہ دل کی خوشی دوستو خوشی تو نہ تھی

شکستہ دل کی خوشی دوستو خوشی تو نہ تھی ہنسی پہ وقت کے اک طنز تھا ہنسی تو نہ تھی تمام عمر جسے روشنی سمجھتے رہے فریب چشم تمنا تھا روشنی تو نہ تھی کسی کے بعد جو گزری کسی کی حسرت میں وہ اک سزائے محبت تھی زندگی تو نہ تھی جسے زمانہ نے گل کی ہنسی کا نام دیا وہ ایک کیفیت کرب تھی ہنسی تو نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4818 سے 6203