یہاں تو شہر سے دیوار و در ہی غائب ہیں (ردیف .. ا)
یہاں تو شہر سے دیوار و در ہی غائب ہیں چھتوں کے بعد مکانوں کو لے اڑی ہے ہوا تمام شہر تھا سڑکوں پہ آج رات گئے سنا ہے پھر سے جوانوں کو لے اڑی ہے ہوا سفر ہے رات کا صحرا سے واپسی کیسی تمہارے سارے نشانوں کو لے اڑی ہے ہوا چلے گی وقت کی آندھی تو کس کو بخشے گی نہ جانے کتنے زمانوں کو لے اڑی ...