قومی زبان

یہاں تو شہر سے دیوار و در ہی غائب ہیں (ردیف .. ا)

یہاں تو شہر سے دیوار و در ہی غائب ہیں چھتوں کے بعد مکانوں کو لے اڑی ہے ہوا تمام شہر تھا سڑکوں پہ آج رات گئے سنا ہے پھر سے جوانوں کو لے اڑی ہے ہوا سفر ہے رات کا صحرا سے واپسی کیسی تمہارے سارے نشانوں کو لے اڑی ہے ہوا چلے گی وقت کی آندھی تو کس کو بخشے گی نہ جانے کتنے زمانوں کو لے اڑی ...

مزید پڑھیے

سیپی سادہ منہ جب کھولے کرنوں کی تب بارش ہو (ردیف .. ل)

سیپی سادہ منہ جب کھولے کرنوں کی تب بارش ہو موتی کی دو مالائیں اور ان پر چمکے گنگا جل کالی لٹ ہے ناگن جیسی کان کی لوہے اس کا پھن اس کی نظروں میں دھوکا ہے اس کی باتوں میں ہے چھل اس کا چلنا جیسے ہلنا پھولوں کی اک ڈالی کا شاخ کمر ہے نازک ایسے لہراتی یا کھاتی بل آج مدھر ہے لہجہ تیرا ...

مزید پڑھیے

جہاں ہم تمہاری پناہوں میں تھے

جہاں ہم تمہاری پناہوں میں تھے وہاں سبز سائے بھی راہوں میں تھے میاں دھول آنکھوں میں جھونکی گئی کئی لوگ میری نگاہوں میں تھے وہی محتسب ہیں انہیں کیا کہیں وہ شامل ہمارے گناہوں میں تھے زمانہ مرے ساتھ تب بھی نہ تھا مگر تم مرے خیر خواہوں میں تھے کہیں پر تو بجلی گری ہے ایازؔ کئی ...

مزید پڑھیے

چھتیں اڑی ہیں دراڑیں پڑیں مکانوں میں

چھتیں اڑی ہیں دراڑیں پڑیں مکانوں میں ستم کی گھاس اگی ہے نگار خانوں میں لہو لہو تھا بدن اس کا ہاتھ ٹوٹے تھے حنا حنا وہ پکاری تھی آستانوں میں گھروں میں آج وہ کرب و بلا کا منظر تھا کہ سہمے سہمے پرندے تھے آشیانوں میں وہ جن کے نام پہ نکلیں گی کل کی تعبیریں کئے ہیں خواب مقفل وہ قید ...

مزید پڑھیے

شب فراق میں مرے وہ بال و پر کتر گیا

شب فراق میں مرے وہ بال و پر کتر گیا پرند اس کی یاد کا نئی اڑان بھر گیا یہاں پہ خون بہہ گیا وہاں پہ لاش گر پڑی نہ جانے کون شخص تھا سفر تمام کر گیا کسی کی نیند ٹوٹتی کوئی تو رات جاگتا اسی نگر میں رات کو کسی کا خواب مر گیا نہ طائروں کا غول ہی ہماری چھت پہ آ رکا نہ اپنے گھر کے سامنے وہ ...

مزید پڑھیے

عشق میں کوئی ہمسری کرتا

عشق میں کوئی ہمسری کرتا ہم کو الزام سے بری کرتا ایک بوتل میں وہ سما جاتی اس کو جادو سے میں پری کرتا چھیڑ معصوم سی چلا کرتی وہ بھی ہنس ہنس کے دلبری کرتا اس نے جنگل جلا دیے لیکن شاخ اک پیڑ کی ہری کرتا چاند آتا جو روز آنگن میں ساتھ میرے سخن وری کرتا شاعری ہم پہ چھوڑ دینی تھی مرزا ...

مزید پڑھیے

ان گنت پیڑ تھے پیڑوں پہ جھکا تھا بادل

ان گنت پیڑ تھے پیڑوں پہ جھکا تھا بادل میرے بچپن میں یہاں پر تھا گھنا سا جنگل گود میں ماں کی پڑا رہتا کہانی سنتا کوئی طوطا کسی مینا کے لگاتا کاجل یہی سورج تھا اسی طرح دہکتے دن تھے میرے سر پر سے نہ بنتا کبھی ماں کا آنچل میری نظروں میں وہ چھوٹی سی گلی ہے اب تک میرے آنے پہ وہ چپکے سے ...

مزید پڑھیے

آس میں کاٹے بیس برس اور یاس میں کاٹے بیس برس

آس میں کاٹے بیس برس اور یاس میں کاٹے بیس برس کچھ نہ پوچھو ہم نے کیسے کاٹے ہیں چالیس برس جس نے ہم کو عشق سکھایا جس سے سمجھے سارے گر اس کی عمر تھی سولہ سترہ اپنی تھی اکیس برس آتے جاتے ہر موسم میں اس کا جادو قائم ہے بیس برس سے دیکھ رہا ہوں لگتی ہے انیس برس میرا جسم بھی سوکھ چلا ہے ...

مزید پڑھیے

میں سپیدے کا پیڑ ہوں لیکن

میں سپیدے کا پیڑ ہوں لیکن برف نے میری ٹہنیاں توڑیں اس کے پردے ہوا ہلا پاتی میرے کمرے کی کھڑکیاں توڑیں میرے بچپن میں ایک بوڑھا تھا اس کے بیٹوں نے لکڑیاں توڑیں وہ اترنے سے خوف کھاتا تھا اس نے چڑھتے ہی سیڑھیاں توڑیں اس حویلی کے لوگ سوئے تھے ہم نے دستک میں انگلیاں توڑیں اسپ ...

مزید پڑھیے

جب اس نے واپسی کے راستے رکھے ہوئے ہیں

جب اس نے واپسی کے راستے رکھے ہوئے ہیں نظر میں ہم نے بھی کچھ زاویے رکھے ہوئے ہیں یہ کیسا کھیل ہے تیری گلی کے باسیوں نے منڈیروں پر سجا کر آئنے رکھے ہوئے ہیں مزا اب زندگی کا ہم کو بھی آنے لگا ہے کہ ہم نے دوستوں سے فاصلے رکھے ہوئے ہیں وفا کے راستے میں آج بھی وہ مشکلیں ہیں کنارے پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4816 سے 6203