قومی زبان

منتشر منتشر ہیں خواب بہت

منتشر منتشر ہیں خواب بہت روشنی بن گئی عذاب بہت دل سلامت تو روشنی کے لئے آفتاب اور ماہتاب بہت قطرے قطرے میں ہے طلسم ہزار ذرے ذرے میں ہے سیراب بہت عشرت تابش گہر نہ سہی انبساط سرشک ناب بہت اک ہمیں تو نہیں ہیں خاک بسر ہم سے ہیں خانماں خراب بہت دھوپ سے تمتما رہا ہے وجود ہے ابھی ...

مزید پڑھیے

فرحت بوئے سمن نکہت ریحان غزل

فرحت بوئے سمن نکہت ریحان غزل تجھ سے روشن ہے مری شمع شبستان غزل بوئے گل لے کے صبا آئی گھٹائیں چھائیں پھر اٹھا قلزم جذبات میں طوفان غزل آسماں چاند ستاروں سے سجا شمع جلی شام کیا آئی کہ روشن ہوا ایوان غزل ظلم ہے ریشمیں احساس پہ خنجر رکھنا نکتہ چیں ہوش کہ نازک ہے رگ جان غزل ذرہ ...

مزید پڑھیے

تم ہو قطرہ تو قدم حد سے نہ باہر رکھنا

تم ہو قطرہ تو قدم حد سے نہ باہر رکھنا دل مگر سات سمندر کے برابر رکھنا زیب دیتی تو ہے دستار مگر سرو قدو سر ذرا طرۂ دستار سے باہر رکھنا جستجو اپنی ضرورت ہے طلب اپنی غرض کام اپنا ہے تو کیوں بار کسی پر رکھنا زہر احساس کی تلخی لئے گھر مت جانا دن تو کجلایا مگر رات منور رکھنا چارپائی ...

مزید پڑھیے

دوں میں تسکین روح کو اپنی

دوں میں تسکین روح کو اپنی مجھ کو کوئی خبر تو دو اپنی مسکرانا بنا ہے تیرے لیے مستیوں میں مگن رہو اپنی جو منافق ہیں ان سے دور رہو دھڑکنوں کی سدا سنو اپنی تم کو اک اور بھی نصیحت ہے سب کی سن لو مگر کرو اپنی اپنا رونا لگا ہی رہنا ہے تم سناؤ نا کچھ کہو اپنی

مزید پڑھیے

ہمیں جب کام سے فرصت ملے گی

ہمیں جب کام سے فرصت ملے گی تمہیں اس وقت ہی چاہت ملے گی جنازے پر ضرور آنا ہمارے وہاں تم کو نئی عبرت ملے گی ہماری دھڑکنوں کو سننے والے یہاں ہر پل تمہیں حیرت ملے گی روایت سے بھلا کب منحرف ہیں ان آنکھوں میں مگر جدت ملے گی تمہارا نام کتبے پر لکھا ہے ہماری قبر کو شہرت ملے ...

مزید پڑھیے

دلوں پر حکمرانی ہے اسی کی

دلوں پر حکمرانی ہے اسی کی یہ قصہ اور کہانی ہے اسی کی یہاں قبضہ نہ کرنا بھول کر بھی یہاں بس راجدھانی ہے اسی کی کہ ہم بد بخت لوگوں میں یقیناً یہ ساری کامرانی ہے اسی کی تبھی تو شہر سارا جا رہا ہے مری جاں میزبانی ہے اسی کی یہ پھولوں کے نئے پیغام آنا یقیناً مہربانی ہے اسی کی سبھی ...

مزید پڑھیے

پھول کلیاں بھی ہم بچھائیں گے

پھول کلیاں بھی ہم بچھائیں گے دل کی دھرتی کو یوں سجائیں گے ہجر کاٹیں گے اور خوشی کے ساتھ ایک دو یار بھی بنائیں گے پیار آفت ہے اس زمانے میں ہر نئے شخص کو بتائیں گے منتیں بعد میں کریں گے تری پہلے تھوڑا سا حق جتائیں گے اپنے ہاتھوں میں سبز پرچم ہے امن کے گیت گنگنائیں‌ گے بوسہ لیں ...

مزید پڑھیے

خوشی سے جھومتی پھرتی ہے اور پھر مسکراتی ہے

خوشی سے جھومتی پھرتی ہے اور پھر مسکراتی ہے مری تازہ غزل وہ یاد کر کے گنگناتی ہے تمہیں سگریٹ سے نفرت ہے تو یہ کیوں بھول بیٹھے تم تمہیں جس سے محبت ہے اسے سگریٹ بچاتی ہے نہیں معلوم میرا حافظہ کس سمت رہتا ہے مگر وہ یاد رکھتی ہے جنم دن تک مناتی ہے اسے بجھتے دیوں سے اتنی الجھن ہے کہ ...

مزید پڑھیے

یہ سنتے ہی خوشی سے ہم بھی پیچھے آ گئے ہیں

یہ سنتے ہی خوشی سے ہم بھی پیچھے آ گئے ہیں وہ صاف انداز میں سب کچھ ہمیں فرما گئے ہیں سہولت سے کنارا کر کے کار خیر میں بھی ستم سارے ہماری ذات پر وہ ڈھا گئے ہیں اک ایسا حادثہ در پیش آیا تھا یہاں پر پرندے ہی نہیں اشجار بھی گھبرا گئے ہیں بھلانے کا کوئی بھی راستہ چھوڑا نہیں ہے ارے ...

مزید پڑھیے

ٹکڑے ٹکڑے جب بٹ جاؤں شام گئے

ٹکڑے ٹکڑے جب بٹ جاؤں شام گئے دن کا سارا قرض چکاؤں شام گئے گھر سے چلتے میں نے اکثر سوچا ہے شاید ہی میں لوٹ کے آؤں شام گئے سارا دن اس الجھن ہی میں بیت گیا کیسے اپنا دل بہلاؤں شام گئے دھوپ کے مارے لوگوں کو بھی صحرا میں مل جاتی ہے پیڑ کی چھاؤں شام گئے کس کاندھے پر اشک بہاؤں شام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4815 سے 6203