قومی زبان

ہے کبھی دل کبھی نگاہ سے جنگ

ہے کبھی دل کبھی نگاہ سے جنگ روز اک خواہش گناہ سے جنگ روز غم کے نئے محاذ پہ ہوں روز لڑنا نئی سپاہ سے جنگ چار سو گرم ہے محاذ کوئی کہیں منصف کہیں گواہ سے جنگ مدتوں سے یہی تماشا ہے خواہشوں کی دل تباہ سے جنگ سنگ بھی ہاتھ میں نہیں کوئی چھڑ گئی ہے سگان راہ سے جنگ میرے اندر سے کوئی ...

مزید پڑھیے

ٹھہر گیا ہے ایک ہی منظر کمرے میں

ٹھہر گیا ہے ایک ہی منظر کمرے میں میں تیری تصویر دسمبر کمرے میں میں تیری یادوں کی بارش تیز ہوا تنہا بھیگ رہا ہے بستر کمرے میں میں دریا کے پار کی سوچ رہا ہوں اور در آیا ہے ایک سمندر کمرے میں لے آئی ہے گلیوں میں اک آگ مجھے چھوڑ آیا ہوں ٹھنڈا بستر کمرے میں خوف زدہ ہیں گھر کی ساری ...

مزید پڑھیے

سختیوں سے گزر رہا ہوں میں

سختیوں سے گزر رہا ہوں میں گویا قسطوں میں مر رہا ہوں میں دوستوں کی نوازشیں توبہ اپنے سایہ سے ڈر رہا ہوں میں ظلمتوں کا غرور ٹوٹے گا نور بن کر ابھر رہا ہوں میں ایک عالم تو یوں بھی گزرا ہے آپ سے بے خبر رہا ہوں میں کوئی آ کر سمیٹ لے مجھ کو ریزہ ریزہ بکھر رہا ہوں میں چن کے کانٹے ...

مزید پڑھیے

کیوں یہ حسن نظر دیا تو نے

کیوں یہ حسن نظر دیا تو نے وقف آلام کر دیا تو نے مندمل جو کبھی نہ ہو پائے ایسا زخم جگر دیا تو نے کون منصور جو چڑھے سولی یوں تو سب کو جگر دیا تو نے ڈوبتی نبض کرب سناٹے اور حکم سفر دیا تو نے زندگی چھاؤں کو ترستی ہے کیسا جلتا سفر دیا تو نے تاج بنتے ہی ہاتھ کٹتے ہیں کیسا دست ہنر دیا ...

مزید پڑھیے

جو گھر کی بات باہر بولتا ہے

جو گھر کی بات باہر بولتا ہے وہ میرا ہی برادر بولتا ہے اجالے اب ہمیں ڈسنے لگے ہیں سکوت شب کا منظر بولتا ہے جلیں گے ان غریبوں کے مکاں پھر یہاں کا ہر ستم گر بولتا ہے موثر ہو جو انداز تخاطب پڑا راہوں میں پتھر بولتا ہے کسی کا قتل ہوگا پھر یقیناً چھپا ہاتھوں میں خنجر بولتا ہے رویہ ...

مزید پڑھیے

اب تحفظ نہیں ہے جانوں کا

اب تحفظ نہیں ہے جانوں کا یہ ہے احسان حکمرانوں کا بھوک افلاس اور بیماری مسئلہ ہے کئی گھرانوں کا ساری بستی نگل گیا طوفاں کیا چلے گا پتا مکانوں کا ہو گیا کتنا لالچی انساں بن گیا سانپ وہ خزانوں کا تولتے ہیں پروں کو وہ اپنے علم جن کو نہیں اڑانوں کا صرف باقی رہا کتابوں میں ذکر اب ...

مزید پڑھیے

کبھی ناکامیوں کا اپنی ہم ماتم نہیں کرتے

کبھی ناکامیوں کا اپنی ہم ماتم نہیں کرتے مقدر میں جو غم لکھے ہیں ان کا غم نہیں کرتے تمہارے نقش پا پر جو نگاہیں اپنی رکھتے ہیں وہ سر دیر و حرم کے سامنے بھی خم نہیں کرتے گھٹاؤں کو برسنے کا اشارہ ہی نہیں ملتا وہ جب تک زلف اپنے دوش پر برہم نہیں کرتے مسائل دور حاضر کے ہیں موضوع غزل ...

مزید پڑھیے

پیڑ آنگن کے ترے جب بارور ہو جائیں گے

پیڑ آنگن کے ترے جب بارور ہو جائیں گے دوستوں کے ہاتھ کے پتھر ادھر ہو جائیں گے میرے اشکوں کے یہ قطرے لاکھ بے قیمت سہی جب ترے دامن پہ ٹپکیں گے گہر ہو جائیں گے کیا خبر تھی ہم ادھر گھر میں جلائیں گے چراغ اس طرف جھونکے ہوا کے با خبر ہو جائیں گے اس جہان بے اماں میں برگ آوارہ ہیں ہم جب ...

مزید پڑھیے

ہمارے کام الٹے پڑ گئے ہیں

ہمارے کام الٹے پڑ گئے ہیں سبھی کے سرد لہجے پڑ گئے ہیں تمہاری بات سنتے ہی اچانک مرے سب رنگ پھیکے پڑ گئے ہیں کسی تصویر پر ہے کام جاری کئی آنکھوں پہ حلقے پڑ گئے ہیں تری آنکھوں کا پیچھا کرتے کرتے مرے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے ہیں تمہاری کر رہیں ہیں جب سے غیبت در و دیوار نیلے پڑ گئے ...

مزید پڑھیے

بڑی مشکل سے کی تھی یار ہمت تجھ کو کھونے کی

بڑی مشکل سے کی تھی یار ہمت تجھ کو کھونے کی بتا کیا شرط ہے تیری ذرا نزدیک ہونے کی چلے آتے ہیں تیرے گاؤں جب یہ دل تڑپتا ہے ضرورت ہی نہیں پڑتی ہے مجھ کو رونے دھونے کی خوشی سے سر جھکا لیتا ہوں جب یہ یاد آتا ہے مری ماں نے نصیحت کی تھی مجھ کو مٹی ہونے کی کوئی بے چینی لاحق ہے کہ آنکھیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4817 سے 6203