قومی زبان

خیر سے فرض کچھ ادا تو ہو

خیر سے فرض کچھ ادا تو ہو جس سے راضی ترا خدا تو ہو ابر رحمت کو جوش آ جائے لب پہ ایسی کوئی دعا تو ہو روبرو ہوگی خود بخود منزل گامزن کوئی قافلہ تو ہو چھو تو لوں گا بلندیوں کو مگر دل میں پرجوش ولولہ تو ہو درد سے آشنا ہوئے تو کیا درد سے دل بھی آشنا تو ہو ہم تو تسلیم کر ہی لیں لیکن حق ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ گھر کے پردوں سے

اس سے پہلے کہ گھر کے پردوں سے ٹیڈی پتلون کوئی سلوا لوں اس سے پہلے کہ تجھ کو دے کر دل تیرے کوچے میں خود کو پٹوا لوں اس سے پہلے کہ تیری فرقت میں خودکشی کی سکیم اپنا لوں اس سے پہلے کہ اک تری خاطر نام غنڈوں میں اپنا لکھوا لوں میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا اس سے پہلے کہ وہ عدو کم بخت تیرے ...

مزید پڑھیے

اب یہ کاروبار کریں

اب یہ کاروبار کریں غیروں سے بھی پیار کریں البم کھول کے دیکھیں اور یادوں کو گلزار کریں مر جائے گا اپنی موت دشمن پر کیوں وار کریں کب تک خالی بیٹھیں ہم مل کر ذکر یار کریں چاہت کے ہر جذبے کا برجستہ اظہار کریں سوچ کے اس کے بارے میں جینا کیوں دشوار کریں نفرت شور شرابے سے خاموشی سے ...

مزید پڑھیے

ان کے در پہ آنکھ بچھائے بیٹھے ہیں

ان کے در پہ آنکھ بچھائے بیٹھے ہیں بے مطلب کی آس لگائے بیٹھے ہیں سارے عاشق سر کے بل اور دو زانو گہری سوچ میں غوطہ کھائے بیٹھے ہیں مت جا ان کے در دیوانے پنکھ پسار وہ یادوں کی شمع جلائے بیٹھے ہیں قربانی کا شوق اگر ہے بے شک جا وہ خنجر پر دھار لگائے بیٹھے ہیں ان کی غزلیں ان کی نظمیں ...

مزید پڑھیے

نہ ہوتی بھیڑ رندوں کی تو میخانے کدھر جاتے

نہ ہوتی بھیڑ رندوں کی تو میخانے کدھر جاتے یہ مے نوشی کہاں ہوتی یہ پیمانے کدھر جاتے اگر انسان بن جاتے کبھی شیخ و برہمن بھی تو یہ کعبہ کہاں ہوتا یہ بت خانے کدھر جاتے چراغ خانہ سے وہ بن گئے ہیں شمع محفل کی اگر ایسا نہ ہوتا پھر یہ پروانے کدھر جاتے ہماری بادہ نوشی پر ہوا حیران کیوں ...

مزید پڑھیے

ہندو نہ بن سکا میں مسلماں نہ بن سکا

ہندو نہ بن سکا میں مسلماں نہ بن سکا گیتا سنی نہ حافظ قرآں نہ بن سکا میں درد سر تو بن گیا ہر ایک کے لیے لیکن کسی کے درد کا درماں نہ بن سکا مسند نشیں نہ بن سکا یہ اور بات تھی صد حیف تیرے در کا بھی درباں نہ بن سکا خود میں سما کے خود کو ہی کرتا رہا سلام اپنے سوا کسی کا ثنا خواں نہ بن ...

مزید پڑھیے

قسمت کی بات کر نہ مقدر کی بات کر

قسمت کی بات کر نہ مقدر کی بات کر حسن عمل کی حسن تدبر کی بات کر کر اپنے گھر کی بات تو اوقات اپنی دیکھ دارا کی بات کر نہ سکندر کی بات کر کیا غم جو مال و زر سے نہیں فیضیاب تو شکوہ نہ کر کسی سے مقدر کی بات کر جو کچھ ملا ہے تجھ کو مقدر کی دین ہے عقل و ہنر نہ حسن تدبر کی بات کر شاعر ہے ...

مزید پڑھیے

سودائے عشق خام تو ہر اک بشر میں ہے

سودائے عشق خام تو ہر اک بشر میں ہے مجنوں سا ضبط و جوش و جنوں کس کے سر میں ہے اک میں ہی مدح گو نہیں سرکار آپ کا چرچا تمہارے حسن کا ہر ایک گھر میں ہے اللہ رے نور مصحف رخسار کی دمک یہ تاب یہ چمک کہاں لعل و گہر میں ہے گھائل کیے ہزار تو لاکھوں جلا دئے کیا بات ان کی نگۂ جادو اثر میں ...

مزید پڑھیے

تا بہ افلاک اگر اپنی رسائی ہوتی

تا بہ افلاک اگر اپنی رسائی ہوتی کچھ تعجب نہیں قبضے میں خدائی ہوتی ناصحا ہم کو طبیعت پہ جو قابو ہوتا دل سی دولت سر بازار گنوائی ہوتی موت نے مجھ کو فراموش کیا خوب کیا آپ نے آنکھ نہ اے کاش چرائی ہوتی میری مٹی کو ٹھکانے جو لگایا تھا تجھے سوئے بت خانہ یہ کم بخت اڑائی ہوتی سب کو تم ...

مزید پڑھیے

اے کاش کہ ٹوٹے ترا پندار کسی دن

اے کاش کہ ٹوٹے ترا پندار کسی دن کر لے تو مرے پیار کا اقرار کسی دن یہ جھانکنا چھپ چھپ کے ہمیشہ نہ رہے گا گر جائے گی یہ بیچ کی دیوار کسی دن حالات کے محبس سے نکالو انہیں ورنہ مر جائیں گے گھٹ کر یہاں خوددار کسی دن سرشار کبھی میں بھی بہت تھا اسے مل کر پچھتائے گا تو بھی اے مرے یار کسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4802 سے 6203