قومی زبان

روٹھ جانے کی عادتیں نہ گئیں

روٹھ جانے کی عادتیں نہ گئیں دل جلانے کی عادتیں نہ گئیں زخم کھا کر بھی تجھ سے نام ترا گنگنانے کی عادتیں نہ گئیں پیار سے جو بھی مل گیا اس کو دکھ سنانے کی عادتیں نہ گئیں چاند کی شرم سے نقابوں میں منہ چھپانے کی عادتیں نہ گئیں دو دلوں کو اجاڑ کے ہنسنا نہ زمانے کی عادتیں نہ ...

مزید پڑھیے

غموں میں ڈھال گیا لوٹ کر نہیں آتا

غموں میں ڈھال گیا لوٹ کر نہیں آتا جو پچھلے سال گیا لوٹ کر نہیں آیا بچھڑ گیا ہے وہ خوشیاں سمیٹ کر اور غم مجھے سنبھال گیا لوٹ کر نہیں آیا عجب طلسم ہے اس کی حسین آنکھوں میں ادھر خیال گیا لوٹ کر نہیں آیا میں خود بھی سوچ میں گم ہوں کہ تیرے آنے سے کدھر ملال گیا لوٹ کر نہیں آیا عجیب ...

مزید پڑھیے

خوشبو کی طرح دل کے گلابوں میں رہے گا

خوشبو کی طرح دل کے گلابوں میں رہے گا وہ چاند ہمیشہ مرے خوابوں میں رہے گا بھیگی ہوئی آنکھوں سے گلے مل کے بچھڑنا وہ شخص سدا دل کے نصابوں میں رہے گا شاید میں ابھی اس کے جگر تک نہیں اترا شاید وہ ابھی اور نقابوں میں رہے گا سانسوں کی طرح میں تیری نس نس میں رہوں گا کھو کر تو مجھے خود ...

مزید پڑھیے

کیا لطف کہ وہ ظلم بھی جاری نہیں رکھتے

کیا لطف کہ وہ ظلم بھی جاری نہیں رکھتے کیا دوست ہیں کچھ لاج ہماری نہیں رکھتے ہم لپٹے ہوئے گھر سے بھی رہتے نہیں لیکن ہجرت کا کوئی خوف بھی طاری نہیں رکھتے اعجاز تخیل سے پہنچتے ہیں سر عرش ہم اہل ہنر کوئی سواری نہیں رکھتے رہنے پہ نہیں تم ہی جو تیار تو جاؤ ہم کوئی نشانی بھی تمہاری ...

مزید پڑھیے

چھپ چھپ کے ترے ہجر میں رونا تھا ہمارا

چھپ چھپ کے ترے ہجر میں رونا تھا ہمارا یہ حال کسی روز تو ہونا تھا ہمارا کر بیٹھے ہیں چور اس کو یہ بہتے ہوئے لمحے دل وقت کے ہاتھوں میں کھلونا تھا ہمارا ملاح بنا تھا تو ادا فرض بھی کرتا کیا تو نے سفینہ ہی ڈبونا تھا ہمارا پھر یہ کہ ہر اک سمت ہی اگنے لگے خنجر اک قطرۂ خوں دوستوں بونا ...

مزید پڑھیے

ایسا علاج حبس دل زار چاہئے

ایسا علاج حبس دل زار چاہئے اک در فصیل جاں میں ہوا دار چاہئے اک جھیل نغمہ ریز ہو اہل سفر کے ساتھ سر سبز دور تک صف اشجار چاہئے صحرا کف تموج دریا میں ہو اسیر شعلہ ہوا سے بر سر پیکار چاہئے یہ روح ایک طائر وحشی نژاد ہے ہر دم سفر کے واسطے تیار چاہئے اپنے فروغ حسن کی تشہیر کے ...

مزید پڑھیے

خواہش و خواب کے آگے بھی کہیں جانا ہے

خواہش و خواب کے آگے بھی کہیں جانا ہے عشق کے باب سے آگے بھی کہیں جانا ہے کیوں نہیں چھوڑتی آخر مجھے دنیا داری مال و اسباب سے آگے بھی کہیں جانا ہے دینے والے تو مجھے نیند نہ دے خواب تو دے مجھ کو مہتاب سے آگے بھی کہیں جانا ہے جانے کیوں روک رہی ہے مجھے اشکوں کی قطار چشم پر آب سے آگے ...

مزید پڑھیے

کون واں جبہ و دستار میں آ سکتا ہے

کون واں جبہ و دستار میں آ سکتا ہے گھر کا گھر ہی جہاں بازار میں آ سکتا ہے کس لیے خود کو سمجھتا ہے وہ پتھر کی لکیر اس کا انکار بھی اقرار میں آ سکتا ہے مجھ کو معلوم ہے دریاؤں کا کف ہے تجھ میں تو مرے موجۂ پندار میں آ سکتا ہے اے ہوا کی طرح اٹھکھیلیاں کرنے والے بل کبھی وقت کی رفتار میں ...

مزید پڑھیے

کسے خبر کہ ہے کیا کیا یہ جان تھامے ہوئے

کسے خبر کہ ہے کیا کیا یہ جان تھامے ہوئے زمین تھامے ہوئے آسمان تھامے ہوئے فضائیں کچھ بھی نہیں ہیں فقط نظر کا فریب کھڑا ہوا ہے کوئی آسمان تھامے ہوئے سفینہ موجۂ سیل بلا سے گرم ستیز ہوا کا بار گراں بادبان تھامے ہوئے گرا ہے کوئی جری اے فصیل شہر تباہ مزاحمت کا دریدہ نشان تھامے ...

مزید پڑھیے

زمیں کی خاک تو افلاک سے زیادہ ہے

زمیں کی خاک تو افلاک سے زیادہ ہے یہ بات پر ترے ادراک سے زیادہ ہے یہ آفتاب اسے دھوپ میں جلا دے گا جو چھاؤں پیڑ کی پوشاک سے زیادہ ہے خیال آتا ہے اکثر اتار پھینکوں بدن کہ یہ لباس مری خاک سے زیادہ ہے چھلک اٹھا ہوں اگر ساری کائنات سے میں تو کیا یہ خاک ترے چاک سے زیادہ ہے لباس دیکھ کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4803 سے 6203