قومی زبان

ایسی بھی کہاں بے سر و سامانی ہوئی ہے

ایسی بھی کہاں بے سر و سامانی ہوئی ہے جو سب کو مجھے دیکھ کے حیرانی ہوئی ہے دل میں تو تری یاد تھی اک بوند لہو کی آنکھوں میں جو آئی تو یہی پانی ہوئی ہے قلزم کا ہے اعزاز کہ تہہ داری کی ہر موج اس زلف گرہ گیر کی دیوانی ہوئی ہے کیا ڈھونڈنے نکلی ہے کسی قیس کو پاگل اس درجہ جو یہ باد ...

مزید پڑھیے

اب سوچئے تو دام تمنا میں آ گئے

اب سوچئے تو دام تمنا میں آ گئے دیوار و در کو چھوڑ کے صحرا میں آ گئے تصویر تھے جو اولیں سرشاریوں میں لوگ وہ زخم بن کے چشم تمنا میں آ گئے ان سے بھی پوچھئے کبھی اپنی زمیں کا کرب جو ساحلوں کو چھوڑ کے دریا میں آ گئے وحشت نے یوں تو خوب دیا ہر قدم پہ ساتھ لیکن ترے فریب دل آرا میں آ ...

مزید پڑھیے

عشق میں ہو کے مبتلا دل نے کمال کر دیا

عشق میں ہو کے مبتلا دل نے کمال کر دیا یوں ہی سی ایک شکل کو زہرہ جمال کر دیا ہم کو تمہاری بزم سے اٹھنے کا کچھ قلق نہیں جیسا خیال ہو سکا ویسا خیال کر دیا سیل روان عمر کے آگے ٹھہر سکا نہ کچھ وقت نے مہر حسن کو رو بہ زوال کر دیا ایک سم عذاب سا پھیل گیا وجود میں روز و شب فراق نے جینا ...

مزید پڑھیے

فتنہ اٹھا تو رزم گہہ خاک سے اٹھا

فتنہ اٹھا تو رزم گہہ خاک سے اٹھا سورج کسی کے پیرہن چاک سے اٹھا یہ دل اٹھا رہا ہے بڑے حوصلے کے ساتھ وہ بار جو زمیں سے نہ افلاک سے اٹھا سب معجزوں کے باب میں یہ معجزہ بھی ہو جو لوگ مر گئے ہیں انہیں خاک سے اٹھا سورج کی ضو چراغ شکستہ کی لو سے ہو قلزم کی موج دیدۂ نمناک سے اٹھا پوچھا جو ...

مزید پڑھیے

میں تو سویا بھی نہ تھا کیوں یہ در خواب گرا

میں تو سویا بھی نہ تھا کیوں یہ در خواب گرا میری آغوش میں بجھتا ہوا مہتاب گرا پھر سمندر کی طرف لوٹ چلی موج بہ موج پھر کوئی تشنہ دہن آ کے سر آب گرا عکس مسمار نہ کر دیدۂ حیراں کے سرشک میرے خوابوں کے در و بام نہ سیلاب گرا ڈھونڈ سیپی کی طرح دل کو نہ ساحل کے قریب یہ صدف دور بہت دور تہہ ...

مزید پڑھیے

اسی لیے تو ہار کا ہوا نہیں ملال تک

اسی لیے تو ہار کا ہوا نہیں ملال تک وہ میرے ساتھ ساتھ تھا عروج سے زوال تک نہیں ہے سہل اس قدر کہ جی سکے ہر ایک شخص بلائے ہجر کی رتوں سے موسم وصال تک ہماری کشت آرزو یہ دھوپ کیا جلائے گی تمہارا انتظار ہم کریں گے برشگال تک عمیق زخم اس قدر بہ دست و روز و شب ملے کہ مندمل نہ کر سکی دوائے ...

مزید پڑھیے

دستک ہوا کی سن کے کبھی ڈر نہیں گیا

دستک ہوا کی سن کے کبھی ڈر نہیں گیا لیکن میں چاند رات میں باہر نہیں گیا آنکھوں میں اڑ رہا ہے ابھی تک غبار ہجر اب تک وداع یار کا منظر نہیں گیا اے شام ہجر یار مری تو گواہی دے میں تیرے ساتھ ساتھ رہا گھر نہیں گیا تو نے بھی سارے زخم کسی طور سہ لیے میں بھی بچھڑ کے جی ہی لیا مر نہیں ...

مزید پڑھیے

امید کیا تھی اور وہ کیا دے گیا مجھے

امید کیا تھی اور وہ کیا دے گیا مجھے کچھ اپنا کچھ مرا ہی دیا دے گیا مجھے یہ وقت بھی عجیب ہے جو وقفے وقفے سے انداز سوچنے کا نیا دے گیا مجھے اس خوش مزاج دوست کے قربان جائیے ہر زخم مسکرا کے نیا دے گیا مجھے جو میرا ہم سفر تھا بڑا ہی عجیب تھا اپنی جگہ سے اٹھ کے جگہ دے گیا مجھے شاعر ...

مزید پڑھیے

آئے گا انقلاب ذرا دیکھتے رہو

آئے گا انقلاب ذرا دیکھتے رہو ہوگا وہ لا جواب ذرا دیکھتے رہو دار و رسن کی دیکھ لیں زینت بنے گا کون ہو کس کا انتخاب ذرا دیکھتے رہو مخمور آنکھیں اٹھ گئیں جو آسماں کی سمت برسے گی اب شراب ذرا دیکھتے رہو پردہ کئے جو بیٹھے بھری انجمن میں تھے ہوں گے وہ بے نقاب ذرا دیکھتے رہو خط لکھ کے ...

مزید پڑھیے

ہر طرف اضطراب ہے یارو

ہر طرف اضطراب ہے یارو وقت کتنا خراب ہے یارو ایک اک پل میں کرب سے کتنا لمحہ لمحہ عذاب ہے یارو ہر طرف توڑ پھوڑ کی سازش یہ بھی اک انقلاب ہے یارو آج اینٹوں کی سرکشی کے لئے پتھروں کا جواب ہے یارو رہبر وقت وقت کے رہزن کیا عجب انتخاب ہے یارو جینا دشوار زندگی مشکل اک طرح کا عتاب ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4801 سے 6203