قومی زبان

نہ جانے آج کیوں ان کے لبوں پر میرا نام آیا

نہ جانے آج کیوں ان کے لبوں پر میرا نام آیا یہ کیسا انقلاب آیا سلام آیا پیام آیا مری خاموشیاں عنواں بنی ہیں کتنے قصوں کا زباں اب کھولنا ہوگی عجب مشکل مقام آیا جلائیں خود ہی شمعیں میں نے اور خود ہی بجھا ڈالیں کبھی جب یاد مجھ کو میرا خواب نا تمام آیا بگاڑے کام دنیا کے چلا افلاک سر ...

مزید پڑھیے

حد سے گزر گیا غم دوراں کبھی کبھی

حد سے گزر گیا غم دوراں کبھی کبھی دامن میں اشک ہو گئے غلطاں کبھی کبھی جب زعم عقل و ہوش سے کچھ بھی نہ بن سکا کام آ گئی ہے جرأت رنداں کبھی کبھی آتے ہیں انقلاب کبھی بہر انقلاب کشتی کو پار کرتے ہیں طوفاں کبھی کبھی سر دے دیا دیا نہ مگر غیر حق کا ساتھ دنیا میں آئے ایسے بھی انساں کبھی ...

مزید پڑھیے

خود فراموشی میں خیال کہاں

خود فراموشی میں خیال کہاں میں کہاں حسرت جمال کہاں نہ وہ آنسو ہیں اور نہ وہ آہیں اب وہ اگلا سا اپنا حال کہاں دل وحشی نے سر اٹھایا ہے دوراندیشیٔ مآل کہاں غم دنیا میں سر ہے سرگرداں اب وہ نیرنگئ خیال کہاں عہد رفتہ کو بھولنا اچھا وہ زمانہ وہ ماہ و سال کہاں ہو شکایت کسی سے نا ...

مزید پڑھیے

جا رہی ہے بہار پھولوں کی

جا رہی ہے بہار پھولوں کی ہے قبا تار تار پھولوں کی سینچئے پہلے خون دل سے چمن دیکھیے پھر بہار پھولوں کی ان کے ہونٹوں پہ مسکراتی ہے مسکراہٹ ہزار پھولوں کی کس قدر تلخ یہ حقیقت ہے ہم نشینیٔ خار پھولوں کی جس کو کہتے ہیں ہم بہار و خزاں وہ تو ہے جیت ہار پھولوں کی سچ بتا کیوں خموش ہے ...

مزید پڑھیے

بے خبر ہوں ہوش کا عالم نہیں

بے خبر ہوں ہوش کا عالم نہیں یہ بھی کچھ اس کی عنایت کم نہیں میرے ہونٹوں پر تبسم دیکھ کر کیوں سمجھتے ہو کہ دل میں غم نہیں شان غم اس میں نہیں آنسو بہیں قہقہے بھی آنسوؤں سے کم نہیں جل اٹھا ہے دل میں اک ایسا چراغ روشنی جس کی کبھی مدھم نہیں چشم شاعر چشم ہے نرگس نہیں اس کا حاصل خون ہے ...

مزید پڑھیے

خاموش ہیں خاموش مگر دیکھ رہے ہیں

خاموش ہیں خاموش مگر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں تاریک فضاؤ میں بھی جگنو کوئی چمکا آج اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ رہے ہیں کیا بات ہے کیا راز بنے کیا ہو گیا آخر کیوں آپ کو با دیدۂ تر دیکھ رہے ہیں خود موت سے ٹکرانے کا جن کو ہے سلیقہ مر کے بھی وہ اپنے کو امر دیکھ رہے ...

مزید پڑھیے

پھر یاد آ گئی کسی شیریں دہن کی بات

پھر یاد آ گئی کسی شیریں دہن کی بات جس کی ہر ایک بات ہے شعر و سخن کی بات انجان بن کے حال غم دل نہ پوچھئے آ جائے گی زبان پہ زخم کہن کی بات صبح بہار لطف سخن رنگ روئے گل ہر حسن میں نہاں ہے ترے بانکپن کی بات کیوں عندلیب چپ ہے صبا ماجرا ہے کیا گلشن میں ہو رہی ہے جو زاغ و زغن کی بات دلی ...

مزید پڑھیے

صد رشک انجمن ہیں یہ تنہائیاں مری

صد رشک انجمن ہیں یہ تنہائیاں مری سورج مرا ستارے مرے کہکشاں مری مانا کہ قہقہے نہیں میرے نصیب میں سرمایۂ نشاط ہے آہ و فغاں مری ہر تلخ تجربے نے کہا ہنس کے مجھ سے یوں آئیں گی کام تیرے یہی تلخیاں مری رنگ بہار رنگ غزل رنگ خون دل ڈوبی ہر ایک رنگ میں ہے داستاں مری جھکتا نہیں یہ سر کسی ...

مزید پڑھیے

مجھے تڑپا کے شرماتا تو ہوگا

مجھے تڑپا کے شرماتا تو ہوگا کیے پر اپنے پچھتاتا تو ہوگا نہ لگتا ہوگا دل باغ ارم میں کبھی گھر میرا یاد آتا تو ہوگا شکست زندگی دے کر مجھے یوں وہ فاتح بن کے اتراتا ہوگا کبھی یاد آ ہی جاتے ہوں گے وہ دن تیرا دل بھی تڑپ جاتا تو ہوگا نہیں ترک محبت اتنا آساں تصور میرا رلواتا تو ...

مزید پڑھیے

جھوٹ

جھوٹ کی عادت بری ہے جھوٹ مت بولا کرو جھوٹ کی عادت رہی تو ایک دن پچھتاؤ گے پھر اسی لمحہ کسی بنئے نے آ کر دی صدا بولے کہہ دو آج تو ابا نہیں کل آؤ گے

مزید پڑھیے
صفحہ 4692 سے 6203