قومی زبان

کہاں سے منظر سمیٹ لائے نظر کہاں سے ادھار مانگے

کہاں سے منظر سمیٹ لائے نظر کہاں سے ادھار مانگے روایتوں کو نہ موت آئے تو زندگی انتشار مانگے سفر کی یہ کیسی وسعتیں ہیں کہ راستہ ہے نہ کوئی منزل تھکن کا احساس بھی نہ اترے قدم قدم رہ گزار مانگے تلاش کے باوجود سچ ہے کہ میرے حصے میں کچھ نہ آیا کہ میں نے خوشیاں ہزار ڈھونڈیں کہ درد میں ...

مزید پڑھیے

کہیں بھی زندگی اپنی گزار سکتا تھا

کہیں بھی زندگی اپنی گزار سکتا تھا وہ چاہتا تو میں دانستہ ہار سکتا تھا زمین پاؤں سے میرے لپٹ گئی ورنہ میں آسمان سے تارے اتار سکتا تھا جلا رہی ہیں جسے تیز دھوپ کی نظریں وہ ابر باغ کی قسمت سنوار سکتا تھا عجیب معجزہ کاری تھی اس کی باتوں میں کہ وہ یقیں کے جزیرے ابھار سکتا تھا مرے ...

مزید پڑھیے

آغاز سے انجام سفر دیکھ رہا ہوں

آغاز سے انجام سفر دیکھ رہا ہوں دیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہا ہوں تیراک لگاتار یہاں ڈوب رہے ہیں چپ چاپ میں دریا کا ہنر دیکھ رہا ہوں اس خواب کی تعبیر کوئی مجھ کو بتا دے منزل سے بھی آگے کا سفر دیکھ رہا ہوں اس شخص کے ہونٹوں پہ مرا ذکر بہت ہے میں اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ رہا ہوں جو ...

مزید پڑھیے

سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئے

سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئے کسی طرح بھی اداسی کا گھاؤ بھر جائے ہم اب اداس نہیں سر بہ سر اداسی ہیں ہمیں چراغ نہیں روشنی کہا جائے جو شعر سمجھے مجھے داد واد دیتا رہے گلے لگائے جسے غم سمجھ میں آ جائے گئے دنوں میں کوئی شوق تھا محبت کا اب اس عذاب میں یہ ذہن کون الجھائے کسی کے ...

مزید پڑھیے

آغاز سے انجام سفر دیکھ رہا ہوں

آغاز سے انجام سفر دیکھ رہا ہوں دیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہا ہوں تیراک لگاتار یہاں ڈوب رہے ہیں چپ چاپ میں دریا کا ہنر دیکھ رہا ہوں اس خواب کی تعبیر کوئی مجھ کو بتا دے منزل سے بھی آگے کا سفر دیکھ رہا ہوں اس شخص کے ہونٹوں پہ مرا ذکر بہت ہے میں اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ رہا ہوں جو ...

مزید پڑھیے

لالچ کا پھل

اک مفلس کے چار تھے بچے دال اور روٹی جو کھاتے تھے کھاتے اسی کو سمجھ کے نعمت لب پہ نہ لاتے کوئی شکایت لیکن ان میں اک لڑکا تھا اس کو نہ بھایا ایسا کھانا اک لڑکے کا دوست بنا وہ دولت مند بہت کچھ تھا وہ اس کے گھر کو آتا جاتا عمدہ عمدہ کھانے کھاتا لیکن اپنے دوست سے اس کی اک دن ہو گئی ان بن ...

مزید پڑھیے

دوست کی پہچان

بچو نظام الملک وزیر دانائی کی تھا تصویر اس سے ملنے کو صدہا آتے تھے ادنیٰ اعلیٰ اچھی جگہ پر بٹھلاتا اور محبت فرماتا اک بوڑھا آتا ہر دن حد سے زیادہ جس کا سن لوگوں نے اس سے پوچھا آتا کیوں ہے یہ بڈھا کرتے ہو کیوں اس کی عزت اس بڈھے کی یہ عظمت بولا ان سب سے یہ وزیر ہے اچھا تم سے یہ فقیر تم ...

مزید پڑھیے

سچائی

آؤ بچو سامنے بیٹھو قصہ ایک سناؤں تم کو جنگل میں اک بھوک کا مارا لکڑی لانے گیا بیچارہ جنگل میں تھی ندی گہری گر گئی بے چارے کی کلہاڑی کیا کروں دل میں سوچ رہا تھا اتنے میں اک آدمی آیا کہنے لگا کیوں تم ہو فسردہ کچھ تو بتاؤ کیا ہے صدمہ بولا وہ میں کیا کہوں بھائی میں نے کلہاڑی اپنی ...

مزید پڑھیے

دو لڑیں تیسرے کا بھلا ہو

کھیت میں چند مرغیاں ہم سن چگ رہی تھیں خوشی خوشی اک دن اور دو مرغے ایسے نظر آئے لڑ رہے تھے جو ایک بھٹے پر اتنے میں اک تیسرا مرغا آ کے چپکے سے بھٹا لے بھاگا رہ گئے دونوں ہو کے وہ خاموش اور دونوں کو آیا اب یہ ہوش ہم نہ لڑتے تو کرتے کیوں نقصان سچ تو یہ ہے کہ ہیں بڑے نادان اب جو پچھتائے ...

مزید پڑھیے

تب

پہلے ہم جاتے تھے جب سسرال میں بولتا تھا ہر کوئی سر تال میں دے نہیں سکتے اسے لفظوں کا روپ گرم جوشی تھی جو استقبال میں ساس کا چہرہ چمک اٹھتا تھا یوں چاند جیسے جھیل کے پاتال میں پیار میں ڈوبی سسر کی گفتگو کتنی شیرینی تھی ان اقوال میں کھلکھلا اٹھتی تھیں ساری سالیاں پھرتیاں آتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4691 سے 6203