کہاں سے منظر سمیٹ لائے نظر کہاں سے ادھار مانگے
کہاں سے منظر سمیٹ لائے نظر کہاں سے ادھار مانگے روایتوں کو نہ موت آئے تو زندگی انتشار مانگے سفر کی یہ کیسی وسعتیں ہیں کہ راستہ ہے نہ کوئی منزل تھکن کا احساس بھی نہ اترے قدم قدم رہ گزار مانگے تلاش کے باوجود سچ ہے کہ میرے حصے میں کچھ نہ آیا کہ میں نے خوشیاں ہزار ڈھونڈیں کہ درد میں ...