پھر مجھے لکھنا جو وصف روئے جاناں ہو گیا
پھر مجھے لکھنا جو وصف روئے جاناں ہو گیا واجب اس جا پر قلم کو سر جھکانا ہو گیا سرکشی اتنی نہیں ظالم ہے او زلف سیہ بس کہ تاریک اپنی آنکھوں میں زمانہ ہو گیا دھیان آیا جس گھڑی اس کے دہان تنگ کا ہو گیا دم بند مشکل لب ہلانا ہو گیا اے ازل جلدی رہائی دے نہ بس تاخیر کر خانۂ تن بھی مجھے اب ...