رہے نہ ایک بھی بیداد گر ستم باقی
رہے نہ ایک بھی بیداد گر ستم باقی رکے نہ ہاتھ ابھی تک ہے دم میں دم باقی اٹھا دوئی کا جو پردا ہماری آنکھوں سے تو کعبے میں بھی رہا بس وہی صنم باقی بلا لو بالیں پہ حسرت نہ دل میں میرے رہے ابھی تلک تو ہے تن میں ہمارے دم باقی لحد پہ آئیں گے اور پھول بھی اٹھائیں گے یہ رنج ہے کہ نہ اس وقت ...