قومی زبان

رہے نہ ایک بھی بیداد گر ستم باقی

رہے نہ ایک بھی بیداد گر ستم باقی رکے نہ ہاتھ ابھی تک ہے دم میں دم باقی اٹھا دوئی کا جو پردا ہماری آنکھوں سے تو کعبے میں بھی رہا بس وہی صنم باقی بلا لو بالیں پہ حسرت نہ دل میں میرے رہے ابھی تلک تو ہے تن میں ہمارے دم باقی لحد پہ آئیں گے اور پھول بھی اٹھائیں گے یہ رنج ہے کہ نہ اس وقت ...

مزید پڑھیے

عجب جوبن ہے گل پر آمد فصل بہاری ہے

عجب جوبن ہے گل پر آمد فصل بہاری ہے شتاب آ ساقیا گل رو کہ تیری یادگاری ہے رہا کرتا ہے صیاد ستم گر موسم گل میں اسیران قفس لو تم سے اب رخصت ہماری ہے کسی پہلو نہیں آرام آتا تیرے عاشق کو دل مضطر تڑپتا ہے نہایت بے قراری ہے صفائی دیکھتے ہی دل پھڑک جاتا ہے بسمل کا ارے جلاد تیرے تیغ کی ...

مزید پڑھیے

جہاں دیکھو وہاں موجود میرا کرشن پیارا ہے

جہاں دیکھو وہاں موجود میرا کرشن پیارا ہے اسی کا سب ہے جلوا جو جہاں میں آشکارا ہے بھلا مخلوق خالق کی صفت سمجھے کہاں قدرت اسی سے نیتی نیتی اے یار دیدوں نے پکارا ہے نہ کچھ چارا چلا لاچار چاروں ہار کر بیٹھے بچارے بید نے پیارے بہت تم کو بچارا ہے جو کچھ کہتے ہیں ہم یہی بھی ترا جلوا ...

مزید پڑھیے

خیال ناوک مژگاں میں بس ہم سر پٹکتے ہیں

خیال ناوک مژگاں میں بس ہم سر پٹکتے ہیں ہمارے دل میں مدت سے یہ خار غم کھٹکتے ہیں رخ روشن پہ اس کی گیسوئے شب گوں لٹکتے ہیں قیامت ہے مسافر راستہ دن کو بھٹکتے ہیں فغاں کرتی ہے بلبل یاد میں گر گل کے اے گلچیں صدا اک آہ کی آتی ہے جب غنچے چٹکتے ہیں رہا کرتا نہیں صیاد ہم کو موسم گل ...

مزید پڑھیے

اٹھا کے ناز سے دامن بھلا کدھر کو چلے

اٹھا کے ناز سے دامن بھلا کدھر کو چلے ادھر تو دیکھیے بہر خدا کدھر کو چلے مری نگاہوں میں دونوں جہاں ہوئے تاریک یہ آپ کھول کے زلف دوتا کدھر کو چلے ابھی تو آئے ہو جلدی کہاں ہے جانے کی اٹھو نہ پہلو سے ٹھہرو ذرا کدھر کو چلے خفا ہو کس پہ بھنویں کیوں چڑھی ہیں خیر تو ہے یہ آپ تیغ پہ دھر ...

مزید پڑھیے

آ گئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیا

آ گئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیا اے فلک کیا کیا ہمارے دل میں ارماں رہ گیا باغباں ہے چار دن کی باغ عالم میں بہار پھول سب مرجھا گئے خالی بیاباں رہ گیا اتنا احساں اور کر للہ اے دست جنوں باقی گردن میں فقط تار گریباں رہ گیا یاد آئی جب تمہارے روپ روشن کی چمک میں سراسر صورت آئینہ ...

مزید پڑھیے

پھر آئی فصل گل پھر زخم دل رہ رہ کے پکتے ہیں

پھر آئی فصل گل پھر زخم دل رہ رہ کے پکتے ہیں مگر داغ جگر پر صورت لالہ لہکتے ہیں نصیحت ہے عبث ناصح بیاں ناحق ہی بکتے ہیں جو بہکے دخت رز سے ہیں وہ کب ان سے بہکتے ہیں کوئی جا کر کہو یہ آخری پیغام اس بت سے ارے آ جا ابھی دم تن میں باقی ہے سسکتے ہیں نہ بوسہ لینے دیتے ہیں نہ لگتے ہیں گلے ...

مزید پڑھیے

دل آتش ہجراں سے جلانا نہیں اچھا

دل آتش ہجراں سے جلانا نہیں اچھا اے شعلہ رخو آگ لگانا نہیں اچھا کس گل کے تصور میں ہے اے لالہ جگر خوں یہ داغ کلیجے پہ اٹھانا نہیں اچھا آیا ہے عیادت کو مسیحا سر بالیں اے مرگ ٹھہر جا ابھی آنا نہیں اچھا سونے دے شب وصل غریباں ہے ابھی سے اے مرغ سحر شور مچانا نہیں اچھا تم جاتے ہو کیا ...

مزید پڑھیے

فساد دنیا مٹا چکے ہیں حصول ہستی مٹا چکے ہیں

فساد دنیا مٹا چکے ہیں حصول ہستی مٹا چکے ہیں خدائی اپنے میں پا چکے ہیں مجھے گلے یہ لگا چکے ہیں نہیں نزاکت سے ہم میں طاقت اٹھائیں جو ناز حور جنت کہ ناز شمشیر پر نزاکت ہم اپنے سر پر اٹھا چکے ہیں نجات ہو یا سزا ہو میری ملے جہنم کہ پاؤں جنت ہم اب تو ان کے قدم پہ اپنا گنہ بھرا سر جھکا ...

مزید پڑھیے

بال بکھیرے آج پری تربت پر میرے آئے گی

بال بکھیرے آج پری تربت پر میرے آئے گی موت بھی میری ایک تماشہ عالم کو دکھلائے گی محو ادا ہو جاؤں گا گر وصل میں وہ شرمائے گی بار خدایا دل کی حسرت کیسے پھر بر آئے گی کاہیدہ ایسا ہوں میں بھی ڈھونڈا کرے نہ پائے گی میری خاطر موت بھی میری برسوں سر ٹکرائے گی عشق بتاں میں جب دل الجھا دین ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4579 سے 6203