قومی زبان

نئی دشا کی اور

اپنے لئے اسکول کا آنگن ماں کا سایہ ماں کا دامن دل کو کریں تعلیم سے روشن چاند اور سورج بن کے ہنسیں ہم چلو چلو اسکول چلیں ہم دور غریبی کی ہوں بلائیں علم و عمل کے دیپ جلائیں آؤ بچوں پڑھیں پڑھائیں آج سنہرے خواب بنیں ہم چلو چلو اسکول چلیں ہم عمر کی کوئی قید نہ بندھن دور کرو سب من کی ...

مزید پڑھیے

اس دھرتی کے تارے ہم ہیں

یہ معذور بیکس غبی ذہنی بچے ہیں انساں نہیں کوئی ماٹی کے پتلے زباں سے ہیں گونگے سماعت سے عاری بناؤ نہ ان کو سڑک کے بھکاری ہیں پر پیچ تر ان کی ہستی کے رستے کہ پر سوز جیسے ہوں بنسی کے نغمے سراپے کو ان کے نہ بیکار کہنا یہ ہیں زندگی کا حسیں ایک گہنا کبھی یہ ہنسائیں کبھی روٹھ جائیں دلوں ...

مزید پڑھیے

بچے بڑوں سے بہتر ہیں

معصوم فرشتہ پیکر ہیں ہم بچے بڑوں سے بہتر ہیں آپس میں لڑائی کرتے ہیں پھر صلح صفائی کرتے ہیں دکھ پہنچے کسی سے ہم کو اگر ملتے ہیں دوبارہ پھر ہنس کر کچھ ہم کو نہیں ہے خوف و خطر رکھتے ہیں بھروسہ اللہ پر دل صاف ہمارے من سچے ہم یکساں اندر باہر سے معصوم فرشتوں کے جیسے قوموں کی امانت ہم ...

مزید پڑھیے

خون کا ایک ہے رنگ

آؤ ہم یہ کر کے دکھائیں اس دھرتی کو سورگ بنائیں مل کر ہم سب کریں جتن ٹوٹ نہ پائے کسی کا من بچوں گاؤ جن گن من پیر پیمبر سادھو سنت گیتا قرآں اور گرنتھ مانوتا کے سب ہیں پنتھ مہکا ان سے یہ جیون بچوں گاؤ جن گن من سب کے خون کا ایک ہے رنگ پھر کیوں آپس میں ہے جنگ بدلیں جینے کا یہ ڈھنگ ہم کو ...

مزید پڑھیے

نیند آتی ہی نہیں دھڑکے کی بس آواز سے

نیند آتی ہی نہیں دھڑکے کی بس آواز سے تنگ آیا ہوں میں اس پرسوز دل کے ساز سے دل پسا جاتا ہے ان کی چال کے انداز سے ہاتھ میں دامن لیے آتے ہیں وہ کس ناز سے سیکڑوں مردے جلائے ہو مسیحا ناز سے موت شرمندہ ہوئی کیا کیا ترے اعجاز سے باغباں کنج قفس میں مدتوں سے ہوں اسیر اب کھلے پر بھی تو میں ...

مزید پڑھیے

دشت پیمائی کا گر قصد مکرر ہوگا

دشت پیمائی کا گر قصد مکرر ہوگا ہر سر خار پئے آبلہ نشتر ہوگا مے کدے سے ترا دیوانہ جو باہر ہوگا ایک میں شیشہ اور اک ہاتھ میں ساغر ہوگا حلقۂ چشم صنم لکھ کے یہ کہتا ہے قلم بس کہ مرکز سے قدم اپنا نہ باہر ہوگا دل نہ دینا کبھی ان سنگ دلوں کو یارو چور ہووے گا جو شیشہ تہہ پتھر ہوگا دیکھ ...

مزید پڑھیے

مسرت کو مسرت غم کو جو بس غم سمجھتے ہیں

مسرت کو مسرت غم کو جو بس غم سمجھتے ہیں وہ ناداں زندگی کا راز اکثر کم سمجھتے ہیں حقیقت میں وہی راز حقیقت سے ہیں ناواقف جنہیں دعویٰ ہے یہ راز حقیقت ہم سمجھتے ہیں نہیں حاجت ہمیں اے چارہ سازو چارہ سازی کی ہم اپنے درد ہی کو درد کا مرہم سمجھتے ہیں ہماری سادہ لوحی اس سے بڑھ کر اور کیا ...

مزید پڑھیے

ہوتی نہیں رسائی برق تپاں کہاں

ہوتی نہیں رسائی برق تپاں کہاں اے ہم نشیں بنائیے اب آشیاں کہاں ٹھہرے مثال تیری گل ارغواں کہاں اے مہ جبیں زمین کہاں آسماں کہاں چھانا کیا میں خاک دو عالم تمام عمر اپنی تلاش لے گئی مجھ کو کہاں کہاں چھٹتا ہجوم غم سے مرا ساتھ کس طرح جاتا بچھڑ کے مجھ سے مرا کارواں کہاں محدود جن کی ...

مزید پڑھیے

داستان شمع تھی یا قصۂ پروانہ تھا

داستان شمع تھی یا قصۂ پروانہ تھا انجمن میں عشق ہی عنوان ہر افسانہ تھا جستجوئے دیر و کعبہ سے ہوا ظاہر یہی میں حقیقت میں خود اپنی ذات سے بیگانہ تھا میری ہستی تھی بذات خود مکمل مے کدہ میں کبھی شیشہ کبھی ساغر کبھی پیمانہ تھا ہائے وہ ایام طفلی ہائے وہ عہد شباب خواب تھا جو کچھ کہ ...

مزید پڑھیے

یہی سمجھا ہوں بس اتنی ہوئی ہے آگہی مجھ کو

یہی سمجھا ہوں بس اتنی ہوئی ہے آگہی مجھ کو نہ راس آئے گی شاید زندگی بھر زندگی مجھ کو ملا رنج و الم میں بھی سرور زندگی مجھ کو نظر آتی ہے اکثر تیرگی میں روشنی مجھ کو نہ اب احساس رنج و غم نہ احساس خوشی مجھ کو یہ کس مرکز پہ لے آئی مری دیوانگی مجھ کو چھلک آئے ہیں آنسو جب بھی آئی ہے ہنسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4581 سے 6203