قومی زبان

کون کہتا ہے کہ یہ شوخیٔ بیداد نہیں

کون کہتا ہے کہ یہ شوخیٔ بیداد نہیں تم نے ملنے کو کہا بھی تھا کہیں یاد نہیں ہائے اس روز کا ہر واقعہ تم بھول گئے ہائے کیا میرا تڑپنا بھی تمہیں یاد نہیں میں خطا‌ وار اگر عہد شکن پھر سے کہوں تم اسی ناز سے کہہ دو کہ ہمیں یاد نہیں اف یہ اظہار تغافل کی ادائے دلکش پھر ذرا کہئے کہ ہاں ...

مزید پڑھیے

جو خوش نصیب تیرے عشق میں خراب ہوئے

جو خوش نصیب تیرے عشق میں خراب ہوئے بہ اعتبار حقیقت وہ کامیاب ہوئے غم دوام کے اسرار بے نقاب ہوئے یہ چند جرعے کہاں تک اثر مآب ہوئے مری نگاہ میں وہ جلوے سحر کار نہیں جو جلوے عام نگاہوں میں بے نقاب ہوئے چلا میں ان کا تصور کئے ہوئے جس وقت جو ذرے راہ میں آئے وہ آفتاب ہوئے تری قرابت ...

مزید پڑھیے

وہ گری ہے برق کہ الامان مرے آشیان قرار پر

وہ گری ہے برق کہ الامان مرے آشیان قرار پر مگر اعتماد ہے آج بھی تری بات پر ترے پیار پر مری سب دعائیں قبول ہیں مجھے اور کچھ نہیں چاہئے مرے پاس ہے مئے غم ربا مرا سر ہے زانوئے یار پر مری کامیابیٔ عشق پر یہ فضائیں کیوں نہیں جھومتیں ابھی روشنی سی ہوئی تھی کچھ ابھی آئے تھے وہ مزار ...

مزید پڑھیے

قہر برسا آسماں سے تب پشیمانی ہوئی

قہر برسا آسماں سے تب پشیمانی ہوئی بھول بیٹھے ہم خدا کو ہم سے نادانی ہوئی کیا حسیں رونق یہاں تھی کس قدر آباد تھا آج اپنے شہر کو دیکھا تو حیرانی ہوئی جی رہی ہیں خوف کے سائے میں وہ ان دنوں صورتیں دنیا میں تھیں جو جانی پہچانی ہوئی ہو گئے ہیں مندر و مسجد کے دروازے بھی بند ساری دنیا ...

مزید پڑھیے

ہمارے حال دل کی تم کو کچھ ایسے خبر ہوگی

ہمارے حال دل کی تم کو کچھ ایسے خبر ہوگی تمہاری آستیں ہوگی ہماری چشم تر ہوگی حسیں تو اور بھی آ جائیں گے آغوش میں لیکن کہاں یہ مرمریں باہیں کہاں ایسی کمر ہوگی محبت ہے کہاں جب ان سے پوچھا ہنس کے یوں بولے یہاں ہوگی وہاں ہوگی ادھر ہوگی ادھر ہوگی کبھی تو داد آئے گی مری خاطر بھی ...

مزید پڑھیے

منزلوں کی چاہ لے کر راستوں میں قید ہیں

منزلوں کی چاہ لے کر راستوں میں قید ہیں جتنے تھے آزاد پنچھی گھونسلوں میں قید ہیں جو یہ کہتے تھے ہمارے پاؤں میں تل ہے جناب آج ایسے لوگ بھی اپنے گھروں میں قید ہیں تجھ سے پہلے تیرے جیسی شان و شوکت کے یہاں جانے کتنے بادشہ ان مقبروں میں قید ہیں جو کئے محسوس میں نے اس کو چھو کر پہلی ...

مزید پڑھیے

گھڑیاں عجیب ہوتی ہیں کچھ انتظار کی

گھڑیاں عجیب ہوتی ہیں کچھ انتظار کی حالت نہ پوچھیے گا دل بے قرار کی آنکھیں ہر ایک شخص کی رونے لگیں لہو موسم نے رخصتی جو سنائی بہار کی پتھر بھی مجھ کو راہ کے پہچاننے لگے کچھ ایسے خاک چھانی ہے اس کے دیار کی دامن ترا جب اس کو میسر نہ آ سکا عاشق نے تیرے راہ جنوں اختیار کی ہم مر گئے ...

مزید پڑھیے

جو تعلق ہے چمن میں پھول کا خوشبو کے ساتھ

جو تعلق ہے چمن میں پھول کا خوشبو کے ساتھ ہے وہی رشتہ مسلماں کا یہاں ہندو کے ساتھ ہے وہی نسبت ہماری سر زمین ہند سے جو ہے نسبت شاعری میں میر کی اردو کے ساتھ عارضی ہے حسن دنیا در حقیقت دوستوں اس لئے ہی امر پالی چل پڑی بھکشو کے ساتھ لڑ رہے تھے جنگ دونوں مختلف انداز میں میں تھا حق کے ...

مزید پڑھیے

کچھ نزاکت نہ ہو شوخی نہ ہو انداز نہ ہو

کچھ نزاکت نہ ہو شوخی نہ ہو انداز نہ ہو حسن وہ حسن کیا جس حسن میں کچھ ناز نہ ہو ظلم کے ساتھ ہے یہ شرط بھی اس ظالم کی آہ نکلے بھی اگر کوئی تو آواز نہ ہو بات جو ہوتی ہے ہونٹوں کو بتا دیتا ہے دل کے جیسا بھی کسی کا کوئی ہم راز نہ ہو میرے صیاد نے یہ سوچ کے پر کاٹ دئے اب قفس میں بھی کہیں ...

مزید پڑھیے

اک برہمن نے کہا ہے میرے حال زار پر

اک برہمن نے کہا ہے میرے حال زار پر ہو کے مومن مر رہا ہے کیوں بت پندار پر دیکھ کر بارش کی بوندیں سوچتا رہتا ہوں میں رو رہا ہے آسماں بھی آج ہجر یار پر جانے کتنے عاشقوں کی جان کا دشمن ہے یہ جو حسیں ڈمپل پڑا ہے آپ کے رخسار پر ہے مریض عشق تو محبوب کے پہلو میں جا اس مرض کی تو دوا ملتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4567 سے 6203