روز پوچھے ہے مرے دل کا بیاباں مجھ سے
روز پوچھے ہے مرے دل کا بیاباں مجھ سے جانے کیوں روٹھ گیا جان بہاراں مجھ سے موت اس وقت مسیحا کی طرح لگتی ہے زندگی ہوتی ہے جب دست و گریباں مجھ سے مرتے دم بھی نہ ہوئی ہائے میسر خلوت ملنے آئے ہیں وہ ہم راہ رقیباں مجھ سے دل کی ہر بات کو لفظوں میں بیاں کرتا ہوں اس لیے رہتے ہیں کچھ لوگ ...