قومی زبان

روز پوچھے ہے مرے دل کا بیاباں مجھ سے

روز پوچھے ہے مرے دل کا بیاباں مجھ سے جانے کیوں روٹھ گیا جان بہاراں مجھ سے موت اس وقت مسیحا کی طرح لگتی ہے زندگی ہوتی ہے جب دست و گریباں مجھ سے مرتے دم بھی نہ ہوئی ہائے میسر خلوت ملنے آئے ہیں وہ ہم راہ رقیباں مجھ سے دل کی ہر بات کو لفظوں میں بیاں کرتا ہوں اس لیے رہتے ہیں کچھ لوگ ...

مزید پڑھیے

اس سیاست میں میاں آباد ہو جانے کے بعد

اس سیاست میں میاں آباد ہو جانے کے بعد مر گئے کردار زندہ باد ہو جانے کے بعد ہم سے اچھا کون شاعر تھا یہاں لیکن جناب فکر و فن جاتا رہا استاد ہو جانے کے بعد وعدہ کرتے تھے وفا جب تک پریشاں حال تھے جانے کیوں نظریں بدل لیں شاد ہو جانے کے بعد ناگواری ہے تجھے ماں باپ کے انداز سے سب سمجھ آ ...

مزید پڑھیے

ضد پہ ہے دنیا تو ضد پہ تیرا دیوانہ بھی ہے

ضد پہ ہے دنیا تو ضد پہ تیرا دیوانہ بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی تیری طرف جانا بھی ہے ٹوٹ کر دل نے ہمارے کل تجھے چاہا بھی تھا ٹوٹ کر دل نے ہمارے آج یہ جانا بھی ہے میر صاحب دیکھیے آ کر ہمارے دور میں اب غزل ہے آئینہ اور آئینہ خانہ بھی ہے دیکھ لے جو بھی انہیں وہ چھوڑ دے پینی شراب یہ تری ...

مزید پڑھیے

پرایا لگ رہا تھا جو وہی اپنا نکل آیا

پرایا لگ رہا تھا جو وہی اپنا نکل آیا مرا اک اجنبی سے دور کا رشتہ نکل آیا ابھی تک تو تری یادیں مری میراث تھیں لیکن تصور میں کہاں سے اک نیا چہرہ نکل آیا وہ دریا ہے یہ کہنے میں مجھے اب شرم آتی ہے مجھے سیراب کیا کرتا وہ خود پیاسا نکل آیا اسی امید پر سب اشک میں نے صرف کر ڈالے اگر ان ...

مزید پڑھیے

اک گردش مدام بھی تقدیر میں رہی

اک گردش مدام بھی تقدیر میں رہی گرد سفر بھی پاؤں کی زنجیر میں رہی خوابوں کے انتخاب میں کیا چوک ہو گئی ہر بار اک شکستگی تعبیر میں رہی رنگوں کا تال میل بہت خوب تھا مگر پھر بھی کوئی کمی تری تصویر میں رہی چارہ گروں سے درد کا درماں نہ ہو سکا اللہ جانے کیا کمی تدبیر میں رہی کچھ دیر تک ...

مزید پڑھیے

سلگتی ریت میں اک چہرہ آب سا چمکا

سلگتی ریت میں اک چہرہ آب سا چمکا اداس آنکھوں میں جینے کا حوصلہ چمکا اندھیری رات میں یہ کس کا نقش پا چمکا مسافروں کی نگاہوں میں راستہ چمکا شب فراق میں کوئی ستارہ ٹوٹا تو ہماری سوچ میں انجانا وسوسہ چمکا فضا میں پھیل گئے کتنے یاد کے جگنو دیار شوق میں جب کوئی رت جگا چمکا اداسیوں ...

مزید پڑھیے

آسماں ہے سمندر پہ چھایا ہوا

آسماں ہے سمندر پہ چھایا ہوا اس لیے رنگ پانی کا نیلا ہوا وقت ندی کی مانند بہتا ہوا ایک لمحہ مگر کیوں ہے ٹھہرا ہوا تھا کوئی تو جو دہلیز پر دھر گیا رات جلتی ہوئی دن دہکتا ہوا گمشدہ شہر میں ڈھونڈھتا ہوں کسے ایک اک شکل کو یاد کرتا ہوا دھوپ جنگل میں پھر کھو گیا ہے کوئی چاند تاروں کو ...

مزید پڑھیے

حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور

حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انہیں ہوتا ہے گماں اور جائیں تو کہاں جائیں محبت کے خریدار ارباب سیاست نے تو کھولی ہے دکاں اور معلوم نہیں ہے مرے صیاد کو شاید گھٹتی ہے اگر سانس تو کھلتی ہے زباں اور اب وعدۂ فردا میں کشش کچھ نہیں باقی دہرائی ہوئی بات ...

مزید پڑھیے

اپنے غموں کی بات نہیں ہے ہنسی کی بات

اپنے غموں کی بات نہیں ہے ہنسی کی بات اس رنگ میں بھی کرتے ہیں ہم زندگی کی بات دانشوروں کی بزم میں لوگو کہاں چلے لو میری وحشتوں سے سنو آگہی کی بات اہل خرد پہ فرض ہوا سجدۂ جنوں محفل میں جب چھڑی مری دیوانگی کی بات برباد ہیں بگولے پریشاں شمیم گل پہنچی کہاں کہاں تری آوارگی کی ...

مزید پڑھیے

وفا کو جگمگانا چاہتے ہیں

وفا کو جگمگانا چاہتے ہیں ہم اپنا دل جلانا چاہتے ہیں ہمیں تم اپنے دامن میں چھپا لو مسافر ہیں ٹھکانہ چاہتے ہیں پرانے زخم بھر جانے سے پہلے نئی اک چوٹ کھانا چاہتے ہیں تمہاری یاد کے سیال موتی میری پلکوں تک آنا چاہتے ہیں در دل پر کھڑے ہیں غم ہزاروں یہ پنچھی آشیانہ چاہتے ہیں یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4568 سے 6203