قومی زبان

کہیں جاؤں تعلق کا ستارہ چلتا رہتا ہے

کہیں جاؤں تعلق کا ستارہ چلتا رہتا ہے مرے ہم راہ یہ کس کا اشارہ چلتا رہتا ہے بصیرت کھو گئی لیکن توقع ہے بشارت کی کسی کے نام کا اب بھی سہارا چلتا رہتا ہے اب اک قطرہ بھی دل کی جھیل میں پانی نہیں رہتا مگر کیا کیجئے تب بھی شکارا چلتا رہتا ہے کہاں تم آرزوؤں کی حویلی ڈھونڈنے نکلے یہاں ...

مزید پڑھیے

خیال و خواب کی دنیا سے استفادہ کیا

خیال و خواب کی دنیا سے استفادہ کیا ہنر سمجھ کے اسی کام کو زیادہ کیا یہ تو نے کون سے منصب کی پاسداری کی بنایا میر مجھے خود کو میر زادہ کیا کمال یہ کہ جسے راستہ ملا ہی نہیں وہ کہہ رہا ہے سفر ہم نے پا پیادہ کیا کوئی بتاؤ کہ میں خود کو روکتا کیسے جب اس نے ساتھ مرے چلنے کا ارادہ ...

مزید پڑھیے

بقا کی چاہ میں تو دیکھ بے مکان نہ ہو

بقا کی چاہ میں تو دیکھ بے مکان نہ ہو زمین تیری حقیقت ہے آسمان نہ ہو رہ نجات میں منزل کی جستجو کس کو یہ وہ سفر ہے کہ جس میں کبھی تھکان نہ ہو یہاں سبھی کی رسائی تو غیر ممکن ہے یہ تجربات کی محفل ہے بد گمان نہ ہو رہو خلاف تو دنیا سے واسطہ نہ رہے ملو تو ایسے کہ پھر کوئی درمیان نہ ...

مزید پڑھیے

رت بدلتی ہے بدلتا نہیں منظر سائیں

رت بدلتی ہے بدلتا نہیں منظر سائیں اب کہاں جائے بتا تیرا قلندر سائیں اک مرے نام نہیں تیری سخاوت ورنہ جگمگاتا ہے کرشمہ ترا در در سائیں شہر کا شہر ہوا جاتا ہے کیسے سیراب کون آیا ہے یہاں لے کے سمندر سائیں اب تو محسوس یہ ہوتا ہے کہ منزل ہے قریب راستہ ایسا نہیں ہوتا منور سائیں کوئی ...

مزید پڑھیے

خود اپنے آپ کو زنجیر کرتا رہتا ہے

خود اپنے آپ کو زنجیر کرتا رہتا ہے وہ میرے خواب کی تعبیر کرتا رہتا ہے عجب نہیں کہ اسے میری آرزو ہی نہ ہو کہ اب وہ آنے میں تاخیر کرتا رہتا ہے نئے مکان کی وسعت نہ اس کو راس آئی وہ اب بھی ذہن میں تصویر کرتا رہتا ہے قلم اٹھانے کی تحریک بھی اسی نے دی اور اب وہی ہے کہ تعزیر کرتا رہتا ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسا ہوا بے سر و سامان مری جاں

کچھ ایسا ہوا بے سر و سامان مری جاں دنیا مجھے کہنے لگی نادان مری جاں شعلوں کو میسر کہاں شبنم کی رفاقت خود کو نہ کرو ایسے بھی ہلکان مری جاں تنہائی میں اب ان کا بھی دم گھٹنے لگا ہے ہجرت کو سمجھتے تھے جو آسان مری جاں اب تیری عنایت ہو کہ دنیا کی نوازش دل ہو تو گیا ویسے یہ ویران مری ...

مزید پڑھیے

میں جب بھی گاؤں اپنے لوٹتا ہوں

میں جب بھی گاؤں اپنے لوٹتا ہوں کسی کی روح تشنہ دیکھتا ہوں کئی چہرے شناسا اس گلی کے کسے آواز دوں یہ سوچتا ہوں اتر آتا ہے خوں آنکھوں میں اب بھی گئے موسم میں جب بھی جھانکتا ہوں رکھو بشاش چاہے خود کو جتنا تمہاری بے سکونی جانتا ہوں کنارے لگ چکی ہے سب کی کشتی اکیلا میں ابھرتا ڈوبتا ...

مزید پڑھیے

چلو اک بار پھر دریا کنارے

چلو اک بار پھر دریا کنارے جہاں پہلے پہل ہم تم ملے تھے جہاں سے بے بسی جانے لگی تھی جہاں سے زندگی گانے لگی تھی جہاں سے رشک سا آنے لگا تھا جہاں سے نشہ سا چھانے لگا تھا جہاں سے رت جگے کی تھی نمائش جہاں سے دیپ راہوں میں جلے تھے چلو اک بار پھر دریا کنارے جہاں پہلے پہل ہم تم ملے تھے جہاں ...

مزید پڑھیے

کسی صورت جنوں کی فتنہ سامانی نہیں جاتی

کسی صورت جنوں کی فتنہ سامانی نہیں جاتی بہار آتی ہے لیکن خانہ ویرانی نہیں جاتی وہ یوں الطاف کرتے ہیں کہ جیسے باغ سے اکثر خزاں معدوم ہو جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی وہ آتے ہیں مگر میرا تڑپنا کم نہیں ہوتا وہ ملتے ہیں مگر میری پریشانی نہیں جاتی وہ یوں آتے ہیں جیسے گھر کی صورت تک نہیں ...

مزید پڑھیے

فطرت احباب سے محرم رہے

فطرت احباب سے محرم رہے خوش رہے حالانکہ صرف غم رہے جب تک اس دار فنا میں ہم رہے مبتلائے گردش پیہم رہے ہم بنے ہیں تختۂ مشق ستم امتحاں گاہ وفا میں ہم رہے فصل گل میں بھی رہا خوف خزاں ہم بہ ہر حالت اسیر غم رہے گل میں بھی آتی رہی بوئے تراب حاصل دوراں سے ہم محرم رہے گردشوں نے تلخ کر دی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4566 سے 6203