قومی زبان

خوف کا طاری سلسلہ کیا ہے

خوف کا طاری سلسلہ کیا ہے ہر سو وحشت ہے یہ ہوا کیا ہے روح زخمی ہماری سب کی ہے مل کے سوچیں کہ اب دوا کیا ہے قلزم خوں نہ از ازل ٹھہری اس ذہانت کا فائدہ کیا ہے ہر طرف شور ان سوالوں کا کون ہے تو ترا پتہ کیا ہے غیر کے گھر لگی تو چپ ہے تو رک کہ تیرا ابھی جلا کیا ہے کیوں بھٹکتی ہیں سڑکوں ...

مزید پڑھیے

وہی ہو علم بھی وہ ہی سخن تو بات بنے

وہی ہو علم بھی وہ ہی سخن تو بات بنے غزل کا بھی وہی ہو پیرہن تو بات بنے فقط ہے ایک پریشاں تو پھر یہ عشق نہیں جبیں پہ دونوں کی آئے شکن تو بات بنے ہماری روح کو پھر بھی بدن ملا ہے مگر بدن کو بھی ملے کوئی بدن تو بات بنے ہم اس کی آنکھوں سے اقرار تک پہنچ گئے ہیں ذرا سا پڑھنے کو مل جائے من ...

مزید پڑھیے

میری ساری کمائی لینے لگیں

میری ساری کمائی لینے لگیں سانسیں مجھ سے وداعی لینے لگیں کروٹوں سے ادا نہیں ہوتی نیندیں جو منہ دکھائی لینے لگیں خواب کا پیرہن اتارا تو ننگی آنکھیں جمائی لینے لگیں چاند جیسے ہو نیند کی گولی راتیں کیا کیا دوائی لینے لگیں مجھ کو طوفاں میں ڈوبنا ہی تھا کشتیاں کیوں برائی لینے ...

مزید پڑھیے

وہ تو اتنا ہی کرے آپ کا چہرہ دیکھے

وہ تو اتنا ہی کرے آپ کا چہرہ دیکھے عشق جب ہونے لگے دوڑ کے دنیا دیکھے آنکھ کھل جائے تو وہ تیرا ہی رستہ دیکھے آنکھ لگ جائے تو وہ خواب بھی تیرا دیکھے میں بھلا اس کے بھروسے پہ کہاں تک جاتا راہ میں جس نے شجر مجھ سے زیادہ دیکھے جو زباں والا ہے چپ چاپ نکل جائے اور جو نظر والا ہے وہ صرف ...

مزید پڑھیے

تجھ کو لگتا ہے تو ہاں ٹھیک ہے من مانی ہے

تجھ کو لگتا ہے تو ہاں ٹھیک ہے من مانی ہے مجھے اب بات سمجھنی ہے نہ سمجھانی ہے ورنہ وہ خواب کہ تا عمر نہ سوئے کوئی نیند آ جاتی ہے اس بات کی آسانی ہے سطح میں اس کی سوا ریت کے اب کچھ بھی نہیں یعنی رونے کے لیے آنکھ میں بس پانی ہے تجربہ اس کو بھی کچھ خاص نہیں دنیا کا خاک ہم نے بھی زمانے ...

مزید پڑھیے

میں اس زمین کی دشواریاں بناؤں گا

میں اس زمین کی دشواریاں بناؤں گا پرندے پھول کبھی ٹہنیاں بناؤں گا ہر ایک شخص یہاں دوریاں بناتا ہے میں کچھ الگ ہوں میں نزدیکیاں بناؤں گا تمہاری روح کو پیکر میں ڈھال دوں گا پھر تمہارے جسم کی پرچھائیاں بناؤں گا تمہاری آنکھ کی گہرائیاں بنانی ہیں تمہاری چپ سے میں خاموشیاں بناؤں ...

مزید پڑھیے

ہم اپنے آپ کو اتنا بدل نہیں سکتے

ہم اپنے آپ کو اتنا بدل نہیں سکتے تمہارے کہنے سے چہرہ بدل نہیں سکتے بدلنا چاہیں اگر کیا بدل نہیں سکتے مگر جو حال ہے دل کا بدل نہیں سکتے تمہارے واسطے یعنی بدل چکے ہیں بہت اب اور خود کو زیادہ بدل نہیں سکتے عجیب لوگ ہیں دنیا بدلنا چاہتے ہیں مگر وہ خود کو ذرا سا بدل نہیں سکتے ڈرے ...

مزید پڑھیے

زندگی جب قضا سے ملتی ہے

زندگی جب قضا سے ملتی ہے ہائے کتنی وفا سے ملتی ہے میں بھی چپ چاپ دیکھتا ہوں بس میری عادت خدا سے ملتی ہے میرے لب پر رکھی خموشی بھی شور کی انتہا سے ملتی ہے وہ مری راہ میں نہ آ جائے وہ مرے رہنما سے ملتی ہے بیٹھ جاتی ہے پیٹھ دے کے مجھے زندگی اس ادا سے ملتی ہے شہر پر آفتیں نہ پڑ ...

مزید پڑھیے

آنسوؤں نے بھی تو کر دی ہے طرف داری دیکھ

آنسوؤں نے بھی تو کر دی ہے طرف داری دیکھ مجھے مت دیکھ مری آنکھ کی دشواری دیکھ شام ڈھلتے ہی چراغوں کی طرح جلتی ہیں یعنی بس آنکھ نہیں آنکھ کی بیداری دیکھ میں ترے ہجر میں ہنستا ہوں تو حیرت کیسی مجھے مت دیکھ مری جان ادا کاری دیکھ میں نے الفاظ برتنے میں لہو خرچ کیا اب ترا فرض ہے تو ...

مزید پڑھیے

تم اہل دل ہو سو دل میں رکھا ہمارا نام

تم اہل دل ہو سو دل میں رکھا ہمارا نام وگرنہ ہم بھی ہیں کیا اور کیا ہمارا نام ہر ایک شخص کے سینے میں ہم دھڑکتے ہیں سبھی کے ہونٹوں پہ ہے جا بہ جا ہمارا نام تمام عمر کئی لفظ چاک پر گھومے تب ایک عرصے میں جا کر بنا ہمارا نام تمہارے کانوں کی ڈھلتی ہوئی گپھاؤں میں بہ رنگ روشنی پڑتا ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4476 سے 6203