قومی زبان

ترے خیال کا کچھ بھی پتہ نہیں پڑتا

ترے خیال کا کچھ بھی پتہ نہیں پڑتا یہاں تو چاروں طرف دائرہ نہیں پڑتا ہم احتیاط سے خوابوں کو مار دیتے اگر ہماری آنکھ میں یہ آبلہ نہیں پڑتا عجیب راہ پڑی ہے کہ اس کے آگے اب کسی بھی سمت کوئی راستہ نہیں پڑتا ہمارے خواب کی تعبیر ہو گئی ہوتی کسی میں اور کوئی سوچنا نہیں پڑتا وہ راہ عشق ...

مزید پڑھیے

سکھ اسی ایک بات کا ہے مجھے

سکھ اسی ایک بات کا ہے مجھے میرا باطن ہی آئنا ہے مجھے ان سے اظہار کی توقع ہے تیری آنکھوں میں دیکھنا ہے مجھے آپ کا ہجر آخری دکھ ہے آپ کا عشق دوسرا ہے مجھے سانس در سانس کر رہا ہوں ادا اور یہ زندگی بھی کیا ہے مجھے مجھ کو آواز اب نہیں درکار میری خاموشی ہی صدا ہے مجھے کام دنیا کے کر ...

مزید پڑھیے

پھر اس کے بعد بدن تھا نہ جان جان میں تھی

پھر اس کے بعد بدن تھا نہ جان جان میں تھی عجب چڑھائی مری عمر کی ڈھلان میں تھی تمہارا عکس مرے آنسوؤں میں روشن تھا تمہاری شکل بھی ہر وقت میرے دھیان میں تھی تمام عمر گنوا دی تلاش میں اس کی جو ایک شے نہ مری تھی نہ اس جہان میں تھی مجھے بیان بھی کرتی تھیں دوسری آنکھیں مری زبان بھی شاید ...

مزید پڑھیے

ہمارا من بھی اسی میں مگن رہا ہوگا

ہمارا من بھی اسی میں مگن رہا ہوگا اسی کا دھیان ہمیں عادتاً رہا ہوگا وہ جس کو توڑنے کا تیرا من رہا ہوگا قفس تھا روح کا یعنی بدن رہا ہوگا تبھی تو خوب بہت خوب لگ رہی تھی غزل ترے خیال کا ہی پیرہن رہا ہوگا ادائے رسم فلک کار آخری کر کے لباس چاند دوبارہ پہن رہا ہوگا میں چونکتا ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

ملا نہ لفظ مصیبت کو سرگرانی سے

ملا نہ لفظ مصیبت کو سرگرانی سے معانی کھلنے نہیں میرے ترجمانی سے ہماری نبض میں جنبش ہے پانچ ہجر کے بعد ہمارا عشق پرانا ہے رائیگانی سے سو عمر بھر میں کسی کو سمجھ نہیں آیا جدا رکھا گیا مجھ کو میرے معانی سے کبھی سراب سے اٹھتا ہوا ہی مل جاؤں کبھی کبھی تو ہے ممکن ملوں نہ پانی ...

مزید پڑھیے

رکھ لی ماتھے پہ شکن اس کی نشانی جیسے

رکھ لی ماتھے پہ شکن اس کی نشانی جیسے نئے گھر میں ہو رکھی چیز پرانی جیسے ایسے بھولی ہے مری آنکھ ہنر رونے کا کسی جھرنے سے بچھڑ جائے روانی جیسے تیری آنکھوں سے بھلا کیسے ہٹاؤں آنکھیں مجھ پہ کھلتے ہی نہیں ان کے معانی جیسے آئنہ کہنے لگا کچھ کمی تجھ میں بھی ہے ہم نے بھی پوچھ دھرا اس ...

مزید پڑھیے

زندگی تجھ کو بھی اور تیرا تماشہ دیکھوں

زندگی تجھ کو بھی اور تیرا تماشہ دیکھوں اپنی معصوم سی آنکھوں سے میں کیا کیا دیکھوں کیا سوا اس کے بھلا اور نظارہ دیکھوں رات کی شاخ پہ اس چاند کو بیٹھا دیکھوں رقص کرتا ہوا گزرا ہے ابھی ہجر کا دکھ دھول چھٹ جائے تو آگے کا بھی رستہ دیکھوں ایک وہ دن تھا کہ اک شخص تھا دنیا میری ایک یہ ...

مزید پڑھیے

میں اک جھوٹی کہانی لکھ رہا ہوں

میں اک جھوٹی کہانی لکھ رہا ہوں لہٰذا زندگانی لکھ رہا ہوں تو جھیلوں کی رکاوٹ سوچتی رہ میں دریا کی روانی لکھ رہا ہوں سرابوں سے کہیں بجھتی ہیں پیاسیں گماں کے منہ پہ پانی لکھ رہا ہوں بدن کا ترجمہ تو کر دیا ہے اب آنکھوں کے معانی لکھ رہا ہوں مجھے لکھنا تھا اپنے بارے میں کچھ سو اپنی ...

مزید پڑھیے

ہم نے نزدیک بھلانے کا بھی فن رکھا تھا (ردیف .. ے)

ہم نے نزدیک بھلانے کا بھی فن رکھا تھا ہجر میں دل کو بھی کچھ مست مگن رکھا تھا یہ بھی سچ ہے کہ تجھے دل سے غرض تھی ہی نہیں ورنہ تو جسم میں پیوست ہی من رکھا تھا کب بغاوت پہ اتر آئے یہاں کون سا پھول بس یہی سوچ کے قابو میں چمن رکھا تھا جانتا کیسے تجھے جھانکتا اندر کیسے تجھ کو تعویذ کے ...

مزید پڑھیے

مرے یہاں تری آواز رہ گئی باقی

مرے یہاں تری آواز رہ گئی باقی ترا نشاں تری آواز رہ گئی باقی بس اک یقین بدن دور لے گئی ہے تو بس اک گماں تری آواز رہ گئی باقی ہمارے گھر کے وہ کونے بھی ہو گئے پاگل جہاں جہاں تری آواز رہ گئی باقی سنائی دی ابھی پتوں کی سرسراہٹ میں کہاں کہاں تری آواز رہ گئی باقی ہر ایک کونے سے کمرے کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4477 سے 6203