قومی زبان

راس آیا نہیں ہم کو ترا آتے رہنا

راس آیا نہیں ہم کو ترا آتے رہنا یوں ترا برسوں تلک وعدہ نبھاتے رہنا تو نے یہ جانا نہ آداب محبت کیا ہے ہر ملاقات پہ ملنے ترا آتے رہنا رائیگاں ہو گیا وہ گانا ترا راگ بسنت موسم خار میں پھولوں کو اگاتے رہنا اک سدا تیری بھی شامل تھی ہجوم طفلاں ہر سحر چھجے پہ مجھ کو بھی بلاتے ...

مزید پڑھیے

لگا ہے آئینہ نظر چرانے ہم کو دیکھ کر

لگا ہے آئینہ نظر چرانے ہم کو دیکھ کر نظر اسے بھی کچھ لگا ہے آنے ہم کو دیکھ کر وہ کیا تھی بات جو حبیب کر رہا حبیب سے لگا جو بات اور وہ بنانے ہم کو دیکھ کر وہ شمس جو نکلتا صحن سے تھا لے ہماری تاب لگا ہے مینڈھ کا دیا بجھانے ہم کو دیکھ کر ہماری پانے کو جھلک گزاری پوری شب ادھر لگا گلی ...

مزید پڑھیے

تیری محبت کا جو اک ہم کو سہارا مل گیا

تیری محبت کا جو اک ہم کو سہارا مل گیا کشتی کو طوفاں میں کوئی جیسے کنارا مل گیا گل ہو رہے ہیں بے ردا شاخ و شجر بھی سبز ہیں گلشن کو اس کے آنے کا کوئی اشارہ مل گیا کٹتے نہیں کٹتی ہیں راتیں دن بھی ڈوبا ڈوبا سا کیا روز و شب یہ عشق کا ہم کو خسارہ مل گیا پازیب میں کیسی کھنک اترا ہے کانوں ...

مزید پڑھیے

نومبر کی وہی سردی مبارک

نومبر کی وہی سردی مبارک تمہیں اس ربط کی برسی مبارک مبارک ہو ترے ہاتھوں کو مہندی ہماری آنکھ کو سرخی مبارک اگر دنیا ہی تھی خواہش تمہاری چلو تو پھر تمہیں وہ ہی مبارک زمانے بھر کا ہو کر رہنے والے تجھے رشتوں کی آسانی مبارک حوالے خود کو تم نے کر دیا اس نئے ملاح کو کشتی مبارک مکاں ...

مزید پڑھیے

آپ اور آپ کا اثر دونوں

آپ اور آپ کا اثر دونوں کر گئے ہم کو در بہ در دونوں دونوں تنہائیوں کے مارے تھے اس لئے بھی ہیں ہم سفر دونوں ایک بستر ہے بیچ میں تکیہ کیسے سوئیں گے رات بھر دونوں بات بڑھنے کی یہ وجہ بھی تھی بات کرتے تھے مختصر دونوں آپ آئے بھی اور چلے بھی گئے جھوٹ لگتی ہیں یہ خبر دونوں عشق سے لوگ ...

مزید پڑھیے

دھوپ میں جیسے کہاسا اک تصور آپ کا

دھوپ میں جیسے کہاسا اک تصور آپ کا ہے حسیں جھونکا ہوا کا اک تصور آپ کا ذہن میں آ کر کہیں سے گدگدانے لگ گیا دیکھ کر مجھ کو رواںسا اک تصور آپ کا سیڑھیاں کتنی بھی چڑھ لوں بھول جانے کی بھلے سانپ ہے ننانوے کا اک تصور آپ کا یہ نہیں ہو تو خلش ہے اور ہو تو بھی خلش درد ہے لیکن دوا سا اک ...

مزید پڑھیے

معصوم دل کی حسرتیں لفظوں میں ڈھال کر

معصوم دل کی حسرتیں لفظوں میں ڈھال کر رکھے ہیں ہم نے دھوپ میں جگنو نکال کر ہے شدت طلب کا مرے المیہ یہی رکھ دے نہ میری پیاس سمندر ابال کر چلتی نہیں محبتوں میں جلد بازیاں ہوتے نہیں یہ فیصلے سکے اچھال کر وعدوں کے جو کھلونے تھما کر گیا تھا تو میں نے بھی رکھ دئے ہیں کہیں پر سنبھال ...

مزید پڑھیے

شکایت کس سے ہے کس بات کی ہے

شکایت کس سے ہے کس بات کی ہے کمی کوئی نہیں کیا یہ کمی ہے نظر انداز کر کے یہ ملا ہے کہ اب اس کو محبت ہو رہی ہے میں اک دریا کا پیاسا تھا مگر اب اسی دریا کو میری تشنگی ہے سفر میں نیند میں دفتر میں گھر میں کسی کی ہر جگہ موجودگی ہے مرا غم ڈھک لیا ہے قہقہوں نے اجالوں میں غضب کی تیرگی ...

مزید پڑھیے

سفر کو پھر وہیں لے جا رہے ہیں

سفر کو پھر وہیں لے جا رہے ہیں خطوط ان کے انہیں لوٹا رہے ہیں ہماری موت کے کیا فائدے ہیں ہم اپنے آپ کو سمجھا رہے ہیں کہاں کے راہبر کیسی مسافت ہمیں یہ لوگ بس ٹہلا رہے ہیں غزل شعر و سخن کچھ بھی نہیں بس ہم اپنے آپ سے بتلا رہے ہیں ذرا سی بات ہے کیسا تماشہ انہیں جانا تھا اور وہ جا رہے ...

مزید پڑھیے

یہ ترک ربط تو فردا پہ ٹال رکھنا تھا

یہ ترک ربط تو فردا پہ ٹال رکھنا تھا کسی بھی حال میں رشتہ بحال رکھنا تھا دلوں کی تلخیاں سڑکوں پہ کھینچ لایا تو پرانے ربط کا کچھ تو خیال رکھنا تھا یہ اس کی سوچ ہے اپنی وفا کرے نہ کرے تمہیں تو اپنا کلیجہ نکال رکھنا تھا یوں گفتگو کا کوئی سلسلہ بڑھانے کو ہمیں جواب میں پھر سے سوال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4470 سے 6203