قومی زبان

چند لمحات میں صدیوں کا مزہ لے آیا

چند لمحات میں صدیوں کا مزہ لے آیا یا کہوں بیٹھے بٹھائے ہی بلا لے آیا خود کو الجھا کے زمانے کے مسائل میں ادھر میں تری یاد سے اپنے کو بچا لے آیا آگ سے آگ تو لوہے سے کٹے گا لوہا لو نیا زخم پرانے کی دوا لے آیا ایک تقصیر کہ میں جس کی معافی کے لئے ہر دفعہ ایک نئی اور سزا لے آیا سرخ ...

مزید پڑھیے

سانس کا جھونکا بھی اب طوفان ہوتا جائے گا

سانس کا جھونکا بھی اب طوفان ہوتا جائے گا ہر نفس تھوڑا بہت نقصان ہوتا جائے گا چاپ کانوں سے کسی کی دور جاتی جائے گی رفتہ رفتہ یہ بدن بے جان ہوتا جائے گا اجنبی لوگوں کی دل پر دھاک بڑھتی جائے گی اپنے ہی گھر میں کوئی مہمان ہوتا جائے گا پاسبانوں کے حوالے بستیاں ہوں گی اگر جاگنے کا ...

مزید پڑھیے

یوں وحشت جنوں سے بچایا گیا مجھے

یوں وحشت جنوں سے بچایا گیا مجھے خلوت سے دور بھیڑ میں لایا گیا مجھے چشمہ ہٹا کے شہر گھمایا گیا مجھے جو تھا نہیں وہ سب بھی دکھایا گیا مجھے میں تھا بزرگ پیڑ سا آنگن کے بیچ میں سو دیکھتا گیا جو دکھایا گیا مجھے اک حادثے میں جل کے مری موت ہو گئی میں جل چکا تھا پھر بھی جلایا گیا ...

مزید پڑھیے

آئینے کے اس طرف سے اس طرف آتے ہوئے

آئینے کے اس طرف سے اس طرف آتے ہوئے عمر گزری ہے خودی کو خود سے ملواتے ہوئے یوں سمجھ لیجے ہماری عشق میں بے چارگی ڈوب جانا تھا ہمیں تیراکیاں آتے ہوئے جانے اس شب کیا ہوا تھا میری عقل و ہوش کو خود بہکنے لگ گیا تھا اس کو سمجھاتے ہوئے بے سبب کچھ بھی نہیں تھا بے سبب تنقید بھی وہ مٹائے ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی ہی وہ مجھ سے نہیں جھگڑتا ہے

کبھی کبھی ہی وہ مجھ سے نہیں جھگڑتا ہے وگرنہ دیکھتا ہے اور ٹوٹ پڑتا ہے مری نظر سے تو ہے دور وہ بہت لیکن مرے خیال کے ہاں آس پاس پڑتا ہے ہرا بھرا تو بہت تھا وہ بانس کا جنگل کسے پتا تھا مگر آگ بھی پکڑتا ہے یقین اس کی رفاقت کا کر رہا ہوں میں کہ جس کا کام میرے دشمنوں سے پڑتا ہے یہیں پہ ...

مزید پڑھیے

ایک برسات میں میدان سمندر ہوگا

ایک برسات میں میدان سمندر ہوگا درد سوچا نہیں تھا سوچ سے بڑھ کر ہوگا وہ جو آئے گا مرے پاس مسیحا بن کر اس کے ہاتھوں میں مرے نام کا خنجر ہوگا تیز چلنے سے ہے مقصود روانی سن لو تھک کے جو بیٹھ گیا میل کا پتھر ہوگا لاکھ لیتے رہو ہاتھوں کی تلاشی میرے جو بھی اندر ہے مرے ذہن کے اندر ...

مزید پڑھیے

رواںسی شام ہے باقی ابھی تو رت جگے ہوں گے

رواںسی شام ہے باقی ابھی تو رت جگے ہوں گے انہیں کھونے سے پہلے جانے کتنے وسوسے ہوں گے وہ کہتے تھے نہیں جی پائیں گے ہو کر جدا تم سے میں اکثر سوچتا ہوں کیا وہ سچ مچ مر گئے ہوں گے ہمارے ٹوٹنے میں آپ کا کچھ بھی نہیں مانا ہمیں شیشہ رہے ہوں گے ہمیں پتھر رہے ہوں گے میں ان کی یاد میں دن بھر ...

مزید پڑھیے

پک گئی ہیں عادتیں باتوں سے سر ہوں گی نہیں

پک گئی ہیں عادتیں باتوں سے سر ہوں گی نہیں کوئی ہنگامہ کرو ایسے گزر ہوگی نہیں ان ٹھٹھرتی انگلیوں کو اس لپٹ پر سینک لو دھوپ اب گھر کی کسی دیوار پر ہوگی نہیں بوند ٹپکی تھی مگر وہ بوندوں بارش اور ہے ایسی بارش کی کبھی ان کو خبر ہوگی نہیں آج میرا ساتھ دو ویسے مجھے معلوم ہے پتھروں میں ...

مزید پڑھیے

یہ جو شہتیر ہے پلکوں پہ اٹھا لو یارو

یہ جو شہتیر ہے پلکوں پہ اٹھا لو یارو اب کوئی ایسا طریقہ بھی نکالو یارو درد دل وقت کو پیغام بھی پہنچائے گا اس کبوتر کو ذرا پیار سے پالو یارو لوگ ہاتھوں میں لیے بیٹھے ہیں اپنے پنجرے آج صیاد کو محفل میں بلا لو یارو آج سیون کو ادھیڑو تو ذرا دیکھیں گے آج صندوق سے وہ خط تو نکالو ...

مزید پڑھیے

یہ حدوں حصار کی ساعتیں یہ مطالبے یہ قباحتیں (ردیف .. ے)

یہ حدوں حصار کی ساعتیں یہ مطالبے یہ قباحتیں جو نہ ہوں پلوں میں بٹی ہوئی اسی ایک کل کی تلاش ہے کہیں آلہ ایک مشین کا کہیں ڈارون کا ہے بوزنا کبھی پھر سے بن سکے آدمی اسی ایک کل کی تلاش ہے میں مصر نہیں کسی سطح پر کسی طور پر کسی طرح پر جو دے ایک لمحہ کی نیند ہی اسی ایک کل کی تلاش ہے مرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4471 سے 6203