آئنے کتنے یہاں ٹوٹ چکے ہیں اب تک
آئنے کتنے یہاں ٹوٹ چکے ہیں اب تک آفریں ان پہ جو سچ بول رہے ہیں اب تک ٹوٹ جائیں گے مگر جھک نہیں سکتے ہم بھی اپنے ناموں کی حفاظت میں تنے ہیں اب تک رہنما ان کا وہاں ہے ہی نہیں مدت سے قافلہ والے کسے ڈھونڈ رہے ہیں اب تک اپنے اس دل کو تسلی نہیں ہوتی ورنہ ہم حقیقت تو تری جان چکے ہیں اب ...