قومی زبان

آئنے کتنے یہاں ٹوٹ چکے ہیں اب تک

آئنے کتنے یہاں ٹوٹ چکے ہیں اب تک آفریں ان پہ جو سچ بول رہے ہیں اب تک ٹوٹ جائیں گے مگر جھک نہیں سکتے ہم بھی اپنے ناموں کی حفاظت میں تنے ہیں اب تک رہنما ان کا وہاں ہے ہی نہیں مدت سے قافلہ والے کسے ڈھونڈ رہے ہیں اب تک اپنے اس دل کو تسلی نہیں ہوتی ورنہ ہم حقیقت تو تری جان چکے ہیں اب ...

مزید پڑھیے

یہ کون چھوڑ گیا اس پہ خامیاں اپنی

یہ کون چھوڑ گیا اس پہ خامیاں اپنی مجھے دکھاتا ہے آئینہ جھریاں اپنی بنا کے چھاپ لو تم ان کو سرخیاں اپنی کنویں میں پھینک دی ہم نے تو نیکیاں اپنی بدلتے وقت کہ رفتار تھامتے ہیں حضور بدلتے رہتے ہیں اکثر جو ٹوپیاں اپنی قطاریں دیکھ کے لمبی ہزاروں لوگوں کی میں پھاڑ دیتا ہوں اکثر سب ...

مزید پڑھیے

میں اس درخت کا بس آخری ہی پتہ تھا

میں اس درخت کا بس آخری ہی پتہ تھا جسے ہمیشہ ہوا کے خلاف لڑنا تھا میں زندگی میں کبھی اس قدر نہ بھٹکا تھا کہ جب ضمیر مجھے رستہ دکھاتا تھا مشین بن تو چکا ہوں مگر نہیں بھولا کہ میرے جسم میں دل بھی کبھی دھڑکتا تھا وہ بچہ کھو گیا دنیا کی بھیڑ میں کب کا حسین خوابوں کی جو تتلیاں پکڑتا ...

مزید پڑھیے

اس کا ہے عزم سفر اور نکھرنے والا

اس کا ہے عزم سفر اور نکھرنے والا سخت موسم سے مسافر نہیں ڈرنے والا چار گر تجھ سے نہیں کوئی توقع مجھ کو درد ہوتا ہے دوا حد سے گزرنے والا نا خدا تجھ کو مبارک ہو خدائی تیری ساتھ تیرے میں نہیں پار اترنے والا اس پہ احسان یہ کرنا نہ اٹھانا اس کو اپنے پیروں پہ کھڑا ہوگا وہ گرنے ...

مزید پڑھیے

اشک بن کر جو چھلکتی رہی مٹی میری

اشک بن کر جو چھلکتی رہی مٹی میری شعلے کچھ یوں بھی اگلتی رہی مٹی میری میرے ہونے کا سبب مجھ کو بتاتی لیکن میرے پیروں میں دھڑکتی رہی مٹی میری کچھ تو باقی تھا مری مٹی سے رشتہ میرا میری مٹی کو ترستی رہی مٹی میری دور پردیش کے تارے میں بھی شبنم کی طرح میری آنکھوں میں چمکتی رہی مٹی ...

مزید پڑھیے

ذہن میں اور کوئی ڈر نہیں رہنے دیتا

ذہن میں اور کوئی ڈر نہیں رہنے دیتا شور اندر کا ہمیں گھر نہیں رہنے دیتا کوئی خوددار بچا لے تو بچا لے ورنہ پیٹ کاندھوں پہ کوئی سر نہیں رہنے دیتا آسماں بھی وہ دکھاتا ہے پرندوں کو نئے ہاں مگر ان پہ کوئی پر نہیں رہنے دیتا خشک آنکھوں میں اتر آتا ہے بادل بن کر درد احساس کو بنجر نہیں ...

مزید پڑھیے

نہ واپسی ہے جہاں سے وہاں ہیں سب کے سب

نہ واپسی ہے جہاں سے وہاں ہیں سب کے سب زمیں پہ رہ کے زمیں پر کہاں ہیں سب کے سب کوئی بھی اب تو کسی کے مخالفت میں نہیں اب ایک دوسرے کے راز داں ہیں سب کے سب قدم قدم پہ اندھیرے سوال کرتے ہیں یہ کیسے نور کا طرز بیاں ہیں سب کے سب وہ بولتے ہیں مگر بط رکھ نہیں پاتے زبان رکھتے ہے پر بے زباں ...

مزید پڑھیے

جب کوئی زخم ابھرتا ہے کناروں جیسا

جب کوئی زخم ابھرتا ہے کناروں جیسا دل تڑپتا ہے مرا موج کے دھاروں جیسا جب کوئی عکس چمکتا ہے ستاروں جیسا میرا قد بھی نظر آتا ہے مناروں جیسا تیرے ہی در پہ مجھے آ کے سکوں ملتا ہے اک سہارا بھی نہیں تیرے سہاروں جیسا آج بھی سب کے دلوں پہ ہے حکومت جس کی وہ چٹائی پہ بھی لگتا ہے دلاروں ...

مزید پڑھیے

روانی غم کی جس میں تھی وہ جوہر دے دیا میں نے

روانی غم کی جس میں تھی وہ جوہر دے دیا میں نے غزل پیاسی تھی جذبوں کا سمندر دے دیا میں نے جس آبادی میں بے سورج اندھیرا ہی اندھیرا تھا اسے بھی چاندنی راتوں کا منظر دے دیا میں نے جو مدت سے گرے تھے بے پر و بالی کی کھائی میں اڑانوں کے لیے ان کو بھی شہ پر دے دیا میں نے جو پلکوں پر سجا کر ...

مزید پڑھیے

میں نے جب سے چاہت کے جگنوؤں کو پالا ہے

میں نے جب سے چاہت کے جگنوؤں کو پالا ہے زندگی کی وادی میں ہر طرف اجالا ہے ہر طرف ہیں خوشبوئیں ہر طرف اجالا ہے آج میرے آنگن میں کوئی آنے والا ہے سرپھری ہواؤں سے خوف کھا نہیں سکتے جن چراغ زادوں کو آندھیوں نے پالا ہے اونچے رتبے والوں کو دیکھیے تو پامالی مقبروں میں شاہوں کے مکڑیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4469 سے 6203