قومی زبان

ہدایت

روشنی کی کوئی سرحد نہیں کوئی مذہب نہیں ہوا کا کوئی جسم نہیں کوئی ملک نہیں پانی کا کوئی رنگ نہیں روشنی کو کوئی نام نہ دو ہوا کو کوئی جسم نہ دو پانی کو رنگین نہ بناؤ پانی میں لہو نہ ملاؤ

مزید پڑھیے

چھوٹے قد کے لوگ

بلند بانگ دعووں کی آوازیں کھوٹے سکوں کی طرح بجتی ہیں پھر بھی چھوٹے قد کے لوگ ان قد آور آوازوں کو سنتے رہتے ہیں کاغذ کے ٹکڑوں کی اب کوئی قیمت نہ رہی پھر بھی بھوکی آنکھیں انہیں ڈھونڈھتی ہیں اور ناکام رہتی ہیں اور بے رحم ہاتھ انہیں جمع کرتے رہتے ہیں چھوٹے قد کے لوگ اپنی آواز کھو چکے ...

مزید پڑھیے

بارش

کل بھی بارش ہوئی تھی آج بھی بارش ہوگی اور پھر کھوکھلی عظمتیں پیدل چلتی سڑکوں پر کیچڑ اچھالتے ہوئے ہوا کی طرح گزر جائیں گی آراستہ دوکانیں یہ تماشا دیکھیں گی اور ہنسے گی

مزید پڑھیے

میں سن نہیں سکتا

زندگی بس کی قطار کے عشق کی طرح سطحی سہی لیکن بے کیف نہیں زندگی دل کش ہے شہر کے ہنگاموں کی طرح میں ہنگاموں کا دل دادہ ہوں خموشی سے نفرت ہے مجھے کہ میں خاموشی میں بیتے کل کی ٹک ٹک گھڑی کی طرح سن نہیں سکتا

مزید پڑھیے

کوشش

تمہیں بھلانے کی کوشش میں میں نے نہ جانے کتنی لڑکیوں سے جھوٹا پیار کیا ہے

مزید پڑھیے

تعاقب

خواہش کے شکاری کتے میرا پیچھا کر رہے ہیں میری بو سونگھتے ہوئے زندگی کی آخری حد تک آ گئے ہیں اب خوابوں کا گہرا غار بھی مجھے بچا نہیں سکتا

مزید پڑھیے

ترک تعلق کے بعد

اب چائے ٹھنڈی نہیں ہوگی داڑھی اب نہیں بڑھے گی اب قمیص کے بٹن نہیں ٹوٹیں گے تغافل کسی کا اب نہیں ستائے گا اب کسی کے انتظار کا غم نہیں رلائے گا تھکن اب پیروں سے نہیں الجھے گی فاصلے اب درمیاں نہیں آئیں گے دل میں اب کوئی خلش نہیں ہوگی اب دیر تک نیند آئے گی آفس جانے کے لئے مجھے اب بیوی ...

مزید پڑھیے

آخری خواہش

ٹوٹی ہوئی بوتل کی طرح بے کار بے مقصد زندگی کے طاق میں رکھا ہوا ہوں میں وہ کون تھا جو چھوڑ گیا میرے وجود کے شیشے پر اپنی لہو رنگ یادوں کے نشاں اس سے پہلے کہ بارش ان نشانات کو دھو ڈالے میں ریزہ ریزہ ہو جاؤں فرش پر بکھر جاؤں وقت کے پیروں میں چبھ جاؤں فرش زمیں کو رنگیں کر دوں اور خود ...

مزید پڑھیے

روشنی کا غلام

میرا سایہ میرے قد سے بڑا ہے لیکن جب روشنی کا زاویہ بدلے گا سایہ چھوٹا ہو جائے گا میرا سایہ روشنی کا غلام ہے

مزید پڑھیے

اے کاش ہو برسات ذرا اور ذرا اور

اے کاش ہو برسات ذرا اور ذرا اور بڑھ جائے ملاقات ذرا اور ذرا اور ہاتھوں میں ترا ہاتھ یہ کافی تو نہیں ہے مل جائیں خیالات ذرا اور ذرا اور کھلتی ہے یہ تنہائی تو دوری بھی مٹا دے تو مان مری بات ذرا اور ذرا اور بجھتی ہے کہاں پیاس اب آنکھوں سے پلا کر دے پیار کی سوغات ذرا اور ذرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4389 سے 6203