قومی زبان

مطلب کا کوئی شعر سنائیں جہاں پناہ

مطلب کا کوئی شعر سنائیں جہاں پناہ ہم سامعیں پہ قہر نہ ڈھائیں جہاں پناہ بچوں کو بھوکے پیٹ سلانے کے بعد ہم کیسے غزل کے شعر سنائیں جہاں پناہ ہر سو بکھیرتا ہو برابر سی روشنی ایسا بھی اک چراغ جلائیں جہاں پناہ پردے کے پیچھے بیٹھ کہ کھلیں گے کب تلک پردے کے سامنے بھی تو آئیں جہاں ...

مزید پڑھیے

تمہاری تاریخ کوئی بدلے اسے مٹائے تو سر اٹھاؤ

تمہاری تاریخ کوئی بدلے اسے مٹائے تو سر اٹھاؤ اگر شرافت نہ کام آئے نہ حق دلائے تو سر اٹھاؤ کہیں اجالا کہیں اندھیرا بغیر سازش نہیں ہے ممکن چراغ جب روشنی برابر نہ بانٹ پائے تو سر اٹھاؤ کسی کے حصے کی بارشیں جب کسی کی فصلوں کو لہلہائیں اور اس کی سازش کا شک ہوا پر اگر نہ جائے تو سر ...

مزید پڑھیے

زبان بند رکھیں اور تم سے ڈر جائیں

زبان بند رکھیں اور تم سے ڈر جائیں یہ بات ذہن میں آنے سے قبل مر جائیں معافی مانگنے جائیں خدا کے گھر لیکن خطا حرم میں ہوئی ہو تو پھر کدھر جائیں میں اب بدل نہیں سکتا مزاج جینے کا اب آپ چاہیں تو ٹھہریں وگرنہ گھر جائیں بہار نو میں نئے گل تو کھل رہے ہیں مگر جھڑی ہیں شاخ سے جو پتیاں ...

مزید پڑھیے

ہاتھوں کی لکیروں کا لکھا کاٹ رہے ہیں

ہاتھوں کی لکیروں کا لکھا کاٹ رہے ہیں ہم اپنے گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں مٹتی نہیں تاریخ سے کوئی بھی عبارت تاریخ لکھے گی کہ لکھا کاٹ رہے ہیں ہے آج کی فصلوں میں عداوت ہی عداوت کیا بویا تھا ہم نے یہاں کیا کاٹ رہے ہیں ہم پھول ہیں مہکیں گے جدھر جائیں گے لیکن اس باغ میں رہنے کی سزا کاٹ ...

مزید پڑھیے

دیپ اندھوں کے درمیاں ہوگا

دیپ اندھوں کے درمیاں ہوگا تو اجالے کا امتحاں ہوگا دل کے اندر بھی چار خانے ہیں کوئی کیسے نہ بد گماں ہوگا جس کے پیروں تلے زمیں ہوگی اس کے قدموں میں آسماں ہوگا اک حقیقت سے آشنا ہوں میں سب کا دنیا میں امتحاں ہوگا جاؤ گے تم جہاں جہاں احیاؔ اک دوانہ وہاں وہاں ہوگا

مزید پڑھیے

ہیں میرے زخم کی رعنائیاں عجیب و غریب

ہیں میرے زخم کی رعنائیاں عجیب و غریب کہ اس کو چاہئے گہرائیاں عجیب و غریب یہ کس کا زور ہے میرے چراغ کی لو پر بنا رہا ہے جو پرچھائیاں عجیب و غریب ہمارے خواب کی گلیوں سے کون گزرا ہے کہ آ رہی ہیں یہ انگڑائیاں عجیب و غریب نظر اتارتی ہے وقت وقت پر میری ملی ہے ماؤں کو بینائیاں عجیب و ...

مزید پڑھیے

قسم خدا کی نہ جانا کہیں نہیں جانا

قسم خدا کی نہ جانا کہیں نہیں جانا بہت برا ہے زمانہ کہیں نہیں جانا رکو رکو مرے بھائی پتے کی بات سنو یہیں دبا ہے خزانہ کہیں نہیں جانا اگر تمہیں کبھی جانا ہو تم چلے جانا مجھے تو وعدہ نبھانا کہیں نہیں جانا ستارہ خود ہی مرا جب طواف کرتا ہے تو پھر مجھے کہاں جانا کہیں نہیں جانا یوں ...

مزید پڑھیے

جب ہو گیا کمال تو سگریٹ جلا لیا

جب ہو گیا کمال تو سگریٹ جلا لیا یا پھر ہوا ملال تو سگریٹ جلا لیا خود پر کسی کو ہنسنے کا موقع نہیں دیا پوچھا کسی نے حال تو سگریٹ جلا لیا سوکھے گلے سے لفظ کو لانا تھا ذہن تک جب آ گیا خیال تو سگریٹ جلا لیا غصے میں خوں کے گھونٹ تو پیتا رہا مگر آنکھیں ہوئیں جو لال تو سگریٹ جلا ...

مزید پڑھیے

کیوں ہر طرف تو خوار ہوا احتساب کر

کیوں ہر طرف تو خوار ہوا احتساب کر ناراض کیوں ہے تجھ سے خدا احتساب کر حاصل تو ہو گئیں تجھے ساری سہولتیں رزق حلال کتنا ملا احتساب کر ہر دن کریدتا ہے تو اپنے ہی زخم کو کیا ہے یہی مرض کی دوا احتساب کر کب تک رہے گا روشنی کے انتظار میں جلتا نہیں ہے خود سے دیا احتساب کر گمنام ہو گیا ...

مزید پڑھیے

ہجرت کرو تو رشتہ و سامان چھوڑ کر

ہجرت کرو تو رشتہ و سامان چھوڑ کر ورنہ نہ جاؤ تم کبھی میدان چھوڑ کر یوں تو لڑائی جھگڑے کی عادت نہیں مجھے پھر بھی غلط کیا تھا گریبان چھوڑ کر اب کوئی ملنے جلنے کو آتا نہیں ہے گھر میں بھی ہوں بند کمرے میں دالان چھوڑ کر اچھے برے سے پاک یہاں کوئی شے نہیں تم فائدہ گنا کرو نقصان چھوڑ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4390 سے 6203