قومی زبان

پہلے کہہ دیا ہوتا

کہا تم نے مجھے تم سے محبت ہو نہیں سکتی یہی کہنا تھا تو آغاز میں ہی کہہ دیا ہوتا نہ یہ کہتے ہوئے آنکھیں چراتے تم نہ میرے دل میں اتنا بے تحاشا درد ہی اٹھتا نہ میری بے بسی کا امتحاں ایسے لیا ہوتا اگر تم کو یہی کہنا تھا پہلے کہہ دیا ہوتا

مزید پڑھیے

محبت خواب جیسی ہے

کسی بھی آنکھ کی پتلی پہ چپکے سے اترتی ہے نشاں سا چھوڑ جاتی ہے یقیں کے رنگ دھندلا کر گماں سا چھوڑ جاتی ہے محبت کا کوئی کلیہ کوئی قانون لوگوں کی سمجھ میں آ نہیں سکتا کوئی بھی اس کے گہرے بھید ہرگز پا نہیں سکتا چمکتی دھوپ کی ان چلچلاتی زرد تاروں سے بنا ہے اس کو فطرت نے یہ سب رنگوں سے ...

مزید پڑھیے

کہانی اوڑھ لی میں نے

زمانہ چاہتا ہے ہر گھڑی بس نت نئی باتیں نئے دن اور نئی شامیں نئی صبحیں نئی راتیں نئی قسمیں نئے وعدے نئے رشتے نئے ناتے پرانے جو بھی قصے تھے وہ اب اس کو نہیں بھاتے میں خود لفظوں کی مصرعوں کی بہم تکرار سے جاناں بہت اکتا گئی تھی اب تو میں نے یوں کیا لفظوں کو مصرعوں کو لپیٹا سرخ کاغذ ...

مزید پڑھیے

انوسینس

مرے بچے نے جب مجھ سے کہا مما ذرا جگنو مجھے لا دو مجھے تتلی کے رنگوں کو بھی چھونا ہے ستارے آسماں پر ہی اگے ہیں کیوں زمیں پر کیوں نہیں آتے مجھے بس چاند لا دو اس سے کھیلوں گا میں چونک اٹھی یہی کچھ میں نے اپنی ماں سے پوچھا تھا مرا معصوم سا بچپن جو مٹھی سے پھسل کر کھو گیا شاید مرا بچہ جو ...

مزید پڑھیے

خواب آنکھوں میں نہاں ہے اب بھی

خواب آنکھوں میں نہاں ہے اب بھی بجھ گئی آگ دھواں ہے اب بھی وہ مرے پاس نہیں ہے لیکن اس کے ہونے کا گماں ہے اب بھی کیا بہادر کوئی آیا ہی نہیں راہ میں سنگ گراں ہے اب بھی کوئی پیاسا ہی نہیں ہے ورنہ چشمۂ‌ شوق رواں ہے اب بھی گھر کو کاندھے پہ لیے پھرتا ہوں مجھ میں یہ تاب و تواں ہے اب ...

مزید پڑھیے

ٹھہرے پانی میں نہاں ایک حسیں خواب بھی ہے

ٹھہرے پانی میں نہاں ایک حسیں خواب بھی ہے آس کی جھیل میں عکس رخ مہتاب بھی ہے دشت تنہائی کے تپتے ہوئے ویرانے میں تیری یادوں کا ہے اک پیڑ جو شاداب بھی ہے پار کرنا بڑا مشکل ہے کہ یہ بحر‌‌ ہوس کہیں گہرا ہے بہت اور کہیں پایاب بھی ہے اس کی تصویر میں آنکھوں میں بسا لوں کہ یہ شے لاکھ ...

مزید پڑھیے

مری حیات کو بے ربط باب رہنے دے

مری حیات کو بے ربط باب رہنے دے ورق ورق یوں ہی غم کی کتاب رہنے دے میں راہگیروں کی ہمت بندھانے والا ہوں مرے وجود میں شامل شراب رہنے دے تباہ خود کو میں کر لوں بدن کو چھو کے ترے تو اپنے لمس کا مجھ پر عذاب رہنے دے ذرا ٹھہر کہ ابھی خون میں سمائی نہیں مرے قریب بدن کی شراب رہنے دے بھلا ...

مزید پڑھیے

دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گا

دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گا جب نیا زخم بھرے گا تو نشاں بھی دے گا پہلے گزروں گا میں امید و یقیں کی رہ سے پھر ترا پیار مجھے وہم و گماں بھی دے گا پیکر رنگ جو پل بھر میں بکھر جائے گا جاگتی آنکھوں کو خوابوں کا جہاں بھی دے گا تم جلانا مجھے چاہو تو جلا دو لیکن نخل تازہ جو جلے گا ...

مزید پڑھیے

ورق ورق یہ فسانہ بکھرنے والا تھا

ورق ورق یہ فسانہ بکھرنے والا تھا بچا لیا مجھے اس نے میں مرنے والا تھا شگفتہ پھول پریشاں ہوا تو غم نہ کرو کہ وہ تو یوں بھی ہوا میں بکھرنے والا تھا میں اس کو دیکھ کے پھر کچھ نہ دیکھ پاؤں گا یہ حادثہ بھی مجھی پر گزرنے والا تھا صدائے سنگ نے مجھ کو بچا لیا ورنہ میں اس پہاڑ سے ٹکرا کے ...

مزید پڑھیے

ستا رہی ہے بہت مچھلیوں کی باس مجھے

ستا رہی ہے بہت مچھلیوں کی باس مجھے بلا رہا ہے سمندر پھر اپنے پاس مجھے ہوس کا شیشۂ نازک ہوں پھوٹ جاؤں گا نہ مار کھینچ کے اس طرح سنگ یاس مجھے میں قید میں کبھی دیوار و در کی رہ نہ سکا نہ آ سکا کبھی شہروں کا رنگ راس مجھے میں تیرے جسم کے دریا کو پی چکا ہوں بہت ستا رہی ہے پھر اب کیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4388 سے 6203