قومی زبان

غم عاشقی سے بڑھ کر غم زندگی نہیں ہے

غم عاشقی سے بڑھ کر غم زندگی نہیں ہے میں ترے کرم کے قرباں مجھے کچھ کمی نہیں ہے مرے جان و دل کے مالک مجھے بے نیاز غم کر کسی اور در پہ ہرگز یہ جبیں جھکی نہیں ہے مرے شہر جان و دل میں وہ ضیا بکھیرتے ہیں مرا قلب ہے مجلیٰ یہاں تیرگی نہیں ہے اے امیر شہر شاداں مجھے اپنے پاس رکھنا ترے در سے ...

مزید پڑھیے

رکے ہے آمد و شد میں نفس نہیں چلتا

رکے ہے آمد و شد میں نفس نہیں چلتا یہی ہے حکم الٰہی تو بس نہیں چلتا ہوا کے گھوڑے پہ رہتا ہے وہ سوار مدام کسی کا اس کے برابر فرس نہیں چلتا گزشتہ سال جو دیکھا وہ اب کے سال نہیں زمانہ ایک سا بس ہر برس نہیں چلتا نہیں ہے ٹوٹے کی بوٹی جہان میں پیدا شکستہ جب ہوا تار نفس نہیں چلتا

مزید پڑھیے

یہ فرق جیتے ہی جی تک گدا‌ و شاہ میں ہے

یہ فرق جیتے ہی جی تک گدا‌ و شاہ میں ہے وگرنہ بعد فنا مشت خاک راہ میں ہے نشاں مقام کا غم اور نہ رہنما کوئی غرض کہ سخت اذیت عدم کی راہ میں ہے گدا نے چھوڑ کے دنیا کو نقد‌ دیں پایا بھلا یہ لطف کہاں شہ کے عز و جاہ میں ہے پسند طبع نہیں اپنی چار دن کا ملاپ مزا تو زیست کا اے میری جاں نباہ ...

مزید پڑھیے

پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نما

پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نما آیا نظر وہ پاس جو اپنے سے دور تھا اس ماہرو پہ آنکھ کسی کی نہ پڑ سکی جلوہ تھا طور کا کہ سراسر وہ نور تھا دیتے نہ دل جو تم کو تو کیوں بنتی جان پر کچھ آپ کی خطا نہ تھی اپنا قصور تھا ذرہ کی طرح خاک میں پامال ہو گئے وہ جن کا آسماں پہ سر پر غرور تھا

مزید پڑھیے

باغی حدود سے بہت آگے نکل گئے

باغی حدود سے بہت آگے نکل گئے سورج چھوا نہ تھا کہ مرے ہاتھ جل گئے یہ حیرتوں کے بیچ میں حیرت زدہ نقوش کیسے تماشبین تھے پتھر میں ڈھل گئے جذبات میں کچھ اس طرح اس کا بدن تھا سرخ زنجیر آہنی کے کڑے ہی پگھل گئے بگلوں سے ان کے روپ بھگت بن کے آئے کچھ مکھی کو یار چھوڑ کے ہاتھی نگل گئے ٹیلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4159 سے 6203