قومی زبان

مجھے ہزار مرتبہ پکار کر چلا گیا

مجھے ہزار مرتبہ پکار کر چلا گیا وہ ساری عمر میرا انتظار کر چلا گیا اجڑ رہا تھا ٹھیک سے اجڑنے بھی نہیں دیا وہ جانے والا کیوں مجھے سنوار کر چلا گیا یہ کیا خیال آ گیا سفر سے قبل ذہن میں جو ہر طرف غبار ہی غبار کر چلا گیا مرا پھر آنسوؤں پہ اختیار ہی نہیں رہا مری نگاہ کو وہ آبشار کر ...

مزید پڑھیے

نیند راتوں کی مرے یار اڑاتی ہے غزل

نیند راتوں کی مرے یار اڑاتی ہے غزل صبح تک ایک غزل گو کو جگاتی ہے غزل لوگ کہتے ہیں غزل کہنا کوئی کام نہیں کیا خبر ان کو کہ کس کام میں آتی ہے غزل رات جب پاس مرے کوئی نہیں ہوتا ہے مجھ کو سینے سے لگا کر کے سلاتی ہے غزل ایک مصرعہ کہ کوئی شعر عطا کر کے مجھے اپنے چکر میں کئی روز گھماتی ...

مزید پڑھیے

نیا اک جہاں

چلو نیا اک جہاں بسا لیں جہاں ہر انسان ہو برابر نہ کوئی اونچا نہ کوئی نیچا نہ کوئی گورا نہ کوئی کالا کسی کی داڑھی کسی کی چوٹی سے فرق ہوتا نہ ہو جہاں پر جہاں کہ مذہب اگر ہو کوئی تو وہ ہو انسانیت کا مذہب کرے حکومت تو بس محبت نہ کوئی رنجش نہ کوئی نفرت خلوص کو مرنے سے بچا لیں چلو نیا اک ...

مزید پڑھیے

میرے دوستو

مرے دوستو بڑے غور سے میں جو کہہ رہا ہوں اسے سنو نہ وہاں ڈرو نہ کبھی جھکو جہاں ظلم ہو جہاں خوف ہو جہاں جبر ہو جہاں ہو جفا جہاں وحشیوں کا ہجوم ہو جہاں نفرتوں جہاں رنجشوں کا نشہ چڑھا ہو عوام پر ہو اگر وہاں بھی خموش تم تو یہ مان لینا کہ لاش ہو مرے دوستو بڑے غور سے میں جو کہہ رہا ہوں اسے ...

مزید پڑھیے

بے لوث و روادار تمہاری ہی طرح ہو

بے لوث و روادار تمہاری ہی طرح ہو دشمن بھی مرے یار تمہاری ہی طرح ہو میں ہاتھ سے پھر زہر بھی کھا لوں گا تمہارے گر وہ بھی اثر دار تمہاری ہی طرح ہو جاں ہنس کے لٹا دوں گا مگر مجھ میں جو اترے خواہش ہے وہ تلوار تمہاری ہی طرح ہو لو پھول مری قبر کی خاطر تو رہے دھیان ہر پھول کی مہکار ...

مزید پڑھیے

خشک پلکوں کو ترے در پہ بھگونے آیا

خشک پلکوں کو ترے در پہ بھگونے آیا ایک مدت سے جو رویا نہ تھا رونے آیا جانتا ہوں کہ نکلنا ہے یہاں سے مشکل آج آنکھوں میں تری خود کو میں کھونے آیا جس کے پاپوں کے لیے لاکھ سمندر کم ہیں ایک دریا میں گناہوں کو وہ دھونے آیا زندگی میں جو سکوں سے نہ کبھی سوتا تھا اوڑھ کر آج کفن قبر میں ...

مزید پڑھیے

مجھے اس شہر کی آب و ہوا اچھی نہیں لگتی

مجھے اس شہر کی آب و ہوا اچھی نہیں لگتی مسلسل خود فریبی کی قبا اچھی نہیں لگتی الٰہی یہ مرض کیسا لگا مجھ کو نہ جانے کیوں دعا اچھی نہیں لگتی دوا اچھی نہیں لگتی خوشی کی بھی خبر سے اب تو دلچسپی نہیں مجھ کو کہ اب اے زندگی تجھ سے وفا اچھی نہیں لگتی جہاں کے سامنے ہم کو نہ تم پہچان پاتے ...

مزید پڑھیے

اتنی اونچائی سے دھرتی کی خبر کیا جانے

اتنی اونچائی سے دھرتی کی خبر کیا جانے اس کو مٹی نے ہی پالا ہے شجر کیا جانے دفن ہوتے نہ حسیں خواب ادھورے لیکن اپنے مرنے کی گھڑی کوئی بشر کیا جانے جس مسافر کا پتا پوچھ رہے ہو اس کی عمر گزری ہے مسافت میں وہ گھر کیا جانے اس نے نفرت کے سوا اور کبھی کچھ نہ کیا پھر وہ بد ذات محبت کا اثر ...

مزید پڑھیے

پلٹ کر نہ دیکھیں گے تم کو دوبارہ

پلٹ کر نہ دیکھیں گے تم کو دوبارہ چلو اب یہ وعدہ ہے تم سے ہمارا میں وہ تو نہیں ہوں جو ہوتا رہا ہوں مگر اب نہ ہوگا وہ ہونا گوارا کہیں فائدہ تو نظر ہی نہ آئے جہاں دیکھیے بس خسارہ خسارہ جو مٹی میں ملنا ہے سب کو یہیں کی تو کرتے بھی کیوں ہو ہمارا تمہارا ہمیں صاف لفظوں میں کھل کر ...

مزید پڑھیے

شکایت کریں کیا شکایت سے کیا ہو

شکایت کریں کیا شکایت سے کیا ہو اگر جنگ لازم ہے تو حوصلہ ہو بشر کا تو اتنا نہ دل صاف ہوگا تم انساں کی صورت میں جیسے خدا ہو یہ سرکش سمندر نکل پاؤ گے جب جنوں سانس لینے کا سر پر چڑھا ہو محبت میں ہو تو بس اتنا کہوں گا مزہ چار دن کا ہے لمبی سزا ہو کوئی ہر مصیبت سے ہم کو نکالے اثر کر رہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 233 سے 6203