قومی زبان

شام سجا کے کیا کریں یاد کا اہتمام بھی

شام سجا کے کیا کریں یاد کا اہتمام بھی بھول گئے ہیں اب تو ہم اس کا بھلا سا نام بھی راہ میں روک کر اسے آپ ہیں شرمسار ہم یاد ہی آ نہیں رہا اس سے تھا کوئی کام بھی طاق مژہ پہ ضو فشاں مثل چراغ و کہکشاں اس کی گلی کی صبح بھی اس کی گلی کی شام بھی وقت نماز عشق تھا کوئی نہ پیش و پشت جب خود ہی ...

مزید پڑھیے

ہے عجب دھند جدھر آنکھ اٹھا کر دیکھوں

ہے عجب دھند جدھر آنکھ اٹھا کر دیکھوں ریگ ساحل سے نمٹ لوں تو سمندر دیکھوں میرے ہم سایے میں خالی ہے کرائے کا مکان آ کے بس جاؤ کہ میں تم کو برابر دیکھوں جانے کون آ کے پلٹ جاتا ہے دروازے سے ایک سایہ سا میں دہلیز پر اکثر دیکھوں ایسا الجھایا گیا مجھ کو فلک سازی میں اتنی مہلت ہی ...

مزید پڑھیے

اکیلا ہوں مگر آباد ہوں میں

اکیلا ہوں مگر آباد ہوں میں قفس میں ہی سہی آزاد ہوں میں مجھے دل میں لیے وہ گھومتا ہے کہ اس کی ان کہی فریاد ہوں میں یہ دنیا مقتلوں سے کم کہاں ہے سبھی کے قتل سے ناشاد ہوں میں مرے سینے پہ کس کے نقش پا ہیں یہ کس کی ذات سے برباد ہوں میں زمانہ شوق سے سنتا ہے مجھ کو زمانے سے جڑی روداد ...

مزید پڑھیے

مرض لگتا ہے جو مجھ کو اسے میری دوا سمجھے

مرض لگتا ہے جو مجھ کو اسے میری دوا سمجھے دوانہ ہو گیا ہوں میں دوانوں کو وہ کیا سمجھے میں اپنے آپ میں خوش ہوں مجھے اس سے غرض کیا ہے کہ یہ مجھ کو بھلا سمجھے کہ وہ مجھ کو برا سمجھے بچھڑنے کا وہ ہم سے نام تک لینے سے گھبرائے جسے ہم ہجر کہتے ہیں اسے وہ بد دعا سمجھے گناہوں سے بچا جائے ...

مزید پڑھیے

تیغ شمشیر یا خنجر کی ضرورت کیا ہے

تیغ شمشیر یا خنجر کی ضرورت کیا ہے جنگ جب خود سے ہو لشکر کی ضرورت کیا ہے جس نے سمجھا مجھے باہر سے ہی سمجھا صاحب کس کو معلوم کہ اندر کی ضرورت کیا ہے گر ترا قرب میسر ہو تو اے جان ادا سرد راتوں میں بھی بستر کی ضرورت کیا ہے بے وفائی کا تری زخم کوئی کم تو نہیں چوٹ دینی ہو تو پتھر کی ...

مزید پڑھیے

سبھی دل شاد منظر چھوڑ آیا

سبھی دل شاد منظر چھوڑ آیا سفر میں ہوں میں گھر ور چھوڑ آیا تعلق تشنگی سے ہے پرانا یہ سوچا اور سمندر چھوڑ آیا مری قربانیاں کیا پوچھتے ہو پرندہ ہوں اور امبر چھوڑ آیا بھٹکنے کا تھا ایسا شوق مجھ کو کہ میں دامان رہبر چھوڑ آیا جہاں سے زندگی کی ابتدا کی اسی جا موت کا ڈر چھوڑ آیا مرمت ...

مزید پڑھیے

ہم بے گھروں کے دل میں جگاتی ہے ڈر گلی

ہم بے گھروں کے دل میں جگاتی ہے ڈر گلی سوتی ہے آدھی رات کو جب بے خبر گلی مجھ کو تو جان بوجھ کے بھٹکا دیا گیا سرکار کا مکان کہاں اور کدھر گلی کچھ سال قبل میرے بھی حصے میں آئی تھی اک دل نشین شام اور اک منتظر گلی چل تو پڑا ہوں شوق مکاں میں ترے مگر آگے سے بند یہ بھی ملے گی اگر گلی سینے ...

مزید پڑھیے

کچھ دیر میری خاک اڑی ہے مری جگہ

کچھ دیر میری خاک اڑی ہے مری جگہ صحرا میں اس کے بعد تہی ہے مری جگہ میں لے رہا ہوں دشت سے چھٹی سو میرے بعد تخت جنوں پہ بیٹھے کوئی ہے مری جگہ میں تو ادھر کھڑا ہوں ادھر چیختا ہے کون یہ کس کو آگ لگنے لگی ہے مری جگہ میرا ہنر ہے یہ تری دریا دلی نہیں اب تک جو تیرے دل میں بنی ہے مری ...

مزید پڑھیے

رات کی خاموشی کا ماتھا ٹھنکا تھا

رات کی خاموشی کا ماتھا ٹھنکا تھا جانے کس کے ہاتھ کا کنگن کھنکا تھا جھیل نے اپنے سینے پر یوں ٹانک لیا جیسے میں آوارہ چاند گگن کا تھا اس کا لان بہاروں سے آباد رہا سوکھ گیا جو پیڑ مرے آنگن کا تھا تیرے قرب کی خوش بو سے مغلوب ہوا دل میں جو آسیب اکیلے پن کا تھا دل سے در و دیوار کی ...

مزید پڑھیے

کہاں بشارت فصل بہار لائی تھی

کہاں بشارت فصل بہار لائی تھی ہوا تو باغ کی عزت اتار لائی تھی گلوں پہ اڑتی ہوئی تتلیوں سے یاد آیا تری طلب مجھے دریا کے پار لائی تھی صدا نہ پھر مرے بے جان جسم سے نکلی ہوا تو اس کو گپھا تک پکار لائی تھی تمہارے سائے سے ارمان سب نکالے گئے وصال رت ثمر انتظار لائی تھی وہ کوئی خاص چمک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 234 سے 6203