شام سجا کے کیا کریں یاد کا اہتمام بھی
شام سجا کے کیا کریں یاد کا اہتمام بھی بھول گئے ہیں اب تو ہم اس کا بھلا سا نام بھی راہ میں روک کر اسے آپ ہیں شرمسار ہم یاد ہی آ نہیں رہا اس سے تھا کوئی کام بھی طاق مژہ پہ ضو فشاں مثل چراغ و کہکشاں اس کی گلی کی صبح بھی اس کی گلی کی شام بھی وقت نماز عشق تھا کوئی نہ پیش و پشت جب خود ہی ...