گہری رات ہے اور طوفان کا شور بہت
گہری رات ہے اور طوفان کا شور بہت گھر کے در و دیوار بھی ہیں کمزور بہت تیرے سامنے آتے ہوئے گھبراتا ہوں لب پہ ترا اقرار ہے دل میں چور بہت نقش کوئی باقی رہ جائے مشکل ہے آج لہو کی روانی میں ہے زور بہت دل کے کسی کونے میں پڑے ہوں گے اب بھی ایک کھلا آکاش پتنگیں ڈور بہت مجھ سے بچھڑ کر ...