قومی زبان

گہری رات ہے اور طوفان کا شور بہت

گہری رات ہے اور طوفان کا شور بہت گھر کے در و دیوار بھی ہیں کمزور بہت تیرے سامنے آتے ہوئے گھبراتا ہوں لب پہ ترا اقرار ہے دل میں چور بہت نقش کوئی باقی رہ جائے مشکل ہے آج لہو کی روانی میں ہے زور بہت دل کے کسی کونے میں پڑے ہوں گے اب بھی ایک کھلا آکاش پتنگیں ڈور بہت مجھ سے بچھڑ کر ...

مزید پڑھیے

سورج نے اک نظر مرے زخموں پہ ڈال کے

سورج نے اک نظر مرے زخموں پہ ڈال کے دیکھا ہے مجھ کو کھڑکی سے پھر سر نکال کے رکھتے ہی پاؤں گھومتی چکراتی راہ نے پھینکا ہے مجھ کو دور خلا میں اچھال کے کیا خواہشیں زمین کے نیچے دبی رہیں غاروں سے کچھ مجسمے نکلے وصال کے چھن چھن کے آ رہی ہو گپھاؤں میں روشنی تن پر وہی لباس ہوں پیڑوں کی ...

مزید پڑھیے

خنجر چمکا رات کا سینہ چاک ہوا

خنجر چمکا رات کا سینہ چاک ہوا جنگل جنگل سناٹا سفاک ہوا زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا میری ہی پرچھائیں در و دیوار پہ ہے صبح ہوئی نیرنگ تماشا خاک ہوا کیسا دل کا چراغ کہاں کا دل کا چراغ تیز ہواؤں میں شعلہ خاشاک ہوا پھول کی پتی پتی خاک پہ ...

مزید پڑھیے

ستم گروں کا طریق جفا نہیں جاتا

ستم گروں کا طریق جفا نہیں جاتا کہ قتل کرنا ہو جس کو کہا نہیں جاتا یہ کم ہے کیا کہ مرے پاس بیٹھا رہتا ہے وہ جب تلک مرے دل کو دکھا نہیں جاتا تمہیں تو شہر کے آداب تک نہیں آتے زیادہ کچھ یہاں پوچھا گچھا نہیں جاتا بڑے عذاب میں ہوں مجھ کو جان بھی ہے عزیز ستم کو دیکھ کے چپ بھی رہا نہیں ...

مزید پڑھیے

میں چھو سکوں تجھے میرا خیال خام ہے کیا

میں چھو سکوں تجھے میرا خیال خام ہے کیا ترا بدن کوئی شمشیر بے نیام ہے کیا مری جگہ کوئی آئینہ رکھ لیا ہوتا نہ جانے تیرے تماشے میں میرا کام ہے کیا اسیر خاک مجھے کر کے تو نہال سہی نگاہ ڈال کے تو دیکھ زیر دام ہے کیا یہ ڈوبتی ہوئی کیا شے ہے تیری آنکھوں میں ترے لبوں پہ جو روشن ہے اس کا ...

مزید پڑھیے

صحن چمن میں جانا میرا اور فضا میں بکھر جانا

صحن چمن میں جانا میرا اور فضا میں بکھر جانا شاخ گل کے ساتھ لچکنا صبا کے ساتھ گزر جانا سحر بھری دو آنکھیں میرا پیچھا کرتی رہتی ہیں ناگن کا وہ مڑ کر دیکھنا پھر وادی میں اتر جانا زخم ہی تیرا مقدر ہیں دل تجھ کو کون سنبھالے گا اے میرے بچپن کے ساتھی میرے ساتھ ہی مر جانا سورج کی ان ...

مزید پڑھیے

عکس فلک پر آئینہ ہے روشن آب ذخیروں کا

عکس فلک پر آئینہ ہے روشن آب ذخیروں کا گرم سفر ہے قاز قافلہ سیل رواں ہے تیروں کا کٹے ہوئے کھیتوں کی منڈیروں پر ابرک کی زنگاری تھکی ہوئی مٹی کے سہارے ڈھیر لگا ہے ہیروں کا تیز قلم کرنوں نے بنائے ہیں کیا کیا حیرت پیکر جھیل کے ٹھہرے ہوئے پانی پر نقش اترا تصویروں کا کیا کچھ دل کی ...

مزید پڑھیے

کیسے دل کا کہا بتائیں ہم

کیسے دل کا کہا بتائیں ہم راز کی بات کیا بتائیں ہم تم نے پوچھا بھی تو نہیں ہم سے جو تمہیں مسئلہ بتائیں ہم آج انسان سوچتا ہے یہ کیسے خود کو خدا بتائیں ہم غلطیاں ہم نے بھی بہت کی ہیں کس کو کس کی خطا بتائیں ہم ہم نے بھی کون سی وفا کی ہے کیوں اسے بے وفا بتائیں ہم خون کا یا محبتوں والا کس ...

مزید پڑھیے

اس نئے گھر میں بھی ہر چیز پرانی کیوں ہے

اس نئے گھر میں بھی ہر چیز پرانی کیوں ہے گر یہ صورت ہے تو پھر نقل مکانی کیوں ہے کوئی خوبی بھی نہیں نقص بھی لاکھوں مجھ میں تو مرے عشق میں اس درجہ دوانی کیوں ہے ہجر کی بات کرو مجھ سے کبھی خلوت میں پھر یہ سوچو کہ مری آنکھ میں پانی کیوں ہے لکھنؤ شہر مرا شہد سا لہجہ سمجھوں آپ کے شہر ...

مزید پڑھیے

پھول کچلے جا رہے تھے باغباں چیخا کیا

پھول کچلے جا رہے تھے باغباں چیخا کیا یہ زمیں روتی رہی وہ آسماں چیخا کیا جو مکاں والے تھے سارے بے خبر سوتے رہے رات بھر سڑکوں پہ کوئی بے مکاں چیخا کیا جتنے زندہ لوگ تھے سب لاش بن کر رہ گئے جب مدد کے واسطے اک نیم جاں چیخا کیا جانتے تھے ہم بھٹک کر ہی ملیں گی منزلیں اپنے ہی رستے چلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 232 سے 6203