قومی زبان

یاد آتی ہے مجھے جب خوش بیانی آپ کی

یاد آتی ہے مجھے جب خوش بیانی آپ کی کچھ نئے لفظوں میں کہتا ہوں کہانی آپ کی آپ نے پروا نہ کی میں قید ہستی سے چھٹا مہربانی ہو گئی نا مہربانی آپ کی قتل کی ضد ہے نزاکت سے نہیں اٹھتی ہے تیغ دیدنی ہے آج تو شان جوانی آپ کی جاننے والوں سے پردہ اس قدر بیکار ہے حسن ظاہر سب پہ اور یہ لن ترانی ...

مزید پڑھیے

کیوں مچلتا ہے مدعا کیا ہے

کیوں مچلتا ہے مدعا کیا ہے دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے اس مسیحا نفس سے پوچھیں گے آخر اس درد کی دوا کیا ہے تم کسی روز آ کے خلوت میں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے دل کبھی ان سے رسم و راہ نہ رکھ جو نہیں جانتے وفا کیا ہے دل کے چاروں طرف دھواں ہی دھواں یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے اپنا کاسہ تو ...

مزید پڑھیے

حرف غم اس کی صدا ہے شاید

حرف غم اس کی صدا ہے شاید یہ وہی نغمہ سرا ہے شاید یوں جو ہم خود سے خفا بیٹھے ہیں ہم سے وہ روٹھ گیا ہے شاید دھڑکنیں دل کی بہت تیز ہوئیں اس نے کچھ ہم سے کہا ہے شاید جو اڑائے لئے جاتی ہے ہمیں اس کے کوچے کی ہوا ہے شاید آسماں ہے نہ زمیں اپنی جگہ حادثہ کوئی ہوا ہے شاید کیا اجالے میں ...

مزید پڑھیے

حال پوچھا تو ہنس کے ٹال دیا

حال پوچھا تو ہنس کے ٹال دیا اس نے اک امتحاں میں ڈال دیا زخم دنیا نے جس قدر بھی دئے اس نے زخموں کو اندمال دیا کس لئے اب ہوا کا رخ دیکھیں ناؤ کو جب ندی میں ڈال دیا نسبت راہبر بھی کیا شے ہے گرتے گرتے ہمیں سنبھال دیا بارہا ڈوبتے سفینوں کو موج طوفاں نے خود اچھال دیا روشنی بخش دی ...

مزید پڑھیے

کون کس کا رقیب ہے جاناں

کون کس کا رقیب ہے جاناں اپنا اپنا نصیب ہے جاناں اس زمانے سے رسم و راہ نہ رکھ یہ زمانہ عجیب ہے جاناں شہر ظلمت میں دن کا سورج بھی رات اسی کا نصیب ہے جاناں زندگی سے مفاہمت کیا ہو زندگی کچھ عجیب ہے جاناں شادمانی سے بہرہ ور ہو لیں غم کی ساعت قریب ہے جاناں کچھ عنایت ادھر بھی ہو ...

مزید پڑھیے

کیا بتائیں کہ ہم نے کیا دیکھا

کیا بتائیں کہ ہم نے کیا دیکھا کون ظاہر کسے چھپا دیکھا ذرے ذرے میں ہے کہیں موجود اور کہیں سب سے وہ جدا دیکھا جو کسی نے زباں سے فرمایا سچ ہر اک لفظ با خدا دیکھا کوئی صورت جو یاد آئی ہمیں جھانک کر دل کا آئنہ دیکھا خواب کی پوچھتے ہیں تعبیریں یہ بتاتے نہیں کہ کیا دیکھا ہاں اسی دن ...

مزید پڑھیے

مجھ پہ رحمت کا در کھلا رکھنا

مجھ پہ رحمت کا در کھلا رکھنا اپنی چشم کرم سدا رکھنا دل کے آنگن میں کوئی رہتا ہے سامنے اس کے آئنہ رکھنا یہ جو چہرے بدل کے ملتے ہیں ان سے دامن ذرا بچا رکھنا اپنے اشعار تو سنا لیکن کچھ کسی کے لئے بچا رکھنا بندگی کے لئے ضروری ہے ان کی چوکھٹ پہ سر جھکا رکھنا دل جلے گا تو روشنی ...

مزید پڑھیے

دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئی

دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئی تم چلے اٹھ کے مری جان قیامت آئی آپ کے ظلم نے دی میری وفا کو شہرت کہ مرے خون سے بھی بوئے محبت آئی سچ ہے مرنے پہ نہیں کوئی کسی کا دل سوز شمع بھی بجھ گئی جس دم سر تربت آئی آہ سے میری زمیں ہل گئی تارے ٹوٹے میں یہ سمجھا کہ زمانے میں قیامت آئی مسکراتے ...

مزید پڑھیے

اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے

اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے اڑ گئے ٹکڑے فلک کے آہ کی تاثیر سے راز الفت کے عیاں ہونے کا ڈر جاتا رہا خامشی سیکھی ہے ہم نے بلبل تصویر سے چھیڑتا ہے کس لیے ناصح اسیر زلف کو دم الجھتا ہے تری الجھی ہوئی تقریر سے کس کا دل زخمی کیا تو نے ستم گر کیا کیا خوں ٹپکتا ہے لب سوفار و نوک تیر ...

مزید پڑھیے

باتوں باتوں میں کیا خوں آج اک دلگیر کا

باتوں باتوں میں کیا خوں آج اک دلگیر کا واہ کیا کہنا تری رنگینیٔ تقریر کا بے سبب کب ہے تڑپنا عاشق دلگیر کا سینے سے پیکاں نکلتا ہے تمہارے تیر کا نو گرفتاروں کی وحشت کا بھی ہو کچھ امتحاں آج سننا چاہیے نالہ نئی زنجیر کا باعث حیرت ہوا بیماری دل کا اثر دیکھو اب تو رنگ اڑتا ہے مری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2299 سے 6203