قومی زبان

درد حد سے گزر نہ جائے کہیں

درد حد سے گزر نہ جائے کہیں آ کہ بیمار مر نہ جائے کہیں ہوش کر ہوش کر مریض الم زخم دل کا یہ بھر نہ جائے کہیں ایک ہی در سے مل گیا سب کچھ مانگنے در بدر نہ جائے کہیں آپ کو دیکھنے کے بعد نظر اب ادھر اور ادھر نہ جائے کہیں تیرہ بختی پہ مت ہنسو میری پھر مقدر سنور نہ جائے کہیں اپنے گیسو ...

مزید پڑھیے

بدلی بدلی تری نظر کیوں ہے

بدلی بدلی تری نظر کیوں ہے تو خفا مجھ سے اس قدر کیوں ہے گفتگو میں اگر مگر کیوں ہے بات کہنے میں تجھ کو ڈر کیوں ہے دل کے زخموں کو چاک کرنے میں یہ پس و پیش چارہ گر کیوں ہے چاند اترا ہے شاید آنگن میں روشنی اتنی میرے گھر کیوں ہے شہر میں ہے اگر امان تو پھر سہما سہما سا ہر بشر کیوں ...

مزید پڑھیے

لذت الفت سے کوئی آشنا ہوتا نہیں

لذت الفت سے کوئی آشنا ہوتا نہیں دو دلوں کے بیچ جب تک فاصلہ ہوتا نہیں مجھ کو اس درجہ نوازا ہے کسی کے عشق نے منقطع اب رنج و غم کا سلسلہ ہوتا نہیں بے وفائی سے تری میں خوب واقف ہوں مگر اپنے دل کو کیا کروں مجھ سے گلہ ہوتا نہیں بس تبھی تک تیری خوش فہمی کا باقی ہے بھرم آئنے سے تیرا جب تک ...

مزید پڑھیے

درد کی جب انتہا ہو جائے گی

درد کی جب انتہا ہو جائے گی انتہا خود ہی دوا ہو جائے گی رابطہ رکھئے غموں سے خود بہ خود زندگی غم آشنا ہو جائے گی کر نہ اے دل شکوۂ جور و جفا ورنہ توہین وفا ہو جائے گی بس انہیں آنے تو دو پھر دیکھنا دل کی دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی چھوڑ دو گے ساتھ اگر تم بھی مرا زندگی بے آسرا ہو جائے ...

مزید پڑھیے

الٰہی اب کے جو آئے تو یوں بہار آئے

الٰہی اب کے جو آئے تو یوں بہار آئے کہ اپنے ساتھ لئے بوئے زلف یار آئے یہ بات کیا ہے جو یوں کھوئے کھوئے رہتے ہو ضرور تم کہیں جا کر دل اپنا ہار آئے جب ان کی بزم ہو ہم ہوں اور ان کے جلوے ہوں وہ دن بھی زیست میں اے کاش ایک بار آئے ہمارے گھر بھی وہ اک دن ضرور آئیں گے تمام عمر اس امید پر ...

مزید پڑھیے

موسم گل ہے گھٹا ہے جام ہے

موسم گل ہے گھٹا ہے جام ہے انتظار ساقیٔ گلفام ہے ایک ساقی ایک مے اک جام ہے پھر یہ کیسا فرق خاص و عام ہے غم تو ہے اس واسطے مجھ کو عزیز یہ ترا بخشا ہوا انعام ہے کیا سبب ہے جلوہ گاہ حسن میں جس کو دیکھو بندۂ بے دام ہے موت نے آ کر مداوا کر دیا اب ترے بیمار کو آرام ہے جان تو خود آ کے ...

مزید پڑھیے

ان سے اظہار خواہشات نہ کر

ان سے اظہار خواہشات نہ کر اور تازہ غم حیات نہ کر جس سے اے دوست دل کو ٹھیس لگے مجھ سے للہ ایسی بات نہ کر رخ پہ اس طرح کاکلیں نہ بکھیر صبح روشن کو کالی رات نہ کر راہ رو مل ہی جائے گی منزل ہاں اگر خوف مشکلات نہ کر آخرت کا خیال ہی نہ رہے اس قدر فکر کائنات نہ کر زندگی ہے تو حادثے ہیں ...

مزید پڑھیے

مایوس اتنے ہو گئے تیرہ شبی سے ہم

مایوس اتنے ہو گئے تیرہ شبی سے ہم دامن بچائے پھرتے ہیں اب روشنی سے ہم اے گردش زمانہ ہمیں دھمکیاں نہ دے ہر وقت کام لیتے ہیں زندہ دلی سے ہم جو ہیں بلند حوصلہ کہتے نہیں کبھی تنگ آ گئے ہیں کشمکش زندگی سے ہم ان کی نگاہ لطف ہے غیروں پہ آج کل بیٹھے ہوئے ہیں بزم میں اک اجنبی سے ہم ہر اک ...

مزید پڑھیے

چھتیس سال کا بھی سنیاس چھین کر

چھتیس سال کا بھی سنیاس چھین کر یہ کون لے گیا مرا بن باس چھین کر اے شاہ کربلا مری امداد کو اب آ خوش ہے غنیم مجھ سے مری پیاس چھین کر سایہ نہ ہو تو دھوپ جلاتی ہے جسم کو تم کیا کرو گے دھرتی سے آکاس چھین کر جینے کی جو امنگ تھی وہ بھی نہیں رہی بے آس کر گیا کوئی ہر آس چھین کر تم نے ...

مزید پڑھیے

یاس و حسرت درد و غم ان سب کی منزل ایک ہے

یاس و حسرت درد و غم ان سب کی منزل ایک ہے بیکسی میں آفتیں اتنی ہیں اور دل ایک ہے وحشت قیس اور میرے غم کا حاصل ایک ہے واقعے یکسر جدا ہیں حسرت دل ایک ہے حالت قلب و جگر دیکھی یہ تیرے ہجر میں جان سے اک جا چکا ہے نیم بسمل ایک ہے بزم جاناں میں بہت جاتا تھا دل یادش بخیر یعنی اس گم گشتہ کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2298 سے 6203