قومی زبان

دلبر کا کیا گلہ کوئی غم خوار بھی نہیں

دلبر کا کیا گلہ کوئی غم خوار بھی نہیں پہلو میں آج تو دل بیمار بھی نہیں مرنا وہ جس کو حیلہ و آزار بھی نہیں قاتل وہ جس کے ہاتھ میں تلوار بھی نہیں تسکین دل محال ہے حالت کہے بغیر اس پر ستم کہ طاقت گفتار بھی نہیں محو جمال ہو کے مروں آرزو یہ ہے حالت یہ ہے کہ طاقت دیدار بھی نہیں اللہ ...

مزید پڑھیے

قربان ہے سو جان سے تم پر گلہ کیسا

قربان ہے سو جان سے تم پر گلہ کیسا دیکھو تو مرے دل نے کیا حوصلہ کیسا ہوتا ہے مگر قید کوئی آپ کا وحشی سنیے تو ہے زنداں کی طرف غلغلہ کیسا ہاں شدت درد جگری بزم میں لائی دل مر گیا اے دوست تو پھر ولولہ کیسا تو نے تو کہا ہے میں رگ جاں سے قریں ہوں اور ہجر کا ہے قول کہ یہ فاصلہ کیسا مر ...

مزید پڑھیے

اس ستم گار نے سیکھا ہے خفا ہو جانا

اس ستم گار نے سیکھا ہے خفا ہو جانا کیا قیامت ہوا نالوں کا رسا ہو جانا نزع میں بڑھ کے کھٹک دل سے یہی کہتی ہے آج تو درد کا ممکن ہے دوا ہو جانا لے کے پیغام قضا باد بہاری آئی نا مبارک ہوا زخموں کا ہرا ہو جانا عرش تھرائے گا اغیار کے دل ٹوٹیں گے نالہ کرتا ہوں مگر تم نہ خفا ہو جانا دم ...

مزید پڑھیے

دیکھ تو فرقت میں کیا کیا حال دل پر غم ہوا

دیکھ تو فرقت میں کیا کیا حال دل پر غم ہوا رات بھر سینے میں اے ظالم بڑا ماتم ہوا دل کے مرنے سے جہاں کب درہم و برہم ہوا سینہ کوبی میں نے کی اتنا فقط ماتم ہوا طاقت فریاد آئی کچھ عجب عالم ہوا لو قیامت آ گئی درد جگر پھر کم ہوا ٹانکے ٹوٹے زخم دل کے بڑھ گیا جوش جنوں کھل گئیں کلیاں بہار ...

مزید پڑھیے

دوبارہ زیست کہیں غم میں مبتلا نہ کرے

دوبارہ زیست کہیں غم میں مبتلا نہ کرے وہ ساتھ غیر کے ہوں حشر میں خدا نہ کرے اداس ہوں کہ مرا دل نہیں ہے پہلو میں مری طرح کوئی مغموم ہو خدا نہ کرے سمجھ میں آئے جو برگشتگی مقدر کی مریض آپ کا مرنے کی بھی دعا نہ کرے جفا جو چاہے کرے ناصریؔ وہ دل آزار کسی غریب سے دل کو مگر جدا نہ کرے

مزید پڑھیے

کس طرح زخمی کیا تم نے نگاہ ناز سے

کس طرح زخمی کیا تم نے نگاہ ناز سے رات بھر رویا کیا دل درد کی آواز سے میرے دل کو تم نے چھیڑا کچھ عجب انداز سے رنگ محفل بڑھ گیا اس ساز کی آواز سے دیکھتے ہیں وہ رخ بیمار اس انداز سے دل دھڑکتا ہے شکست رنگ کی آواز سے سامنے آ کوئی کہہ دے اس قدر انداز سے دیکھ دل بڑھتے ہیں تیرے تیر کی ...

مزید پڑھیے

ہم اچھے مضامین کو غارت نہیں کرتے

ہم اچھے مضامین کو غارت نہیں کرتے بچوں کی طرح ایسی شرارت نہیں کرتے غزلوں کی تو ہر طرح سے کرتے ہیں حفاظت بھولے سے بھی نظموں کی تجارت نہیں کرتے ڈھہ جائے جو اک ریت کی دیوار کی صورت تعمیر ہواؤں میں عمارت نہیں کرتے سہہ لیتے ہیں دانستہ بھی حالات کے دھکے لیکن شہ جابر کی سفارت نہیں ...

مزید پڑھیے

بھیجتا ہوں آپ کو اپنی پسندیدہ غزل

بھیجتا ہوں آپ کو اپنی پسندیدہ غزل تازہ تازہ ناشنیدہ اور نادیدہ غزل داستان حسن بھی ہے یہ سراپا حسن بھی سنگ مرمر سے مثال بت تراشیدہ غزل میرؔ غالبؔ ذوقؔ و مومنؔ پر بھی تھی جاں سے نثار تھی بہادر شاہ کی ہر چند گرویدہ غزل شہرۂ آفاق ہے اس کا جمال فکر و فن ساری اصناف سخن میں ہے جہاں ...

مزید پڑھیے

ہزل

غیر سے تھوڑی سی اک دن بے وفائی کر کے دیکھ کتنا سچا پیار ہے میرا ٹرائی کر کے دیکھ خط نہیں لکھتا ہوں میں مجھ کو نہ یہ الزام دے اپنی الماری کی بھی ایک دن صفائی کر کے دیکھ سوئی دھاگہ ہاتھ میں ہے اور کوئی کپڑا نہیں کھال حاضر ہے مری اس پر کڑھائی کر کے دیکھ روبرو ہو یار تو رخ اپنا اس سے ...

مزید پڑھیے

یوں ٹھنی رات تری یاد سے تکرار خیال

یوں ٹھنی رات تری یاد سے تکرار خیال گنگناتی رہی ہر آن شب تار خیال چھوڑ کر میرے در و بام وہ مستور تو ہے بن کے رہتا ہے مگر نقش بہ دیوار خیال ماند پڑنے لگی جب آئینۂ دل کی جلا ایک ہی عکس دکھانے لگا زنگار خیال ہو کے خوشبوئے گل راز اڑے گا اک دن کب تلک قید رہے گا پس دیوار خیال تجھ سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2300 سے 6203