قومی زبان

یہ کیسے موڑ پہ حالات آج لائے مجھے

یہ کیسے موڑ پہ حالات آج لائے مجھے کہ میرے اپنے بھی لگتے ہیں اب پرائے مجھے کوئی تو بات ہے میں سہما سہما رہتا ہوں کوئی خیال ہے جو ہر گھڑی ستائے مجھے خطائیں خود کروں الزام دوں مقدر کو عجیب بات ہے پھر بھی نہ شرم آئے مجھے میں جانتا ہوں یہ منزل بھی اور رستہ بھی مگر طریق سفر اجنبی ...

مزید پڑھیے

ناامیدی کی بات مت کرنا

ناامیدی کی بات مت کرنا ضائع اپنی حیات مت کرنا غیرت دل کا یہ تقاضا ہے دن کو تسلیم رات مت کرنا کیسے کہہ دو گے ذہن آدم سے فکر کل کائنات مت کرنا چاندنی میں نہائے پھولوں کو نذر تاریک رات مت کرنا دشت میرے جنوں کو کہتا ہے میری وسعت کو مات مت کرنا ایک مدت کے بعد سویا ہوں زور سے کوئی ...

مزید پڑھیے

دھوپ ڈھلی تو شام ہوئی

دھوپ ڈھلی تو شام ہوئی گویا عمر تمام ہوئی بارش پیاسے صحرا میں حیف برائے نام ہوئی کیا لازم اصلی ہو چیز شہرت جس کی عام ہوئی ظالم کی بیداد گری مظلوموں کے نام ہوئی یادوں نے جب دستک دی میٹھی نیند حرام ہوئی قسمت ہی نے منہ موڑا ہر کوشش ناکام ہوئی نازؔ کہوں کیا عمر مری نذر خیال خام ...

مزید پڑھیے

کیوں دلوں کا سکوں لٹا آخر

کیوں دلوں کا سکوں لٹا آخر لوگ کیا کر گئے خطا آخر ہو گیا وہ بھی بے وفا آخر جس کا ڈر تھا وہی ہوا آخر جانے والی صدی سے پوچھے کون خون کیوں اس قدر بہا آخر کیوں نگاہیں بدل گئیں تیری کیا خطا میں نے کی بتا آخر وقت آخر یہ دین کی باتیں یاد آیا انہیں خدا آخر دل خانہ خراب کے ہاتھوں زندگی ...

مزید پڑھیے

کب طبیعت کو راس آئے ہیں

کب طبیعت کو راس آئے ہیں یہ جو دل پر غموں کے سائے ہیں رہزنوں سے نہیں کوئی شکوہ رہبروں سے فریب کھائے ہیں سرد راتوں میں سرد آہوں نے اشک آنکھوں ہی میں جمائے ہیں چاندنی نے سفید مخمل پر آج جادو کئی جگائے ہیں حیف یہ نیتوں کے کھوٹے لوگ آپ ہی اپنا گھر جلائے ہیں وقت کی کیا ستم ظریفی ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

ہوا چلی ہوا چلی گھنے طویل جنگلوں کو نیند سے جگا چلی ادائے خامشی کو گدگدا چلی خزاں کی زرد سیج سے کسی کی یاد آنکھیں ملتی اٹھ کھڑی چراغ درد لے کے سرد ہاتھ پر بھٹک کے پات پات پر تھکی تھکی سے روشنی لٹا چلی میں اجنبی ہوں جس کے سر پہ دھوپ کا کڑا سرا گرا ہوں راہ بھول کر گئے زمانے کے مہیب ...

مزید پڑھیے

ان کی باتوں کو تولتا ہوں میں

ان کی باتوں کو تولتا ہوں میں پھر زباں اپنی کھولتا ہوں میں کیوں نہ میٹھا ہو نیم نفرت کا پیار کا رس جو گھولتا ہوں میں دوش دینے سے پہلے اوروں کو عیب اپنا ٹٹولتا ہوں میں سامنا آندھیوں کا کیا کرتا جب ہواؤں سے ڈولتا ہوں میں مارنا ڈنک میری فطرت ہے اس لئے کچھ بھی بولتا ہوں میں

مزید پڑھیے

نہیں کی قبول مداخلت نہ یسار سے نہ یمین سے

نہیں کی قبول مداخلت نہ یسار سے نہ یمین سے جو کیا ہے اچھا برا عمل وہ کیا ہے اپنے یقین سے مجھے چاند تاروں کی بزم میں نہ تلاش کر کہ ابھی تلک مجھے اپنی مٹی سے پیار ہے مرا رابطہ ہے زمین سے مجھے ایک بار نکال کے یہ جو پھر بلایا ہے خلد میں تو پھر اس کے معنی یہی ہوئے ہے شرف مکاں کو مکین ...

مزید پڑھیے

کشتی کو کنارے پہ ڈبونا نہیں آتا

کشتی کو کنارے پہ ڈبونا نہیں آتا جو جیت چکے ہیں اسے کھونا نہیں آتا یہ کون سی منزل ہے خدا جانے جنوں کی اب کوئی بھی دکھ ہو ہمیں رونا نہیں آتا کاندھوں پہ ہمارے ہی رہا عشق سلامت یہ بوجھ کسی اور کو ڈھونا نہیں آتا تب ذہن میں آتی ہے کوئی اس کے بغاوت جب ہاتھ میں بچے کے کھلونا نہیں ...

مزید پڑھیے

یہ بھی نہیں کہ بالا و برتر نہیں ہوں میں

یہ بھی نہیں کہ بالا و برتر نہیں ہوں میں مانا کہ مشت خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں کافی ہے اک کرن بھی مٹانے کے واسطے شبنم ہوں برگ گل پہ سمندر نہیں ہوں میں کیوں کر قفس میں مجھ کو نہ آئے چمن کی یاد بے بال و پر ضرور ہوں بے گھر نہیں ہوں میں ظلم و ستم کی ساری حدیں پار کر گیا پھر بھی وہ کہہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2220 سے 6203