قومی زبان

راستہ تنگ ہے لیکن ہمیں چلنا ہوگا

راستہ تنگ ہے لیکن ہمیں چلنا ہوگا بھیڑ سے بچ کے بہرحال نکلنا ہوگا لے لیا ہم نے مقدر سے گلابوں میں جنم اب یہ سچائی ہے کانٹوں میں ہی پلنا ہوگا جن چراغوں پہ اجالوں کی ہے ذمہ داری آندھیوں میں بھی بلا خوف انہیں جلنا ہوگا ہم نے برفیلی چٹانوں سے محبت کر لی وہ پگھلتی ہیں تو ہم کو بھی ...

مزید پڑھیے

دور حاضر کا یہ کردار خدا خیر کرے

دور حاضر کا یہ کردار خدا خیر کرے ماں سے بیٹے کو نہیں پیار خدا خیر کرے پیار اوروں میں تو ہم بانٹ رہے تھے کل تک آج آپس میں ہے تکرار خدا خیر کرے بسکہ آباد ہمارے ہی لہو سے ہے چمن ہم چمن کے نہیں حق دار خدا خیر کرے ایک نا اہل ہے اس وقت چمن کا مالی پھول بھی تو نہیں بیدار خدا خیر ...

مزید پڑھیے

بس اور کیا کہوں اس سلسلہ میں توبہ ہے

بس اور کیا کہوں اس سلسلہ میں توبہ ہے مجھے جو پہنچا ہے دکھ دوستوں سے پہنچا ہے مرے وجود سے حیرت میں ہے مفسر عقل وہ راز ہوں جو نہ مستور ہے نہ افشا ہے مجھے حیات سے ہے اس لیے بھی دلچسپی یہ ایک دن کا نہیں عمر بھر کا سودا ہے وہ تیرے لطف تبسم کی نغمگی اے دوست کہ جیسے قوس قزح پر ستار بجتا ...

مزید پڑھیے

گم بہ خود بیگانۂ ہر عیش محفل ہو گئے

گم بہ خود بیگانۂ ہر عیش محفل ہو گئے ان سے مل کر اور بھی تنہا ہم اے دل ہو گئے کتنی نامنظور قدریں تھیں جو اپنانی پڑیں کتنے ہی پیارے عقائد تھے جو باطل ہو گئے علم جب کچھ بھی نہ تھا تو اس قدر جاہل نہ تھے علم کچھ حاصل ہوا تو اور جاہل ہو گئے زندگی کا لطف طوفاں میں ہے طغیانی میں ہے حیف ...

مزید پڑھیے

جو کچھ نمایاں ہوا الاماں معاذ اللہ

جو کچھ نمایاں ہوا الاماں معاذ اللہ تلطف و کرم دوستاں معاذ اللہ کہے گی وہ نگۂ اعتماد آگیں کیا کھلیں گی جب مری عیاریاں معاذ اللہ وہ راہ عشق میں دل کی مآل اندیشی وہ میری عقل کی نادانیاں معاذ اللہ پھر ان کے لطف کا موسم پلٹ کے آئے گا تخیلات کی گل کاریاں معاذ اللہ یہ مے کدہ تو ...

مزید پڑھیے

حسن سے کم نہیں مرتبہ عشق کا

حسن سے کم نہیں مرتبہ عشق کا وہ بھی شعلہ بدن ہم بھی آتش نوا اک تبسم کی اوقات کیا تھی مگر آج تک جھیلتا ہوں اسی کی سزا پیار کی ریت پر سر خوشی کا محل سادہ لوحی کی بھی ہو گئی انتہا تھے کبھی نغمۂ محفل گل رخاں آج ہم ہو گئے جنگلوں کی صدا لاؤ مر کے بھی دیکھیں کسی راہ میں شاید آ جائے یوں ...

مزید پڑھیے

بڑی تمنا ہے جاؤں سوئے ستم کسی دن

بڑی تمنا ہے جاؤں سوئے ستم کسی دن مزاج پوچھے تو کوئی اہل کرم کسی دن وہ بھیگا چہرہ سبھوں سے ہٹ کر سوال پوچھے ہماری آنکھوں کی آگ ہوگی نہ کم کسی دن ہمارے مسلک کا آدمی کیا کہے گا ہم کو جو ڈھل گئے مصلحت کے سانچے میں ہم کسی دن ہمارے مابین بد گمانی کی اینٹ کیسی ملے جو موقع تو پوچھیں تجھ ...

مزید پڑھیے

تیری بزم طرب کی سر خوشی کچھ اور کہتی ہے

تیری بزم طرب کی سر خوشی کچھ اور کہتی ہے مرے ماحول کی سنجیدگی کچھ اور کہتی ہے فضائے شام مے خانہ ابھی کچھ اور کہتی ہے ہماری شدت تشنہ لبی کچھ اور کہتی ہے فروزاں تو ہے بام زندگی فن کے چراغوں سے مگر عہد ہنر کی روشنی کچھ اور کہتی ہے تمہاری چاک دامانی بہ فصل گل بجا یارو مذاق عشق کی ...

مزید پڑھیے

وہ ایک پل کو مجھے اتنا سچ لگا تھا کہ بس

وہ ایک پل کو مجھے اتنا سچ لگا تھا کہ بس وہ حادثہ تھا مگر ایسا حادثہ تھا کہ بس وہ پہلے پہلے ملا تھا تو یوں سجا تھا کہ بس پھر اس کے بعد تو ایسا اجڑ گیا تھا کہ بس میں اپنے گاؤں کے دیوار و در پہ کیا لکھتا وہاں تو ایسا اندھیرا چنا ہوا تھا کہ بس وہ ایک عام سا لہجہ تھا بھیگے موسم کا نگاہ ...

مزید پڑھیے

وہ ماہر زبان و بیاں ماہر سخن

وہ ماہر زبان و بیاں ماہر سخن غالب کے ہم نوا وہ شناسائے علم و فن تاثیر تھی زباں میں تو گفتار پرکشش اب بھی مجھے ہے یاد وہ لہجے کا بانکپن عابد معلمی کو عبادت سمجھتے تھے تحقیق تھی عمامہ تو تنقید پیرہن خود ان ہی کے جلائے چراغوں کے نور سے علم و عمل کی آج بھی روشن ہے انجمن

مزید پڑھیے
صفحہ 2219 سے 6203