قومی زبان

جہان رنگ و بو میں کیا نہیں ہے

جہان رنگ و بو میں کیا نہیں ہے مگر کوئی کہیں تجھ سا نہیں ہے بہت پھیلا ہے یہ شہر تمنا یہاں ممکن سکوں پانا نہیں ہے ہنسے جو آبلہ پائی پہ تیری وہ تیرا ہم سفر تیرا نہیں ہے نہ اترا اس قدر باد خزاں تو کوئی پتا ابھی سوکھا نہیں ہے نہیں کوئی نہیں ہے میرے جیسا مرا سایہ بھی مجھ جیسا نہیں ...

مزید پڑھیے

ریزہ ریزہ عزم سفر ہے

ریزہ ریزہ عزم سفر ہے دھندلی دھندلی راہ گزر ہے پھیکا پھیکا رنگ بہاراں سونا سونا ہر منظر ہے آدھی رات صدا کس نے دی شمع بجھا دو وقت سحر ہے اڑتی ریت کا کیا مستقبل اک صحرا تا حد نظر ہے قتل چھپے گا آخر کیسے خون ادھر ہے داغ ادھر ہے جال بچھا ہے ہر گوشے میں کہتے ہو صیاد کدھر ہے نازؔ ...

مزید پڑھیے

پڑھنے کو بہت کچھ ہے کتابوں کے علاوہ

پڑھنے کو بہت کچھ ہے کتابوں کے علاوہ کچھ اور پڑھو یار نصابوں کے علاوہ کیا اور بھی کچھ لوگ یہاں جان سے گزرے ہم عشق زدہ خانہ خرابوں کے علاوہ ہر روز نیا روز قیامت ہے زمیں پر اب یاد نہیں کچھ بھی عذابوں کے علاوہ سنتے ہیں کوئی جوگی یہاں آیا ہوا ہے تعبیر بتاتا ہے جو خوابوں کے علاوہ گر ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ اس کی مانیں یہ گوارا بھی نہیں ہوتا

ہمیشہ اس کی مانیں یہ گوارا بھی نہیں ہوتا بغیر اس شخص کے لیکن گزارا بھی نہیں ہوتا خدا جانے کہ اب یوسف خریدے کیوں نہیں جاتے بظاہر اس تجارت میں خسارہ بھی نہیں ہوتا ضروری تو نہیں کہ ہر دعا منظور ہو جائے مگر اس سے بڑا کوئی سہارا بھی نہیں ہوتا محبت کی حرارت سے پگھل جاتے ہیں پتھر ...

مزید پڑھیے

آپ کا انتظار بھی تو نہیں

آپ کا انتظار بھی تو نہیں دل کو لیکن قرار بھی تو نہیں گرچہ مجبور بھی نہیں ہم لوگ صاحب اختیار بھی تو نہیں درد کم تو ہوا ہے چارہ گر درد کا اعتبار بھی تو نہیں تیری دیوار پر لگا دیتے زندگی اشتہار بھی تو نہیں جاں نثاری ہمارا شیوہ ہے ہر کوئی جاں نثار بھی تو نہیں بے وفا لوگ ہیں تو پھر ...

مزید پڑھیے

دل ہی تو ہے نگاہ کرم سے پگھل گیا

دل ہی تو ہے نگاہ کرم سے پگھل گیا شکوہ لبوں پہ آ کے تبسم میں ڈھل گیا پہونچا نہ تھا یقین کی منزل پہ میں ابھی میرا خیال مجھ سے بھی آگے نکل گیا خلوت بنی ہوئی تھی تری انجمن مگر میں آ گیا تو بزم کا نقشہ بدل گیا واں مطمئن کرم کہ دیا ہے بقدر ظرف یاں اضطراب شوق میں ساغر بدل گیا ہے چشم ...

مزید پڑھیے

شکوہ جو میرا اشک میں ڈھلتا چلا گیا

شکوہ جو میرا اشک میں ڈھلتا چلا گیا سارا غبار دل کا نکلتا چلا گیا روشن کیا امید نے یوں جادۂ حیات ہر گام پہ چراغ سا جلتا چلا گیا راس آ سکی سکوں کو نا تدبیر ضبط غم آنکھوں سے خون دل کا ابلتا چلا گیا جس پر مرے فریب تمنا کو ناز تھا وہ دن بھی انتظار میں ڈھلتا چلا گیا پچھلے پہر جو شمع ...

مزید پڑھیے

اتنی شدت بھی کیا پیاس میں تھی

اتنی شدت بھی کیا پیاس میں تھی رات اتری ہوئی گلاس میں تھی اس کا میں مستند حوالہ تھا اس کی خوشبو مرے لباس میں تھی کھا گئی وہ تری دعا کا اثر اک رعونت جو التماس میں تھی چاپلوسی منافقت سازش یہ صفت ہر کنیز و داس میں تھی خوف طاری تھا شہر یاروں پر خلقت شہر بھی ہراس میں تھی اس کی ...

مزید پڑھیے

تمہاری تو بس انگڑائی ہوئی تھی

تمہاری تو بس انگڑائی ہوئی تھی ہماری جاں پہ بن آئی ہوئی تھی نظر کے وار سے بچنا تھا مشکل مصیبت گھیر کر لائی ہوئی تھی غزل پر میں غزل کہنے لگا تھا طبیعت موج میں آئی ہوئی تھی وہ خود ملنے چلا آیا تھا جس نے نہ ملنے کی قسم کھائی ہوئی تھی بچھڑ کر کس طرح ملنا ہے ہم نے اسے یہ بات سمجھائی ...

مزید پڑھیے

تمہاری تو بس انگڑائی ہوئی تھی

تمہاری تو بس انگڑائی ہوئی تھی ہماری جاں پہ بن آئی ہوئی تھی نظر کے وار سے بچنا تھا مشکل مصیبت گھیر کر لائی ہوئی تھی غزل پر میں غزل کہنے لگا تھا طبیعت موج میں آئی ہوئی تھی وہ خود ملنے چلا آیا تھا جس نے نہ ملنے کی قسم کھائی ہوئی تھی بچھڑ کر کس طرح ملنا ہے ہم نے اسے یہ بات سمجھائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2221 سے 6203