قومی زبان

اے دل سماعتوں پہ ستم کی دہائی دے

اے دل سماعتوں پہ ستم کی دہائی دے اس بیکراں سکوت میں کچھ تو سنائی دے یہ وصف بھی کمال جنوں آشنائی دے ہر آئینے میں اک وہی صورت دکھائی دے میں بھی تو رنگ و بو کا تماشا کروں کبھی قدرت مرے چمن کو بھی جلوہ نمائی دے دل کی بصارتوں کا یہ اعجاز ہے کہ میں آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ دکھائی ...

مزید پڑھیے

پہلے اپنی ہار خود تسلیم کرنی ہے ہمیں

پہلے اپنی ہار خود تسلیم کرنی ہے ہمیں بعد از اب آپ کی تعظیم کرنی ہے ہمیں آشنائے رنج و غم کرنے سے پہلے سوچ لیں کل یہی میراث پھر تقسیم کرنی ہے ہمیں عشق کی قسمت میں گر آہ و فغاں ہی ہے تو پھر یہ عبارت عشق کی ترمیم کرنی ہے ہمیں بعد میں کچھ عاشقی کے باب پر سوچیں گے ہم پہلے تو حاصل ابھی ...

مزید پڑھیے

لوٹ آئے وہ یا خدا پھر سے

لوٹ آئے وہ یا خدا پھر سے میں نے مانگی ہے یہ دعا پھر سے ٹوٹ کر میں بکھر بھی سکتی ہوں دیکھ مجھ کو نہ آزما پھر سے ہر قدم پہ سنبھل کے چلتی ہوں ہو نہ جائے کوئی خطا پھر سے ریت مٹھی میں لے کے بیٹھی ہوں دیکھ بدلے گا زاویہ پھر سے بات اہل وفا کی نکلی تھی آپ کا ذکر آ گیا پھر سے اپنی چاہت پہ ...

مزید پڑھیے

مت پوچھ مسیحا کہ میں کیا ڈھونڈ رہی ہوں

مت پوچھ مسیحا کہ میں کیا ڈھونڈ رہی ہوں اک درد مسلسل کی دوا ڈھونڈ رہی ہوں بے ساختہ جو کھول دے اس دل کے دریچے مانوس سی وہ ایک سدا ڈھونڈ رہی ہوں سوئے ہوئے دل کے جو احساس جگا دے اقبال کا وہ بانگ درا ڈھونڈ رہی ہوں اے جان تمنا ترے دامن سے لپٹ کر بہتے ہوئے اشکوں کا صلہ ڈھونڈ رہی ہوں کٹ ...

مزید پڑھیے

ہر دم روٹھے رہتے ہو

ہر دم روٹھے رہتے ہو تم بھی قسمت جیسے ہو ہنس کر بولی زندہ ہوں جب جب پوچھا کیسے ہو تم نے مجھ کو یاد کیا سچ مچ کتنے جھوٹے ہو دونوں کا دل ٹوٹ گیا اب کیوں جھگڑا کرتے ہو کیا وہ مجھ سے اچھی ہے جس کی خاطر بدلے ہو میں بھی خوش ہوں تم بھی خوش میں جھوٹی تم جھوٹے ہو جیسا دنیا کہتی ہے اچھا ...

مزید پڑھیے

پہلے تو چاک زخم جگر دیکھتے رہے

پہلے تو چاک زخم جگر دیکھتے رہے پھر دیکھنے والوں کی نظر دیکھتے رہے تھم نے کہاں دیا تھا ہمیں خواہشات نے رک رک کے بازوؤں کا ہنر دیکھتے رہے لب پر کھلے ہوئے تھے تبسم کے پھول پر جو خاک نظر تھے وہ شرر دیکھتے رہے تم نے تو زندگی کا سفر ختم کر دیا ہم تھے کہ تیری راہ گزر دیکھتے رہے پہلے ...

مزید پڑھیے

جس طرح ہاتھ کی چوڑی کا کھنکنا طے ہے

جس طرح ہاتھ کی چوڑی کا کھنکنا طے ہے ٹھیک ویسے ہی مرے دل کا دھڑکنا طے ہے لوٹ آئے ہیں تجھے غیر کی قسمت کر کے آج کی رات تو آنکھوں کا چھلکنا طے ہے کیفیت دل کی اگر تو نے دکھائی مجھ کو آئینے پھر تو مرا تجھ پہ بھڑکنا طے ہے میں نے الفاظ نہیں درد پرو رکھے ہیں یہ غزل سن کے مری جان سسکنا طے ...

مزید پڑھیے

کس حال میں رہتی ہوں کسی طور سے سن لے

کس حال میں رہتی ہوں کسی طور سے سن لے للہ کسی اور کسی اور سے سن لے پتھر کے بھی کانوں سے لہو بہنے لگے گا روداد غم عشق اگر غور سے سن لے اک بار نہیں ایسا کئی بار ہوا ہے دھیمے سے اگر نام لوں وہ زور سے سن لے جو دل پہ گزرتی ہے کسی سے نہ کہوں گی سننا ہے جسے جائے وہ چت چور سے سن لے لگتی ہیں ...

مزید پڑھیے

عین ممکن ہے مری بات ذرا سی نکلے

عین ممکن ہے مری بات ذرا سی نکلے کوئی تصویر مرے دل سے تمہاری نکلے آج آنگن میں ترے ہجر کا سورج نکلا آج ممکن ہے مرے زخم سے کرچی نکلے اس نے اس شرط پہ رونے کی اجازت دی ہے آہ نکلے نہ لبوں سے کوئی سسکی نکلے جاں کنی وہ کہ فرشتے بھی پناہیں مانگے آپ آئیں تو مری آخری ہچکی نکلے ایسے نکلا ہے ...

مزید پڑھیے

ابر چھائے گا کبھی دھوپ بکھر جائے گی

ابر چھائے گا کبھی دھوپ بکھر جائے گی زندگی ہے تو بہرحال گزر جائے گی ہم جو ہر کام کے انجام پہ ڈالیں گے نظر روح غنچوں کے تبسم سے بھی ڈر جائے گی فکر کی شمع کرو گے جو شب غم روشن روشنی تہہ میں اندھیرے کے اتر جائے گی زندگی دہر میں سونے کی طرح ہے اپنی آتش غم میں تپے گی تو نکھر جائے گی ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2161 سے 6203