عشق کو خون جگر کی ہے طلب کہتے ہیں
عشق کو خون جگر کی ہے طلب کہتے ہیں زخم کھانے کو وفاؤں کا ادب کہتے ہیں حسن کی دھوپ میں نکھرا ہوا پھولوں سا بدن دل کے لٹ جانے کا اس کو ہی سبب کہتے ہیں خاک ملتا ہے فلک آ کے مرے قدموں کی خاکساری کو بلندی کا لقب کہتے ہیں وہ بھی لہرا کے ہر اک درد سنا کرتی ہے قید کا واقعہ زنجیر سے جب کہتے ...