قومی زبان

عشق کو خون جگر کی ہے طلب کہتے ہیں

عشق کو خون جگر کی ہے طلب کہتے ہیں زخم کھانے کو وفاؤں کا ادب کہتے ہیں حسن کی دھوپ میں نکھرا ہوا پھولوں سا بدن دل کے لٹ جانے کا اس کو ہی سبب کہتے ہیں خاک ملتا ہے فلک آ کے مرے قدموں کی خاکساری کو بلندی کا لقب کہتے ہیں وہ بھی لہرا کے ہر اک درد سنا کرتی ہے قید کا واقعہ زنجیر سے جب کہتے ...

مزید پڑھیے

بدن کی موج میں انگڑائیاں الجھ جائیں

بدن کی موج میں انگڑائیاں الجھ جائیں طلسم ایسا کہ بینائیاں الجھ جائیں جو تیرے پاؤں کی بکھری ہو خاک راہوں میں وہاں سے گزریں تو پرچھائیاں الجھ جائیں کھلی ہو زلف تو سر پر دوپٹا رکھ لینا نہ ایسا ہو کہیں پروائیاں الجھ جائیں زبان عشق جو کھولیں کہیں پہ سناٹے بڑے بڑوں کی بھی دانائیاں ...

مزید پڑھیے

سو چکی ہے جو راز رہنے دو

سو چکی ہے جو راز رہنے دو تم جتاؤ گے پیار رہنے دو یہ ندامت تو اک دکھاوا ہے آپ اور شرمسار رہنے دو جان بستی ہے آپ کی مجھ میں جھوٹ اتنا تو یار رہنے دو تم کو پھولوں پہ نیند آتی ہے تم سجاؤ گے دار رہنے دو کیا مری جان لے کے مانو گے کچھ تو جاں پہ ادھار رہنے دو تم نے حاصل تو کر لیا مجھ ...

مزید پڑھیے

ہم مبتلائے درد ہیں انکار بھی نہیں

ہم مبتلائے درد ہیں انکار بھی نہیں لیکن کسی پہ تہمت آزار بھی نہیں ہم چاہتے ہیں آپ کو انکار بھی نہیں لیکن لبوں پہ جرأت اظہار بھی نہیں آتی تو ہیں لبوں پہ مرے سسکیاں مگر آنکھوں میں آنسوؤں کے گنہ گار بھی نہیں دل چاہتا ہے غم کے خزانے کو بیچ دوں لیکن مرے نصیب کا بازار بھی نہیں بے شک ...

مزید پڑھیے

نظروں سے نوچ ڈالی سب نے قبا گلوں کی

نظروں سے نوچ ڈالی سب نے قبا گلوں کی لاشیں پڑی ہوئی گلشن میں پتیوں کی رسی پہ چل رہی ہے ننھی سی ایک گڑیا مجبوریاں ہیں شاید درپیش روٹیوں کی ہر کوئی چاہتا ہے گھر گھر میں چاند اترے چاہت نہیں کسی کو آنگن میں تتلیوں کی عالم پناہ کا اب فرمان آ گیا ہے آواز تک نہ آئے محلوں میں مفلسوں ...

مزید پڑھیے

غیر ممکن ہے کہ غفلت کوئی صیاد کرے

غیر ممکن ہے کہ غفلت کوئی صیاد کرے کون ہوگا جو مجھے قید سے آزاد کرے خوف ایسا کہ کہیں پھر نہ بھلا دے مجھ کو سوچتی ہوں کہ کہیں پھر نہ مجھے یاد کرے ضبط اتنا کہ میں دلہن بھی سجا سکتی ہوں شرط اتنی کہ محبت سے وہ ارشاد کرے وہ ہر اک بات سے چاہے تو مکر سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ ہر بات پہ ہی ...

مزید پڑھیے

ہر ایک لمحہ طبیعت پہ بار ہے، کیا ہے

ہر ایک لمحہ طبیعت پہ بار ہے، کیا ہے تمہارا غم کہ غم روزگار ہے، کیا ہے وہ ہم پہ آج بہت جلوہ بار ہے کیا ہے اب اس ادا میں عداوت ہے، پیار ہے، کیا ہے ستم تو یہ ہے کہ اس عہد جبر میں بھی یہاں ملول ہے نہ کوئی بے قرار ہے، کیا ہے ہزار رنگ بد اماں سہی مگر دنیا بس ایک سلسلۂ اعتبار ہے، کیا ...

مزید پڑھیے

اے موج صبا سوز مجسم اسے کہنا

اے موج صبا سوز مجسم اسے کہنا ممکن ہے وہ پوچھے مرا عالم اسے کہنا چاہا مرے حالات نے پیہم اسے کہنا لیکن نہ ہوئی پیار کی لو کم اسے کہنا اک ہم ہی نہیں شاکیٔ عالم اسے کہنا اب اہل طرب کو بھی ہے یہ غم اسے کہنا شاید کبھی پڑ جائے کسی طور ضرورت ملتے ہیں سر راہ گزر ہم اسے کہنا تو کس لیے ...

مزید پڑھیے

غبار راہ کے مانند رہ گزار میں ہیں

غبار راہ کے مانند رہ گزار میں ہیں ہمارا کیا ہے بھلا ہم بھی کس شمار میں ہیں اگر وہ غیر کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں تو کیا ہم اپنے آپ بھی کب اپنے اختیار میں ہیں ہمارا عالم حسرت بھی ہے عجیب کہ ہم گزر گئے ہیں جو دن ان کے انتظار میں ہیں زمانہ اپنی حدوں سے نکل کے پھیل گیا اور ایک ہم کہ ...

مزید پڑھیے

مہر بہ لب ہے کس لیے، کس لیے بولتا نہیں

مہر بہ لب ہے کس لیے، کس لیے بولتا نہیں اے دل بے طلب! بتا کیا کوئی مدعا نہیں اہل جنوں کو اب کے بھی اذن جنوں ملا نہیں اب کے برس بھی باغ میں پھول کوئی کھلا نہیں اپنا قصور ہے تو یہ، اور کوئی خطا نہیں ہم نے فقیہ شہر کو مانا کبھی خدا نہیں یہ تو ہوا کہ روشنی اور بھی کچھ بھڑک اٹھی تیز ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2160 سے 6203